Thursday, September 11, 2014

NARATIVE OF HATE AND JINNAH'S PAKISTAN


اللہ۔۔۔۔۔۔۔پاکستان

جنگ اچھائی اور برائی میں ہوتی تومیرے جیسا برے سے برے حالات میں بھی پرامید رہنے والایہ گمان رکھنے میں حق بجانب تھا کہ کبھی نہ کبھی اچھائی کی جیت ہوہی جائے گی۔جنگ اگرنیکی اور بدی میں ہوتی تو نیکی کے غالب آنے کی توقع بدرجہ اتم موجود تھی۔جنگ اگر امن اور بد امنی میں ہوتی تو امن کی جیت کی توقع کی جاسکتی تھی ۔جنگ اگرمحبت اور نفرت میں ہوتی تو محبت کے میدان مارنے کے امکانات ہرحال میں روشن دیکھے جاسکتے تھے لیکن کیا کریں یہاں تو جنگ ہی نفرتوں کے درمیان ہے۔اچھے سے اچھا نتیجہ بھی نکلے گا تو نتیجہ نفرت ہی ہوگا یا کم یا زیادہ نفرت ہوسکتی ہے ۔نفرت تو بحرحال نفرت ہی ہے اچھی تو ہونہیں سکتی۔یہاں صرف نفرتوں کے بیج بوئے اور نفرتوں کا پھل کاٹ کر اسے جیت کانام دے لیاجاتاہے،مختلف تاولیں کرکے خود کو اور اس نفرت کی جنگ میں ساتھ دینے والوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن اگر وہی جنگ دوسرا جیت لے تواس سے بڑا معرکہ بپا کرنے کی تدبیریں
کی جاتی ہیں۔
پاکستان میں اسلامی معاشرہ قائم ہے،یہ ملک اسلام کے نام پر بناہے،اسلام کے لیے بنا ہے اسلام کا قلعہ ہے یہ ۔ایسے نعرے صبح شام گونجتے ہیں۔قائد اعظم اس ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ہاں قائد اعظم اس ملک کو فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہوں گے اسی لیے ان کو ایسے مرنے دیاگیا کہ ان کی ایمبولیس پٹرول نہ ہونے پر بروقت اسپتال ہی نہ پہنچ سکی۔اور یہاں انہوں نے آخری دنوں میں قیام کیا اس کو ایسے جلایاگیا کہ اس راکھ میں نفرتوں کے الاو جلتے دیکھے جاسکتے تھے۔جس قائد نے یہ معاشرہ بنانے کا جرم کیا اس کی ایک ایک نشانی کو مٹانے کےلیے پوری رات محنت کی گئی،اور تواور ان مناظر کو پوری طرح فلمایا اور ریلیز کیاگیا کہ سب لوگ دیکھ لیں اسلامی معاشرے کاخواب ایسے شرمندہ تعبیر کیاجاتاہے۔

اسلام کی تونہیں کہ آفاقی دین ہے اور اللہ تعالی کے نزدیک پسندیدہ بھی،  لیکن مسلمانوں کی تاریخ تو ایسی ہی ہے،نفرتوں سے بھرپور،محلاتی سازشوں سے اٹی ہوئی،قدم قدم پر دھوکہ دہی اور نفرتوں کی عمارتیں بنی پڑی ہیں۔سلطنت بنو امیہ کاذکر ہو یا برصغیر کے مغلوں کی بادشاہت،شہنشاہوں کے سرشہنشاہوں اور شہزادے شہزادوں کے ہاتھوں قتل ہوتے رہے۔عدم برداشت اور سب کچھ بڑھ کر چھین لینے کی روش نے ہمیں کہیں کانہیں چھوڑا۔ہماری پستی کایہ عروج کہ جب بھی کسی اچھائی کی مثال دیناہوتوچودہ سو سال کی تاریخ چھوٹی پرجاتی ہے اور مغربی معاشرے ہمارے لیے مشعل راہ بنے نظر آتے ہیں۔

عدم برداشت نے اس ملک پاکستان کی بنیادیں اس قدرہلاکررکھ دی ہیں کہ ہمیں دوسرے مسلک اور نظریات سے اختلاف کرنے والا شخص زہر لگتاہے۔ہم عجب مخلوق بن گئے ہیں کہ جو چیز اللہ نے بات کرنے کےلیے عطا کی ہے اس کا استعمال کرنے کے ہی روادار نہیں ہوتے ہم زبان کے بجائے ہاتھ سے بات کرنے میں یدطولیٰ حاصل کرچکے اور ہاتھ سے بھی آگے بندوق کادھانا بولتاہے۔کوئی اس بات کا عزم لے کر سوتاہے کہ کل جو شیعہ ملے گااس کو قتل کرکے صحابہ کرام کے دفاع کا حق اداکردوں گا اور کوئی اس تاک میں رہتا ہےکہ معاذاللہ حضرت علی کو پہلا خلیفہ نہ قبول کرنے والے کو زندہ چھوڑدیا تویوم محشر کہیں کافروں سے نہ اٹھایاجاوں۔کل شمس الرحمان معاویہ قتل ہوتاہے تو آج ناصر عباس پر زندگی تنگ ہونا ضروری ہے۔صبح مولانا علی اکبر کمیلی کاجنازہ اٹھتا ہے تو شام کو مولانا مسعود کی زندگی کا چراغ گل کرنا فرض بن جاتاہے۔کیا یہ سب کچھ عدم برداشت کے علاوہ بھی کچھ ہے؟

کیا یہ بھی عدم برداشت ہی نہیں کہ عمران خان صاحب  ایک کنٹینر چڑھ کر ہر روز سچ جھوٹ بولتے رہے کہ انہیں کسی اور کے ہاتھ میں طاقت گواراہی نہیں؟

دوسری طرف ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب ایک کنٹینر میں بند رہے۔جس کنٹینر میں چار چار ٹی وی نصب تھے کہ تمام چینلز کی مانیٹرنگ بھی کرنی ہے، یہ بھی جاننا ہے کہ کون کون کیا کہہ رہا ہے اگر کوئی یہ کہے کہ ڈاکٹرصاحب عالی شان کنٹینر میں بیٹھے ہیں تو اس کو جواب یہ دیناہے کہ کون کہتاہے کہ یہ عالی شان ہے۔یہ تو ایک درویش کی کٹیاہے۔ڈاکٹر صاحب جن درویشوں کے قصے آپ نے ہمیں سنائے ہیں ان درویشوں کو تو شہروں سے وحشت تھی وہ انسانوں سے دور بھاگتے اور جنگلوں میں خوش رہتے تھے آپ کیسے درویش ہیں کہ ایک کے بجائے دوملکوں کی شہریت کی ضرورت پڑگئی؟

جس قائد کو اس  کی قوم نے مطلب نکل جانے پر چلتا کیا وہ کیساپاکستان چاہتے
تھے کہ جب آپ زیارت ریزیڈنسی میں قیام پذیر تھے توصحت اتنی خراب ہوئی کہ آپ نے کھانا پینا انتہائی کم کردیا،ڈاکٹر نے محترمہ فاطمہ جناح کومشورہ دیا کہ قائد کوکھانے کی طرف راغب کرنے کےلیے ان کا پسندیدہ کھانا بنایاجائے،محترمہ فاطمہ جناح نے بتایاکہ بمبئی میں ایک باورچی تھا جس کے ہاتھ کاکھانا قائد بہت شوق سے کھاتے تھے وہ باورچی اب لائلپور(موجودہ فیصل آباد) میں ہے۔وہ اگر آجائے تو مسئلہ حل ہوسکتاہے۔انتظامیہ کو حکم ہوا اوپر سے نیچے تک مشینری حرکت میں آئی اور باورچی زیارت پہنچادیاگیا،باورچی نے کھاناپکایا جوقائد کو پسند آیا پوچھاکس نے پکایامحترمہ فاطمہ جناح نے فرمایا آپ کے بمبئی والے خانساماں نے،پوچھا وہ یہاں کیسے پہنچا؟توانہیں سارا قصہ سنایاگیا۔یہ سب سن کر قائد سخت ناراض ہوئےاورفرمایاکہ میری ذات کےلیے سرکاری ذرائع اور مشینری کیوں استعمال کی گئی،اس باورچی کا یہاں آنے تک کا سارا خرچہ ان کی جیب سے اداکیاجائے اور ان کی ناراضی ان تک پہنچا دی جائے جنہوں نے سرکاری خرچ سے یہ کام کیا۔

آخری ایام میں آپ کی تیمارداری کےلیے محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ ایک نرس کو متعین کردیاگیا۔ایک دن نرس نے آپ کابخار چیک کیا تو قائد نے نرس سے پوچھا کہ کتنا بخار ہے ۔نرس نے کہا کہ ڈاکٹر کی اجازت کے بغیر وہ نہیں بتاسکتی۔قائد اعظم دل ہی دل میں خوش ہوئے کہ اس نرس نے گورنرجنرل پاکستان کے سامنے میں بھی قانون کی پیروی کی ہے۔

11ستمبر کو جب ماری پور کے ہوائی اڈے سے آپ کو فوجی ایمبولینس کے ذریعے گورنرجنرل ہاوس لایاجارہاتھا تو صرف چار پانچ کلومیٹر بعد ایمبولیس بند ہوگئی اور فاطمہ جناح کو بتایاگیا کہ پٹرول ختم ہوگیا ہے دوسری ایمبولیس آئے گی توپہنچاجاسکے گا۔دوسری ایمبولینس ڈیڑھ گھنٹے بعد آئی اور قائد کو ان کی رہائشگاہ پہنچایاگیا۔جب آپ وہاں پہنچے توساتھ آئے ڈاکٹر آرام کرنے ہوٹل چلے گئے۔9بجے شب محترمہ فاطمہ جناح نے ڈاکٹروں کو فون پر اطلاع دی کمزوری بہت ہوگئی ہے بے قراری میں اضافہ ہوگیا آپ فوری چلے آئیں۔قائد اعظم کے یہ آخری لمحات تھے ڈاکٹر آگئے کئی ٹیکے لگائے گئے لیکن آپ جانبر نہ ہوئے۔چند منٹ بعد دل ڈوبنے لگااورسانس رکنے لگی بے ہوشی کے عالم میں آپ کےمنہ سے نکلا۔۔

اللہ۔۔۔۔۔پاکستان

Tuesday, September 2, 2014

FROM TAHRIR SQUARE TO AZADI SQUARE


تحریراسکوائرسے آزادی اسکوائرتک

ہماری جملہ معاشرتی بیماریوں میں سے ایک چھوت کی طرح کی بیماری یہ ہے ہم کسی بھی ٹوٹل پیکج سے صرف اپنی مرضی اور مفادکی چیز لیتے اور اسی کوبیان کرتے ہیں۔افتخار چودھری مشرف کے سامنے ڈٹ جائے تو وہ ہمارا ہیرو اور اگر عدلیہ کوشرمناک کہنے پر وہی افتخار چودھری آپ کو توہین عدالت میں بلالے تو گالیوں اور الزامات کامستحق۔سیشن کورٹ وزیراعظم کےخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے تو عدلیہ آزاداور انصاف کے تقاضے پورے،اسی فیصلے کی بنیاد پرحکمرانوں کو للکاریں توٹھیک۔اگر حکومت اس فیصلے کےخلاف اپیل کرے توہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی چھٹی اورسینئرترین جج کے اس عہدے پر آنے کو مکمل حکومتی سازش اور اپنی پسند کافیصلہ کرانے کےلیے پلاننگ قرار دے کر ہزاروں لوگوں اور ٹی وی پر دیکھنے والے لاکھوں عوام کے سامنے اعلان کردیں کہ اس پلاننگ کے بعد فیصلہ حکومت کے حق میں کردیا جائےگا۔ٹھیک دو دن بعد وہی ہائی کورٹ آپ کے اعلان اور خدشات کے برعکس پھر ایف ائی آر کاہی فیصلہ دے تو زبان گُنگ۔ پولیس اگر آپ کی دی گئی درخواست کو حرف بحرف ایف آر کاحصہ بنادے تو درست لیکن ہائی کورٹ کے فیصلے کو اسی ایف آرکو حصہ بنائے تو دھوکا؟ عدالت لانگ مارچ کو غیرقانونی قراردے تو حکومت کےلیے اس روکنے کاجوازاور اگر وہی عدالت ایف آئی آر کاحکم دے تو عملدرآمد روکنے کےلیے حیلے بہانے۔اسی طرح کی سیکڑوں مثالیں ہمیں اپنی روزہ مرہ زندگی سے مل سکتی ہیں۔

اسی بیماری کےسبب ہمیں تحریراسکوائر بہت اچھا لگتا ہے،جو اٹھتاہے یہی نعرہ لگاتا ہے کہ فلاں جگہ کو تحریر اسکوائربنادوں گا۔۔۔عمران خان صاحب ایک سانس میں دودومرتبہ اسی تحریر اسکوائراور حسنی مبارک کی بات کرتے ہیں ۔نوازشریف ان کی نظر میں حسنی مبارک ہیں اور پاکستان میں مصر کی سی جمہوریت ہے۔خان صاحب کو اس دھرنے اور احتجاج کےلیے قاہرہ ماڈل ہی دیاگیا ہے۔میں نے مصری انقلاب کامطالعہ کیا تو حیرت ہی حیرت نکلی۔عمران خان صاحب صرف  حسنی مبارک کا ذکرکرتے ہیں لیکن انہوں نے یہ کبھی نہیں بتایاکہ اس حسنی مبارک کے خلاف تحریر اسکوائر میں دھرنے کا آخری انجام یہ ہے کہ مصر میں اس وقت فوج کی ہی حکومت ہے۔میرے نزدیل تحریر اسکوائر اور مصر کا انقلاب ایک ناکام جدوجہد کانام ہے۔مصر کے انقلاب سے ایک ڈکٹیٹرسے دوسراڈکٹیٹرحکمران بنا،حسی مبارک گیا اورجنرل فتح السیسی آگیا،آئیے تحریراسکوائر میں چلی تحریک کا جائزہ لیتے ہیں۔اورپھر دیکھتے ہیں کہ خان صاحب اپنی تحریک کواس سے موازنہ کیوں کرتے ہیں۔
تحریر اسکوائرمیں جمع مظاہرین

تیونس کے صدر زین العابدین کا عوام کی جانب سے تختہ الٹے جانے کے بعد عرب سپرنگ (عرب بادشاہتوں اور آمریتوں کے خاتمے کی خود ساختہ تحریک جس کے نتیجے میں لیبیاء تاراج کیاجاچکا،مصر میں خون خرابہ ہوچکا،شام میں خانہ جنگی اور صدر بشارالاسد کی مزاحمت جاری اور عراق میں شیعوں اور مسیحیوں کی نسل کشی کےلیے دولت اسلامیہ (داعش)نامی فتنہ اپنے جوبن پر)مصر کی جانب بڑھی مصری عوام نے تیونس میں اقتدارکے خاتمے کے بعد 30 سال سے حکومت کرنے والے فوجی سربراہ محمد حسنی السید مبارک کے اقتدار کے خاتمے کےلیے تحریک کا آغاز کیا۔اس تحریک کے نتیجے میں مصرکے دارلحکومت قاہرہ میں دھرنا دینے کا فیصلہ کیاگیا۔اس فیصلے کےبعد 20لاکھ لوگ قاہرہ کے مرکز میں تحریر اسکوائرپر جمع ہوئے اور وہاں دھرنا دینے کا اعلان ہوگیا۔تحریر اسکوائر پر دھرنے اور مظاہرے کا آغاز 25 فروری 2011کو کیاگیا۔آغازمیں یہ دھرنا پرامن تھا ۔ اس دھرنے میں زیادہ تعداد قاہرہ کے شہریوں کی تھی ۔فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کےلیے طاقت کا استعمال شروع کیا۔تحریک اسکوائر دیکھتے ہی دیکھتے جنگ کے میدان میں تبدیل ہوا۔اس کے ساتھ ایک اور شہر اسکندریہ میں بھی مظاہرے شروع ہوئے ۔ تحریراسکوائر میں 18 دن گزرے تو846 لوگ جان سے جاچکے تھے،6467لوگ زخمی ہوکر اسپتالوں میں جاپہنچے۔اس تشدد کے نتیجے میں 12ہزارلوگ گرفتار کرلیے گئے۔18ویں دن ملک کے صدر حسنی مبارک نے استعفیٰ دیدیا اور 6ماہ کےلیے اقتدارپر فوج نے قبضہ کرلیا۔

تحریر اسکوائر کی تحریک کے لیے پولیس کے مظالم،ایمرجنسی لاز،الیکشن فراڈ،کرپشن،مہنگائی،بےروزگاری اور کم تنخواہوں کوجوازبنایاگیا۔ان مقاصد کےلیے ۔سول نافرمانی،مظاہرے،سوشل میڈیا کااستعمال اور ہڑتالوں کوہتھیاربنایاگیا۔اس تحریک کے نتائج کےطورپر ملک میں مارشل لاء لگ گیا،حسنی مبارک کی حکومت ختم ہوگئی،آئین معطل کردیاگیا،پارلیمنٹ تحیل کردی گئی،حسنی مبارک کے ٹرائیل کافیصلہ کیاگیا۔

تحریراسکوائرمیں دھرنا دینے والے 20لاکھ مظاہرین ہزار جانیں دینے کےبعد اقتدارپر فوج کاقبضہ کرواکرگھروں کولوٹ گئے۔فوج نے 6ماہ بعد الیکشن کرائے جس کے نتیجے میں ملک میں پہلی مرتبہ سول جمہوری حکومت آئی اور اخوان المسلمون کے محمد مرسی مصر کےصدر بن گئے۔محمد مرسی نے اقتدرسنبھالا تو ساتھ ہی اپوزیشن نے وہی کام شروع کردیا جو 6ماہ پہلے تحریر اسکوائرپر ہواتھا۔تحریراسکوائر ایک بار پھر آباد ہوگیا۔مظاہرے معمول بن گئے۔محمد مرسی نے وہی کیا جو حسنی مبارک نے کیاتھا۔پھر فوج طلب کی گئی،مظاہرین کی فوج سے جھڑپیں شروع ہوئیں ان جھڑپوں میں ایک بار پھر قتل عام ہوااور3 سو لوگ جان سے چلے گئے۔محمد مرسی کی حکومت کےخلاف وہی سول نافرمانی شروع ہوگئی جو انہوں نے حسنی مبارک کےخلاف شروع کی تھی۔اس میں بھی 3705افراد زخمی ہوئے اور 13ہزارسے زائد لوگ گرفتار ہوگئے۔محمد مرسی صرف 9 ماہ بعد ہی قدموں سے اکھاڑدیے گئے۔3جولائی 2013کو ایک بار پھر ملک کامنتخب صدرمحمد مرسی کا تختہ آرمی نے الٹادیا،محمد مرسی گرفتارکرلیے گئے ان کے ساتھ اخوان المسلمون کے ہزاروں کارکن بھی گرفتارکرلیے۔آرمی چیف جنرل عبدالفتح السیسی نے ملک کا آئین معطل کردیا،پارلیمنٹ پھر گھر چلی گئی،ملک میں مارشل لاء لگ گیا۔السیسی نےاپنی نگرانی میں الیکشن کرائےاوراب وہی مصرکے صدرہیں۔یوں 2011 میں تحریر اسکوائر کی تحریک کےآخری نتیجے کےطورپراقتدارایک آمر حسنی مبارک سے دوسرے آمرفتح السیسی کومنتقل ہوگیا۔جمہوریت مرگئی،حقوق کےلیےجانیں قربان کرنےوالوں کے ہاتھ 
کچھ نہ آیا۔

اسلام آباد میں آزادی اسکوائرکامنظر

عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری نے17 دن پرامن دھرنادیا اور جب 18دن پورے ہوئے توشایدانہیں تحریر اسکوائر کے18دن بعد حکومت گرنا یاد آنےلگا۔لیکن اسلام آباد کے آزادی اسکوائرمیں حالات بہت مختلف رہے یہاں حکومت نے فوج کو بالکل استعمال ہی نہیں کیا،جب بھی یہ لوگ آگے بڑھے پولیس کو پیچھے ہٹالیاگیا،لاشیں نہ گرسکیں۔18 دن بعد لاشوں کے حصول کےلیےوزیراعظم کے گھرپر دھاوابولنے کااعلان ہوا،اسپیکر سے آگے بڑھو،قبضہ کروکےاعلانات۔ریڈ لائن عبورکرنے پرپولیس نے آنسو گیس کااستعمال کیا،مظاہرین پیچھے ہٹ کر وہیں آگئے یہاں سے چلے تھے۔تحریر اسکوائر میں 20 لاکھ لوگ بیٹھے تھے یہاں بھی ہدف اتناہی تھا لیکن 20لاکھ کے بجائے 20 ہزارہی جمع کیے جاسکےاس لیے بھی نتیجہ ابھی تک نہیں نکل سکا۔

اگر مصری ماڈل ہی خان صاحب کےپیش نظر ہے، لوازمات بھی ویسے ہی ہیں،مقاصد بھی وہی رکھے گئے ہیں اورطریقہ کار بھی ویساہی اپنایاگیا تو کیا خان صاحب کو اس کا نتیجہ معلوم نہیں ہے؟کیاعمران خان صاحب پاکستان کے حسنی مبارک نوازشریف کو اقتدار سے ہٹاکر یہاں کسی جنرل السیسی کو لانے کاسبب بنناچاہتے ہیں؟اگریہاں بھی نتیجہ تحریراسکوائروالا ہی نکلا تو کیا پھر یہاں کبھی  جمہوریت واپس آسکے گی؟اور تحریک انصاف جیسی پاکستانیوں کی امنگوں کی ترجمان جماعت اور عمران خان جیسا لیڈرصرف استعمال شدہ ٹشوکےطورپر یادرکھاجائےگا؟


Thursday, August 28, 2014

END GAME?


کہانی ختم؟

حکومت نے فوج کے سربراہ سے درخواست کی کہ آپ اس ڈی چوک کی صفائی کرنے میں آگے آئیں۔۔فوج نے ذمہ داری لی اور سب دھرناماسٹر اوقات میں آگئے۔دونوں بھائی اپنے اپنے کنٹینر سے نکلے مظاہرین کوبتایا کہ غلیل والوں نے ذمہ داری لےلی ہے کہ وہ گارنٹی دیں گےکہ انقلاب آئے گا۔کل کیا ہوگا اس پر کل سہی ۔میں آج کی اس پیش رفت پر کچھ لکھنا چاہتاتھا لیکن اس وقت کےلیے جناب قبلہ  وسعت اللہ خان صاحب کا کچھ دن پہلے بی بی سی اردو کی ویب سائیٹ پر شائع  شدہ آرٹیکل  سےبہتر کچھ نہیں لکھا جاسکتا تو اسی کوکافی سمجھتے ہوئے یہاں 
کاپی کرنے کی جسارت کررہاہوں۔



سب لفٹین بن جائیں گے

اصول یہی ہے کہ چوٹی پر پہنچنے کے بعد تھوڑا آرام کیا جاتا ہے اور پھر اترائی کا عمل شروع ہوتا ہے۔ شوق کوئی بھی ہو جب تک پورا نہ ہو تب تک دل میں پھانس رہتی ہے۔ ارمان دل میں ہی رہ جائے تو خلش تا زندگی بے کل رکھتی ہے۔
جمہوریت تو بنی ہی اسی لیے ہے کہ جس کا جو شوق اور خواہش ہو پورا کر لے اور اس کے بعد یکسوئی کے ساتھ کوئی کام کی بات سوچے۔

اور رہی بات دوستوں کی، تو اچھے جمہوری دوستوں کی یہی پہچان ہے کہ جس کا جو دل چاہتا ہے اسے کرنے دیں اور جب وہ کسی خطرے کی جانب ان جانے میں جانے لگے تو سمجھا بجھا کے رخ موڑ دیں اور پھر آزاد چھوڑ دیں مگر اسے آس پاس منڈلاتے خطرات سے بھی آگاہ کرتے رہیں۔ اور جب کوئی تھکا ماندہ ساتھی شوقِ مہم جوئی پورا کر کے ان کہی مدد کے لیے ادھر ادھر دیکھے تو دوستوں کا فرض ہے کہ وہ اس کی جانب ہاتھ دراز کر کے اسے خاموشی سے اوپر کھینچ لیں۔

مدبر کون ہوتا ہے اور وہ اپنے حامیوں کی امیدیں کیسے بڑھاتا ہے اور جب امیدیں پوری نہیں ہوتیں تو اس وقت حامیوں کو ذہنی شکست و ریخت سے کیسے بچاتا ہے۔ اس بارے میں مجھے کچھ نہیں معلوم۔ بس ایک واقعہ سنائے دیتا ہوں۔

جب دوسری عالمی جنگ کے لیے عام بھرتی شروع ہوئی تو بازوئے شمشیر زن پنجاب کے انگریز ڈپٹی کمشنروں نے مراعات یافتہ معززین، چوہدریوں، کلاہ داروں اور نمبرداروں کو اپنے اپنے علاقوں میں زیادہ سے زیادہ جوان بھرتی کرنے کی ذمہ داری سونپی۔

وسطی پنجاب کے کسی گاؤں میں ایک نمبردار نے جنگ اور حالات سے بیزار جوانوں کو جمع کیا اور انھیں خواب دکھایا کہ اس گاؤں سے جو جوان بھی فوج میں بھرتی ہوگا میں وعدہ کرتا ہوں کہ اسے کم ازکم لفٹین کا عہدہ دلواؤں گا۔ چنانچہ تمام نوجوان جوق در جوق نمبردار کی سربراہی میں شہر کی جانب چل پڑے اور ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر جمع ہوگئے۔

ڈپٹی کمشنر نے وفادار نمبردار کو اتنے نوجوان لانے پر شاباشی دیتے ہوئے وعدہ کیا کہ وہ اس کے لیے حکامِ بالا سے بطور انعام دس مربع زمین کی سفارش کرے گا۔ لیکن جب نمبردار نے کہا کہ میں ان نوجوانوں کو بہت مشکل سے اس وعدے پر بھرتی کے لیے راضی کر پایا ہوں کہ سب کو لفٹین بھرتی کیا جائے گا تو ڈپٹی کمشنر صاحب کا منھ اتر گیا۔ کہنے لگا یہ ناممکن ہے۔ لفٹین صرف وہی بھرتی ہوسکتا ہے جو کم ازکم میٹرک پاس ہو۔ میں صرف کچھ اضافی سہولتوں کا تو وعدہ کرسکتا ہوں مگر لفٹین بنوانا میرے اختیار سے باہر ہے۔

نمبردار کے پسینے چھوٹ گئے لیکن کمرے سے باہر نکلتے ہی اس نے ہوا میں مکے کا نشان بنایا اور مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے نوجوانوں سے مخاطب ہوا:

’میرے بچو! خوشخبری یہ ہے کہ کمشنر صاحب نے وعدہ کر لیا ہے کہ آپ سب کو انشااللہ لفٹین بنایا جائے گا۔ مگر اس وقت چونکہ جنگ ہو رہی ہے لہٰذا لفٹینوں کی تربیت کا کام بھی رک گیا ہے۔ جنگ ختم ہوتے ہی جیسے ہی تربیت چالو ہوئی آپ سب کو سب سے پہلے کمیشن دیا جائے گا۔ لیکن میں نے کمشنر صاحب سےمطالبہ کیا کہ جب تک میرے بچے لفٹین نہیں بنتے تب تک وہ تمام چیزیں اور سہولتیں فوراً اور مفت مہیا کی جائیں جو ایک لفٹین کا حق ہیں:
نمبر ایک: مفت وردی، بیلٹ اور ٹوپی

نمبر دو: کم ازکم دو نئے جوڑی جوتے
نمبر تین: راشن اور کراکری
نمبر چار: خیمہ اور بستر
نمبر پانچ: ہر طرح کی مفت ٹرانپسورٹ اور سال میں کم ازکم ایک مہینے کی تنخواہ دار چھٹی
نمبر چھ: مفت بندوق اور دیگر اسلحہ گولیوں سمیت۔

’میرے بچو کمشنر صاحب نے بہت ضد کی کہ میں ان میں سے کچھ مطالبات کم کر لوں لیکن میں بھی اڑ گیا۔ چنانچہ کمشنر صاحب کو ہار ماننا پڑی اور انھوں نے یہ کہتے ہوئے تمام مطالبات منظور کر لیے کہ محمد بخشا تو نے مجھے بہت مشکل میں ڈال دیا لیکن پھر بھی میں تیرے خلوص کو دیکھتے ہوئے تمام مطالبات فوری منظور کرتا ہوں۔‘

نوجوانوں نے نمبردار محمد بخش کو کندھے پر اٹھا لیا اور بھرتی میں نام لکھوانے کے بعد محمد بخش زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے خوشی خوشی گاؤں کی طرف روانہ ہوگئے۔

Tuesday, August 26, 2014

AFZAL KHAN'S ALLEGATIONS



 پیارے افضل۔۔ٹو



خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں پیدا ہوئے محمد افضل خان نے اعلیٰ تعلیم کےلیے ڈیرہ اسماعیل خان کی گومل یونیورسٹی کا رخ کیا اور 1978میں ایم اے صحافت کا امتحان پاس کیا اور 1979میں سرکاری نیوزایجنسی اے پی پی میں اسٹاف رپورٹر کی نوکری کی۔1996تک اے پی پی میں 17سال نوکری کےبعد انہوں نے الیکشن کمیشن میں اپنا باقی کیریئرگزارنے کا فیصلہ لیا اور 1996میں بطور ڈائریکٹر پبلک ریلیشنزالیکشن کمیشن آف پاکستان میں آگئے الیکشن کمیشن میں انہوں نے سرکاری قوانین کے تحت اور بعض اوقات سفارشوں کے سہارے ترقی کے زینے طے کیے اور17سال نوکر ی کے بعد سرکاری طور پر ان کو ان کی عمر عزیز پوری ہونے پران کی خواہش کے خلاف ریٹائرکردیا گیا۔الیکشن کمیشن میں تعیناتی کے دوران ہی وہ ڈیپوٹیشن پر خیبرپختونخوا حکومت میں سیکریٹری انفارمیشن بھی رہے ۔

افضل خان میرٹ کے اس قدر دلدادہ تھے کہ انہوں نے اپنی نوکری کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹی کو بھی خلاف قواعد الیکشن کمیشن میں سینئراسسٹنٹ کی اسامی پر گریڈ15میں بھرتی کرالیاتاکہ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کہیں پاکستانی سرکار ان کے خاندان کی خدمات جلیلہ سے محروم نہ ہوجائے۔ افضل خان صاحب 21ویں گریڈ میں ریٹائر کردیے گئے لیکن ان کو سرکاری گھراپنی جان سے بھی زیادہ عزیزتھا ۔ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ اسی سرکاری گھر میں رہنا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے کامیاب منصوبہ بنایا اس کے لیے انہوں نے اپنی بیٹی کا استعمال کیا ۔گریڈ15میں ہونے کی وجہ سے ان کی بیٹی سرکاری گھر کی حقدار نہیں تھیں تو انہوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت میں گریڈ 16میں ان کو ڈیپوٹیشن پر بھجوانے کی درخواست کی جو ڈیپوٹیشن پر پابندی کےباوجود انہوں نے منظور کرائی اور اب سولہویں گریڈ کے اہلکارکو21ویں گریڈ کا گھر الاٹ ہے اور موصوف افضل خان اسی سرکاری گھر میں رہائش پذیر ہیں۔ بیٹی کی ڈیپوٹیشن کی درخواست آپ نیچے پڑھ سکتے ہیں



افضل خان صاحب کو سرکاری نوکری سے خاص محبت تھی وہ 34سال تک پاکستان کی خدمت کو بہت کم شمارکرتے تھے ۔مئی 2013میں ان کی ریٹارمنٹ کی تاریخ یوں یوں قریب آرہی تھی انہیں نوکری سے دوری بہت ستاتی تھی انہوں نے چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم کو اپنی نوکری میں توسیع کی درخواست دی ۔فخروبھائی نے ان کی یہ درخواست الیکشن کمیشن کے ممبران کو بھجواکررائے طلب کی ۔جسٹس ریاض کیانی جنہوں نے افضل خان کے بقول 90فیصد الیکشن تباہ کیا،نے ان کی اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے سخت ریمارکس لکھے اور ان کی اس درخواست کو خلاف ضابطہ قراردے کر واپس کردیا ۔جس کے بعد پاکستان اس عظیم مجاہد کی خدمات سے محروم ہوگیا۔جسٹس ریاض کیانی کے ریمارکس اس درخواست میں پڑھے جاسکتے ہیں۔



افضل خان کا مولانا فضل الرحمان کی جماعت جےیوآئی ف سے بھی بہت لگاؤ تھا اس لیے الیکشن کمیشن کی نوکری کےدوران انہوں نے 2004میں خیبرپختونخوا میں اپنی خدمات دینے کا فیصلہ کیا۔وہاں اس وقت ایم ایم کی حکومت تھی اور اکرم خان درانی صوبے کے وزیراعلیٰ تھے انہوں نے اس بطل جلیل کو خیبرپختونخوا کا سیکریٹری انفارمیشن لگادیا۔یہاں رہتے ہوئے انہوں نے خوب سرکاری اشتہارات جاری کیے ان اشتہارات میں کمیشن لینے کی دوانکوائریاں ان کے خلاف شروع ہوئیں تو انہوں نے کہاکہ انہیں استثنیٰ حاصل ہے لیکن کرپشن میں استثنیٰ کی ان کی عرضی قبول نہ کی گئی اور افضل خان کے پی کے سے واپس الیکشن کمیشن آگئے اور یہاں اپنی خدمات جاری رکھیں۔

افضل خان صحافت سے وابستہ رہے تھے اس لیے انہیں میڈیا پر خود نمائی کا بہت شوق تھا ۔نگران حکومت میں جب وہ قائم مقام وزیرداخلہ سے الیکشن سکیورٹی پر اجلاس کے بعد میڈیا کے سامنے آئے تو رپورٹر قائم مقام وزیرداخلہ ملک حبیب سے سوال کرتے تو افضل خان ان کو چپ کراکر جواب دینے لگتے اسی کشمکش میں ان کی رپورٹروں سے اچھی خاصی جھڑپ ہوگئی اور بریفنگ ادھوری چھوڑنا پڑی ۔

الیکشن کمیشن کے سابق ایڈشنل سیکریٹری اور اے آروائی پر نشر کیے گئے سپر ہٹ ڈرامہ سیریل پیارے افضل میں کوئی مماثلت نہیں ۔۔۔ہاں صرف اتنا ہوسکتا ہے کہ پیارے افضل میں ڈرامے کا ہیرو ایک مولوی کا بیٹا تھا اور ہمارے افضل ماشاءاللہ خود مولوی ہیں اور ڈرانے والا افضل ایک امیرآدمی کی بیٹی کی محبت میں مبتلا تھا تو ہمارے افضل سرکاری نوکری کی محبت میں گم تھے۔۔۔

آخر میں صرف یہ کہ محمد افضل خان تحریک انصاف سے وابستہ ہیں وہ عمران خان کے ساتھ بیٹھتے ہیں اور ان کے دھرنے میں اپنے خاندان کے ساتھ شریک ہیں تویہ ان کا حق ہے کہ وہ اپنی وابستگی جس کے ساتھ رکھنا چاہیں رکھیں۔ اس بات کی بھی اہمیت نہیں کہ وہ ڈیڑھ سال تک کیوں خاموش رہے ۔میں تو صرف یہ کہتاہوں کہ جب 2013کےالیکشن ہورہے تھے تو وہ الیکشن کمیشن میں بہت ہی اعلیٰ عہدے پر فائزتھے ۔براہ راست سارے معاملات میں ملوث تھے اگر الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے تو پیارے افضل براہ راست خود بھی اس جرم میں ملوث ہیں ۔اگر وہ بہت پاک صاف تھے تو اس وقت الیکشن کی پاکیزگی کا ڈھنڈورا کیوں پیٹ رہے تھے یا کم ازکم وہ اتنے ثبوت ہی جمع کرلیتے کہ آج ان کو یہ کہنے کےساتھ ساتھ کہ الیکشن دونمبر نہیں 100نمبر ہے کم ازکم کوئی ثبوت تو دینے کےلیے ہوتا۔۔ڈرامے کے آخر میں پیارا افضل گینگسٹر بن کر جان سے چلاجاتاہے اور ہمارے افضل بھی بس خوامخوا پتہ نہیں کس کےلیے خود کش بمبار بنے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔


Sunday, August 24, 2014

PTI'S RIGGING ALLEGATIONS AND 4 CONSTITUENCIES


تحریک انصاف کےچار حلقے


یہ تحریر پڑھنے سے پہلے اگر آپ یویوہنی سنگھ کا گانا

چاربوتل واڈکا      کام میرا روزکا

دوتین بار سن لیں تو آپ کو چار حلقوں کا معمہ سمجھنے میں کافی آسانی پیدا ہونے کی امید ہے۔۔۔یہ میرامشورہ ہے حکم نہیں۔۔۔۔لیکن گزارش ہے کہ گانا سننے کےفوری بعد اس آرٹیکل کو پڑھنا شروع کردیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ چاربوتلوں کو چار حلقوں پر ترجیح دیناشروع کردیں اور چار حلقوں کا معاملہ ایک بار پھر کھٹائی میں پڑجائے اور عمران خان کو ایک اور دھرنا دینا پڑے۔
الیکشن 2013میں تحریک انصاف نے پورے ملک میں 70کے قریب حلقوں میں دھاندلی کی تحقیقات کےلیے الیکشن ٹریبیونلز میں درخواستیں دائر کیں ان ستر میں قومی اسمبلی کے چار حلقے بھی شامل ہیں جن کا بہت زیادہ شور ہورہاہے گویا تحریک انصاف کو 70میں سے صرف انہی چار حلقوں پر سب سے زیادہ اعتراض تھا۔ان چار حلقوں میں تین پر مسلم لیگ ن نے کامیابی حاصل کی جبکہ ایک حلقے پر آزاد امیدوار نے تحریک انصاف کے امیدوار جہانگیر ترین کو شکست دی۔ن لیگ کے جیتنے والوں میں دو کامیابی کے بعد وزیر بنے اور ایاز صادق اسپیکر کے منصب پر فائز ہیں۔
ان چار حلقوں میں دوحلقے لاہور میں ہیں ان میں این اے 122ہے جس میں ن لیگ کے ایازصادق نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو ہرایا لاہور کے حلقہ 125میں ن لیگ کے خواجہ سعد رفیق نے تحریک انصاف کے حامد خان کو ہرایا جو عمران خان صاحب کےقریبی رشتہ دار ہیں،تیسرا حلقہ سیالکوٹ کا این اے110ہے یہاں سے خواجہ آصف کا میاب ہوئے جبکہ چوتھا حلقہ این اے 154ہے یہاں سے آزادامیدوار صدیق بلوچ جیتے تھے۔
ان چار حلقوں کا الگ الگ جائزہ لیتے ہیں

این اے122لاہور5

اس حلقے میں تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان صاحب مسلم لیگ ن کے ایازصادق صاحب کے مدمقابل تھے نتائج کےمطابق ایازصادق نے93362 ووٹ لےکر کامیابی حاصل کی ان کے مدمقابل عمران خان نے 84417ووٹ حاصل کیے ۔اس حلقے میں ایاز صادق کے 9ہزارووٹ عمران خان سے زائد ہیں ۔اس حلقے میں 20امیدواروں نے الیکشن لڑا ۔اگر باقی 17امیدواروں کو ڈالے گئے ووٹ ملا کر بھی عمران خان کومل جاتے تو بھی عمران خان اس حلقے سے کامیاب نہ ہوپاتے۔عمران خان نے الیکشن کمیشن کو اس حلقے میں دوبارہ ووٹوں کی گنتی کی درخواست دی الیکشن کمیشن نےمعاملہ ریٹرننگ افسر کو ریرکردیا  اس پر ایازصادق نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا کہ ریٹرننگ افسر کا کردار صرف الیکشن کرانے تک محدود ہے دوبارہ گنتی کےلیے الیکشن ٹریبیونل میں معاملہ جانا چاہیئے اس کیس پر لاہور ہائی کورٹ نے اسٹے دیدیا اور کیس چل رہاہے،عمران خان خود بھی ایک بار ہائی کورٹ میں پیش ہوچکے ہیں۔اور ایک بار الیکشن ٹریبیونل میں بھی پیش ہوگئے ہیں یہاں انہوں نے اس جج (جسٹس کاظم ملک)کی کافی تعریف کی جسے ان کے رشتہ دارحامد خان گالیاں دے چکے ہیں۔

این اے125لاہور8

اس حلقے میں ن لیگ کے سعدرفیق نے ایک لاکھ23ہزارووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مدمقابل تحریک انصاف کے حامد خان نے 83190ووٹ حاصل کیے یوں دونوں میں ووٹوں کا فرق 40ہزار ہے۔اس حلقے کا معاملہ بھی الیکشن ٹریبیونل میں چل رہاہے۔خواجہ سعد رفیق کا کہناہے کہ الیکشن ڈے پر 700میں سے کسی بھی پولنگ اسٹیشن پر پورادن پی ٹی آئی کے کسی پولنگ ایجنٹ نے ایک بھی ووٹ چیلنج کیا نہ کوئی شکایت کی اور 40گھنٹے بعد دھاندلی کا شورمچایا۔۔الیکشن ٹریبیونل میں کیس شروع ہوا تو حامد خان نے انگوٹھوں کی تصدیق کا حکم دینے کی درخواست کی ۔جسٹس کاظم ملک نے کہا کہ پہلے دھاندلی کے شواہد فراہم کریں اگر ضرورت ہوئی تو انگوٹھوں کی تصدیق کا حکم دیاجائے گا۔اس پر حامد خان کے وکلا بھڑک اٹھے اور جسٹس کاظم ملک کو بہت ہی برابھلا کہا ۔جسٹس کاظم نے اس کیس کوسننے سے معذرت کرتے ہوئے جونوٹ لکھا اس میں انہوں نے اس کیس کو اپنی پروفیشنل زندگی کا براترین تجربہ قراردیا اور کہا کہ تحریک انصاف اپنی خواہش کے فیصلے کےلیے ججوں کو گالیاں دینے سے بھی گریز نہیں کررہے ۔اب یہ کیس تحریک انصاف نے فیصل آباد کے ایک ٹریبیونل میں لگوایا ہے یہاں اس کی سنوائی ہورہی ہے ۔۔اس حوالے سے خواجہ سعد رفیق کے مؤقف کےلیے اس لنک کو کلک کریں 


این اے110سیالکوٹ 1

اس حلقے میں ن لیگ کے خواجہ محمد آصف اور تحریک انصاف کے عثمان ڈار مد مقابل تھے نتیجہ ن لیگ کے خواجہ محمد آصف کے حق میں آیا جنہوں نے 92803ووٹ حاصل کیے ۔تحریک انصاف کے عثمان ڈار نے 71525ووٹ لیے دونوں میں ووٹو ں کا فرق 20ہزارکے قریب رہا ۔یہ کیس بھی ٹریبیونل میں گیا یہاں ۔جج کے بلانے پر عثمان ڈار پیش ہی نہیں ہورہے ۔جج نے عثمان ڈار کو کئی بار تنبیہ کی کہ وہ ثبوت پیش کریں لیکن عثمان ڈار کاروباری مصروفیات میں ملک سے باہر رہے اسی پر جج نے تحریک انصاف کے امیدوار پر 30ہزار روپے جرمانہ عائد کیا انہوں نے وہ جرمانہ بھی جمع نہیں کرایا۔

این اے 154لودھراں 1

اس حلقے میں تحریک انصاف مسلم لیگ ن اور آزاد امیدوار صدیق بلوچ میں مقابلہ تھا اور نتیجہ آزاد امیدوار صدیق بلوچ کے حق میں آیا،تحریک انصاف کے امیدوار جہانگیر خان ترین دوسرے نمبر اور مسلم لیگ ن کے امیدوار سید رفیع الدین تیسرے نمبر پر رہے۔یہاں صورتحال دلچسپ رہی صدیق بلوچ نے 86046ووٹ لیے جہانگیر ترین نے 75814اور مسلم لیگ کے رفیع الدین نے 45406ووٹ لیے ۔مسلم لیگ ن کا امیدوار یہاں تیسرے نمبر پر تھا لیکن پی ٹی آئی نے یہاں بھی الزام اسی پر لگایا۔یہ حلقہ بھی ٹریبیونل میں سنا جارہا ہے ۔سپریم کورٹ نے بھی اس حلقے میں ووٹوں کی گنتی کا حکم دیا جس میں نتیجہ تبدیل نہ ہوا۔اس مقدمے میں ملک کے نامور وکیل شریف الدین پیرزادہ کی خدمات جہانگیر ترین نے حاصل کررکھی ہیں۔معاملہ ابھی تک چل رہاہے ۔کچھ ذرائع کا یہ بھی کہناہے کہ جہانگیر ترین نے انگوٹھوں کی تصدیق نہ کرانے کی درخواست بھی کی ہے ۔
اگر پی ٹی آئی کے احتجاج کا مقصد انہی چار حلقوں کی تحقیقات تھی تو اس کامعاملہ تو کسی صورت بھی تحریک انصاف کے حق میں نظر نہیں آرہا اور تاثر یہی ہے کہ معاملہ کی تاخیر تحریک انصاف کے امیدواروں کی وجہ سے ہوئی ہے لیکن اگر خان صاحب نیا پاکستان اپنی شادی کےلیے بنارہے ہیں تو پھر ان حلقوں اور دھاندلیوں کو آپ ذرا خاطر میں نہ لائیں اور چپ کرکے آواز اونچی کریں اور ہنی سنگ کا گانا رپیٹ پہ لگا کر صرف سنتے رہیں۔۔
چاربوتل واڈکا۔۔۔کام میرا روزکا

Wednesday, August 20, 2014

FROM INDIAN AAP TO PAKISTANI PTI


بےصبراعام آدمی 


بھارتی ریاست اترپردیش میں پیدا ہوئے اروند کیجری وال نے1995میں مقابلےکا امتحان پاس کیا اور بھارتی سول سروس جوائن کی۔سن 2000میں کیجری وال نے مزید تعلییم کےلیے تین سال کی چھٹی لی اس عرصے میں ان کوتنخواہ ملتی رہی۔انہوں نے بھارت سرکارسے معاہدہ کیا کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے بعد دوبارہ نوکری جوائن کریں گے اور کم از کم تین سال تک عہدے سے مستعفی نہیں ہوسکیں گے اگر انہوں نے تین سال سے پہلے استعفیٰ دیا تو انہیں چھٹی کے عرصہ میں وصول کی گئی تنخواہ واپس کرنی پڑے گی۔



2003میں کیجری وال کی تعلیم پوری ہوئی تو وہ معاہدے کےمطابق دوبارہ نوکری پر حاضر ہوئے اور دلی میں انکم ٹیکس کے جوائنٹ کمشنر بن گئے۔انہوں نے ڈیڑھ سال تک نوکری کی ۔اس دوران ان کو خیال آیا کہ بھارت میں کرپشن بہت ہے اور وہ اس کرپشن کو روک سکتے ہیں ۔دوستوں نے مشورہ دیا کہ انہیں انا ہزارے کی احتجاجی تحریک کا حصہ بن جاناچاہیئے ۔وہ بھارت سے کرپشن ختم کرنے کےلیے اتنے بے تاب ہوئے کہ ریاست سے کیےعہد کو توڑنے کا سوچنے لگے انہوں نے ریاست کے خرچے پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے عوض مزید 3سال بھارتی سرکارکی نوکری کرنے کا عہد کیا تھا لیکن ڈیڑھ سال بعد ہی ان کے دل میں بھارتی معاشرے سے کرپشن ختم کرنے اور ملک میں انقلاب لانے کاخواب ستانے لگا۔اسی لگن میں کیجریوال نے ریاست سے کیا ہوا معاہدہ توڑ دیا اور قانونی کارروائی سے بچنے کےلیے ڈیڑھ سال کی بغیر تنخواہ چھٹی کی درخواست دے ڈالی ۔اس دوران وہ اناہزارے کے قریبی ساتھی بن گئے اور دھرنوں اور بھوک ہڑتالی کیمپوں میں شریک ہونے لگے۔ ڈیڑھ سال بعد 2006میں جب ان کی بغیر تنخواہ چھٹی پوری ہوئی تو اروند کیجری وال نے سرکاری نوکری سے استعفی دے دیا۔


ریاست نے اروند کیجری وال  کو  معاہدہ یاد دلاتے ہوئے ان سے تنخواہ کی واپسی کا مطالبہ کیا وہ اس مطالبے کو یہ کہہ کرٹالتے رہے کہ انہوں نے 3میں سے ڈیڑھ سال کام کیا اور ڈیرھ سال بغیر تنخواہ کے چھٹی لی ہے اس طرح3سال پورے ہوگئے لیکن بھارت کی ریاست اتنی کمزور نہیں ہے وہاں دیر ہے لیکن اندھیر واقعی نہیں ہے ۔ریاست نے اروند کیجری وال کی یہ دلیل ماننے سے انکار کردیا اور پیسوں کا مطالبہ جاری رکھا ۔یہاں تک کہ 5سال بعد 2011میں اروند کیجری وال کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ انہوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے انہوں نے دوستوں سے ادھار پیسے پکڑ کر ریاست کو واپس کیے اور جان خلاصی کروائی ۔

اروند کیجری وال نے ریاست سے جان چھڑا کر اسی ریاست پرحکمرانی کامنصوبہ بنایا اس مقصد کےلیے اروند کیجری وال نے دسمبر 2012میں عام آدمی پارٹی کے نام سے سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کردیا۔اس سیاسی جماعت کے بننے کے ٹھیک ایک سال بعد دسمبر 2013میں دہلی کے ریاستی الیکشن کا اعلان ہوا تو اروند کیجری وال نے الیکشن لڑے کا اعلان کیا۔دہلی کے عوام نے عام آدمیوں کی اس پارٹی کو اپنا نجات دہندہ مان کر خوب ساتھ دیا ۔مڈل اور لوئر مڈل کلاس کی اس پارٹی نے دہائیوں سے دہلی میں موجود کانگریس سرکارکاتخت ووٹ کے ذریعےالٹ دیا ۔اروند کیجری وال نے تخت دہلی پر براجمان وزیراعلیٰ شیلاڈکشت کو28ہزارووٹوں سے شکست دی ۔مجموعی طور پرعام آدمی پارٹی نے70میں سے 28نشتیں جیت لیں۔اس الیکشن میں بھارتی جنتا پارٹی نے سب سے زیادہ 31نشستیں جیتیں لیکن واضح اکثریت کسی کو نہ ملی ۔کانگریس نے اس الیکشن میں 8نشستوں پر کامیابی سمیٹی۔اروند کیجری وال نے جس پارٹی کے خلاف الیکشن لڑا اسی پارٹی یعنی کانگریس کے ساتھ مل کر دہلی میں حکومت بنائی اور 28دسمبر2013کودہلی کے ساتویں وزیراعلیٰ بن گئے ۔انہوں نے اقتدار میں آنے کے15دن میں کرپشن کے خلاف جان لوک پال بل اسمبلی سے منظور کرانے کااعلان کیا۔

دہلی میں عام لوگوں کی حکومت بننے پر اروند کیجری وال کی واہ واہ شروع ہوئی سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ زیر بحث بھارتی سیاستدان بننے والے کیجری وال نے عام آدمی کےلیے کچھ فیصلے کیے انہوں نے لوگوں کو مفت پانی فراہم کرنے اور بجلی کی قیمت آدھی کرنے کااعلان کیا۔ان اعلانات پر عمل اور مزید اچھے کاموں کے لیے اس عام آدمی کو لمبی اننگز کھیلنے کی ضرورت تھی لیکن ایسا نہ ہوسکا ۔عام آدمی خاص جگہ پہنچ کر اوقات سے باہر چلا گیا اس عام آدمی نے اختیارات کےلیے مرکزی حکومت سے لڑنا شروع کردیا ۔کرپشن کےخلاف جس قانون کی منطور ی کا 15دن میں اعلان کیا تھا اپنی 49دن کی حکومت میں وہ بھی پاس نہ 
ہوسکا۔۔۔۔


اروند کیجری وال نے تین پولیس والوں کےخلاف مرکزی حکومت سے کارروائی کامطالبہ کیا نہ کیے جانے پر وزیراعلیٰ نے احتجاج شروع کردیا۔یہ احتجاج دھرنے کی شکل اختیارکرگیا،کیجریوال وزیراعلیٰ ہاؤس چھوڑکر سڑک پر بستر لےآئے انہوں نے وہیں رہنا  شروع کردیا۔وہ سونے کےلیے بھی گھر نہ جاتے۔اس جذباتی عام آدمی نے حکمت سے کام نہ لیا ایک صوبے کی حکومت ملی اس کو خود شہید کردیا،کرپشن کے خلاف قانون نہ بن سکا،عام لوگوں کو ریلیف نہ ملا۔۔بھارت کا یہ عام آدمی جذباتی اور فرسٹریٹ ثابث ہوا۔صرف49دن بعد اپنی حکومت ختم کرڈالی۔سوچا کوئی بڑا انقلابی کام کیا ہے لوگ احتجاج کریں گے واپس لائیں گے لیکن ایسا کچھ نہ ہوا اپنی مقبولیت کے زعم میں مبتلا یہ عام آدمی بھارت میں اتبا غیر مقبول ہوا کہ اس حکومت کے خاتمے کے صرف 5ماہ بعد ہونے والے عام انتخابات میں بری طرح شکست کھاگیا،دلی کی ریاست جہاں اس کی حکومت تھی وہاں سے ایک بھی سیٹ عام آدمی پارٹی کو نہ مل سکی ،اروند کیجری وال نے نریندر مودی کو چیلنج کیا اس کے مقابلے میں الیکشن پر کھڑا ہوا اور اپنی ضمانت ضبط کروا بیٹھا۔

اس کو بھلے آپ بے وقوفی نہ مانیں لیکن عقلمندی نہیں کہاجاسکتا کہ اپنی ہی حکومت پر خود کش حملہ کیوں؟ اگر وہ صبر کرتے تو مین سٹریم سیاست میں جگہ بناتے،دہلی کے لوگوں کے لیے کام کرکے وہاں اپنا آپ مضبوط کرتے لیکن انہوں نے فراراختیار کیا۔۔


پاکستان میں جب 2012کے شروع میں تحریک انصاف کو عروج ملا تو لوگوں کی توقعات پاکستان کے عام آدمی عمران خان سے لگ گئیں ،عوام نے تیسرے آپشن کے طور پر آزمانے کا فیصلہ کیا ایک صوبے میں حکومت بن گئی ۔۔لیکن صبر ان میں بھی نہیں ہے ۔۔۔سوچا ایک صوبہ نہیں پورے ملک پر حکومت ان کا حق ہے اسی حق کو لینے کےلیے اروند کیجری وال کی طرح سڑک پر ہیں۔۔کیجری وال گھر نہیں جاتے تھے لیکن پاکستان کا عام آدمی بنی گالا چلاجاتاہے۔یہ عام آدمی کانمائندہ بھی بہت بے صبرانظرآرہاہے ۔قومی اسمبلی میں موجود ارکان سے استعفے لےکر جیب میں رکھ چکا ہے۔۔جس صوبے میں حکومت ہے وہاں تحریک عدم اعتماد لائی جاچکی ہے ۔۔۔



کیجری وال اورعمران خان کی ذات میں کوئی اور قدر مشترک ہو یا نہ ہو لیکن بے صبری دونوں میں مشترک ہے۔۔۔جلد بازی نے بھارتی عام آدمی کی ضمانت ضبط کرادی  ۔پاکستان میں بھی اس وقت عام آدمی کو بہت بے صبری ہے وہ عقلمندی،حکمت اور مصلحت کے بجائے پاپولرسیاست کے سرپٹ گھوڑے پر سوار ہے ۔اگر اس عام آدمی نے بھی بھارتی عام آدمی جیسا فیصلہ کردیا تو الیکشن ضمنی ہوں یا چارسال بعد عام الیکشن۔ اس عام آدمی کی ضمانتیں ضبط ہونے سے کوئی روک نہیں سکے گا۔۔اس بے صبری سے بھارت کے بعد پاکستان کا عام آدمی بھی یقینن مایوس ہوگا۔۔۔۔

Sunday, August 17, 2014

IMRAN KHAN AND AZADI MARCH


دوپہرکوروزہ کھولنےکی فرمائش


(عمران خان کے علاوہ باقی تمام پٹھانوں سے معذرت کےساتھ)
ایک مرتبہ ایک پٹھان نے روزہ رکھ لیا،دوپہر کاوقت ہوا تو بھوک اور پیاس سے خان صاحب کا براحال ہوگیا،ہارتھک کرریڈیو آن کیا کہ شاید کچھ وقت گزرجائے ۔ریڈیوپر آپ کی فرمائش پروگرام چل رہاتھا ،خان صاحب نے فون اٹھایا اور پروگرام میں کال کردی۔۔
پروگرام ہوسٹ نے پوچھا ۔۔جی کون اور کہاں سے
خان صاحب نے جواب دیا،پیاس خان پشاور سے۔۔۔۔
جی خان صاحب ۔۔کیا سننا پسند کریں گے۔۔
خان صاحب ۔۔۔او کوچہ جلدی کرو مغرب کی آذان سنادو۔۔۔۔۔۔۔

یہ لطیفہ سن کر نہ جانے کیوں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان صاحب یاد آگئے ،ویسے تو وہ بھی پٹھان ہیں لیکن کل انہوں نے خود کہا کہ وہ فاسٹ باؤلر ہیں اور فاسٹ باؤلر سے صبر نہیں ہوتا۔۔۔۔خان صاحب کے دماغ سے ایک تویہ کرکٹ نہیں نکلتی ۔۔وہ ہر مسئلے کو کرکٹ کامیچ ہی سمجھتے ہیں۔۔جن لوگوں نے خان صاحب کوکرکٹ کھیلتے دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ جب یہ فاسٹ باؤلر باؤلنگ کرتا تھا اور جب وکٹ نہیں ملتی تھی تو فرسٹریشن ان کے چہرے پر نظر آنے لگتی تھی۔۔خان صاحب کا چہرہ غصے سے لال پیلا ہوجاتا۔۔خان صاحب وکٹ لینے کےلیے اس قدر بے تاب ہوجائے کہ لائن لینتھ بھول جاتے پٹائی کراتے اور اسی فرسٹریشن میں قومی ٹیم کا جنازہ نکال لیتے ۔۔۔۔جب بات حد سے گزرنے لگتی تو جاوید میانداد جیسے تحمل مزاج ساتھی ان کو سمجھاتے کہ خان صاحب ضروری نہیں کہ وکٹ آپ کوہی ملے ٹیم میں اور بھی باؤلر ہیں کسی اور کو آزمالیتے ہیں ۔۔لیکن ضدی خان کہتاکہ مجھے ہارنا منظور ہے لیکن میں اس کو آؤٹ کرکے ہی چھوڑوں گا۔۔۔اسی ضدمیں خود آؤٹ ہوکر گراؤنڈ سے باہر بھی چلے جاتے۔۔۔


خان صاحب سے واقعہ ہی صبر نہیں ہوتا ۔۔انہوں نے اسی بے صبری طبیعت کی وجہ سے بنوں میں ایک دن پہلے ہی عید منالی۔۔جب پوری قوم کا روزہ تھا تو خان صاحب بنوں میں بکرے کا گوشت کھارہے تھے۔۔۔

خان صاحب کے بدلتے بیانات پر تو اب ہنسی بھی کم کم ہی آتی ہے ۔۔۔انہوں نے لاہور سے ایک لاکھ موٹر سائیکل سوار نکالنے کا اعلان کیا جو شاہدرہ میں جاتے ہی پٹ گیا۔۔خیر اس پر تو ان کا کوئی اختیار نہیں ہے کہ لوگ اتنے بھی فارغ نہیں ۔۔۔۔

خان صاحب نے کل کے خطاب میں کہا کہ جو سیاسی نہیں ہوتاوہ جانور ہوتا ہے۔۔۔انسان غیر سیاسی نہیں ہوسکتا۔۔غیر سیاسی صرف جانور ہوتے ہیں ۔۔انہوں نے بکریوں ،شیروں اور ہرنیوں کی مثالوں سے کارکنوں کو سمجھایاکہ کون سیا سی ہے اور کون غیر سیاسی ۔۔۔۔ایک دن پہلے زوروشور سے کہہ رہے تھے کہ اس ملک میں غیرسیاسی حکومت بنائی جائے ۔۔خان صاحب بتائیں کس جانور کی حکومت بنادیں پاکستان میں ؟

خان صاحب بنی گالہ سے آتے ہیں اور کہتے ہیں میں آپ کے ساتھ سڑک پر سوجاؤں گا۔۔حکومت کے خاتمے تک یہاں سے واپس نہیں جاؤں گا۔۔خطاب کے بعد ان کو پھر اپنامحل یاد آنے لگتاہے اور اسٹیج سے مطالبے کراتے ہیں کہ انہیں گھریاد آرہاہے جانے دیاجائے ۔۔۔۔۔پچھلی رات کارکنوں نے صاف انکار کردیا تو انہیں علامتی طور پر کنٹینر پر کچھ دیر سونے کی ایکٹنگ کرناپڑی۔۔اٹھے ہی ناشتے میں پیزا کھایا اور ریڈبل پی کر کنٹینر سے اترے اور پھر تین بجے کا کہہ کر بنی گالہ پہنچ گئے۔۔۔

خان صاحب واقعی بے صبرے ہیں کہ وزیر اعظم ہاؤس میں جانے کےلیے مرے جارہے ہیں ۔۔خیبر پختونخوا حکومت لے کر بھی ان کو صبر نہیں آیا۔۔۔ان کے صوبے کے چیف ایگزیکٹو اسلام آباد دھرنے میں گانوں پر ہیجڑوں کی طرح ڈانس میں مصروف ہیں اور پشاور میں 16لوگ بارش کی وجہ سے مرگئے ۔۔۔۔۔آپ ترجیحات ملاحظہ کریں۔۔۔۔




خان صاحب کے اندر کی بات باہر آگئی کہ ان سے اب صبر نہیں ہوتا ۔۔اس بے صبری میں وہ یہ بھی بھول گئے کہ پاکستان میں حکومت پانچ سال کےلیے بنتی ہے ۔۔وہ بے صبری میں سب کچھ بھول کر اقتدار حاصل کرنے کےلیے منہ سے آگ نکال رہے ہیں ۔۔۔

خان صاحب کو وکٹ نہیں مل رہی ہے وہ ایک بار پھر فرسٹریٹ ہیں ۔۔۔۔لائن اور لینتھ بھول چکے ہیں ۔۔مسلسل پٹائی ہورہی ہے ۔۔ان کی ہربال شارٹ بچ ہورہی ہے ۔۔وکٹ سے باہر جاتی بالوں پر چوکے اور چھکے لگ رہے ہیں ۔۔۔۔خان صاحب! ویسے تو آپ کی پارٹی میں کسی کی نہیں چلتی ۔۔لیکن ہم پھر بھی گزارش کریں گے کہ کوئی سمجھدار کھلاڑی کچھ دیر کےلیے خان صاحب کا اسپل تبدیل کرے اور نئے باؤلر کو موقع دے شاید کوئی وکٹ مل جائے۔۔۔۔کہ کوئی بھی ٹیم ہرورلڈ کپ نہیں جیت سکتی ۔۔۔۔ایک آخری بات کہ اگر خان صاحب بہت بے صبرے ہیں تو ہماری پوری قوم کا یہی المیہ ہے کہ ہم سب ہی بے صبرے ہیں ۔۔اگر آج خان صاحب اقتدار میں آبھی آگئے تو کل کوئی دوسرا بے صبرا ہوجائے گا اور یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔۔۔۔

خان صاحب دوپہر کے وقت مغرب کی اذان کی فرمائش نہ کریں ۔۔ٹھنڈے پانی کے چھینٹے ماریں اور صبر کرکے روزہ کھلنے کا انتظار کریں ۔۔۔۔۔