Thursday, August 14, 2014

14th AUGUST...HAPPY INDEPENDENCE DAY


جشن آزادی مبارک

پاکستان آج 68سال کاہوچکاہے۔میری عمر وطن عزیز پاکستان سے آدھی ہے میں نے اپنی زندگی میں آزادی کی 35صبحیں دیکھی ہیں لیکن آج 14اگست جیسی صبح آزادی میں پہلی مرتبہ دیکھ رہاہوں ۔اس سے پہلے آزادی کا جشن منایا جاتاتھا لیکن اس میں کچھ پابندیاں بھی لگتی تھیں یہ الگ بات کہ یہ پابندیاں موٹرسائیکلوں کے سائلنسرزکے راستے ہوا میں تحلیل کردی جاتی تھیں۔گزشتہ سالوں میں آزادی کا جشن منایا جاتا تھا لیکن اس مرتبہ جشن منانے کےلیے آزادی حاصل کرنے کی تگ ودو ہورہی ہے۔

پہلا یوم آزادی ہے جب ہر کسی کو آزادی ۔۔بلکہ مادرپدر آزادی ہے۔اس یوم آزادی پر عمران خان کو آزادی ہے کہ وہ جس شخص کی چاہیں پگڑی اچھالیں۔میڈیا کےکیمرے اور ایئرٹائم ان کے گھر پر ہاتھ باندھے کھڑا ہے وہ خود بادشاہ سلامت کی زندگی گزاریں لیکن وہ بادشاہ صرف نوازشریف کو ہی کہیں گے۔عمران خان کو آزادی ہے کہ وہ جس پر چاہیں دھاندلی کاالزام لگائیں اورہاں ان پر اس الزام کو ثابت نہ کرنے کی بھی مکمل آزادی ہے ۔عمران خان کو یہ بھی آزادی ہے کہ وہ رات ایک بات کہیں اور صبح اس بات سے آزادی سے مکرجائیں ۔۔۔ان کو آزادی ہے کہ وہ افتخار چودھری کی تعریف کریں،جسٹس رمدے کو منصف اعظم قرار دیں ،جسٹس ناصرالملک پر آنکھیں بند کرکے اعتبار کریں لیکن اس کے بعد ان کو گالیاں دینے کی آزادی سے بھی بھرپورلطف اٹھانے پر بھی کوئی پابندی نہیں ۔


خان صاحب فخرالدین جی ابراہیم کی تعریف کرنے میں بھی آزاد ہیں اور ان پر دھاندلی میں ملوث ہونے اور تاریخ کے بدترین الیکشن کرانے کاالزام لگانے میں بھی آزاد ہیں ۔عمران خان صاحب کو یہ بھی آزادی ہے کہ وہ طالبان کو تو پاکستان پر حکومت کرنے کی آزادی دے سکتے ہیں لیکن شریف برادران حکمران ہوں تو ان کو گھر بھیجنے کےلیے جتن کرنے میں بھی آزاد ہیں۔

عمران خان دوسروں کو ڈکٹیٹر کہنے میں آزاد ہیں لیکن بدقسمتی سے وہ خود ڈکٹیٹربننے میں بھی آزاد ہی ہیں۔ان کی اسی طرح کی شخصیت اور ملک میں اسی طرح کی حکومت کی خواہش ان کی اپنی پارٹی کے صدر جاوید ہاشمی کو ان سے دور لےگئی اور رعونت میں ایسے آزادکہ کہا کہ جاوید ہاشمی نے جو حرکت کی ہے اس سے تحریک انصاف کو کوئی فرق نہیں پڑے گا بلکہ ہاشمی کو ہی نقصان ہوگا۔۔ہاشمی کو بادشاہ سلامت کا یہی پیغام ملا تو ان کی عقل ٹھکانے آگئی اور کہا کہ خان صاحب نے وضاحت کردی ہے میں اب مان گیاہوں۔

اچھا خان صاحب اپنے بیانات کی حالات و واقعات کے مطابق تشریح کرنے میں بھی آزاد ہیں وہ ٹیکنوکریٹ حکومت کا مطالبہ کریں اور جب یہ مطالبہ ان کے گلے کا ہاربننے لگے تو کہیں کہ ٹیکنوکریٹ سے مراد غیر سیاسی حکومت ہوتی ہے اور ہاشمی صاحب ان سے اتفاق کرنے میں بھی آزاد ہونے کے پابند۔


اس یوم آزادی پر ڈاکٹر طاہرالقادری کو بھی آزادی ہے کہ وہ ملک میں انقلاب لائیں،نظام تہہ وبالا کریں،اپنے کارکنوں کو لاہور میں جمع کریں ۔ان کا وہاں دس دن تک وہاں رکھیں،کھانا اور پانی نہ ملنے پر انسانی المیے کا باعث بنیں۔۔اپنے کارکنوں کو کہیں کہ پولیس والوں کواٹھاکر ساتھ لاہور لے آئیں ۔ کارکنوں کو کہیں کہ جو واپس جائے اس کو شہید کردیں۔ اس کے بعد دباؤ میں آکر اپنے تمام بیانات کی تردید کرنے میں بھی ڈاکٹر صاحب  آزاد ہیں۔چودھری براداران اور شیخ رشید شامل واجا ہونے میں مکمل آزاد ہیں۔

اس یوم آزادی پر حکومت شہریوں کو مکمل پابند کرنے میں آزاد ہے ۔لاہوریوں کو کنٹینروں میں قید کرنے میں آزاد ہے،شہریوں کے موبائل فون بند کرنے میں مکمل آزاد ہے۔لانگ مارچ روکنے کے عدالتی  حکم کی پابند اورکنٹینر ہٹانے کا حکم نہ ماننے میں آزاد ہے۔



اس یوم آزادی پر وطن عزیز کی معزز عدالتیں بھی مبہم فیصلے دینے میں آزاد ہیں ایسے فیصلے جس کو دونوں میں سے جو فریق چاہے اپنے مطابق قراردے ۔عدالتیں یہ فیصلہ دینے میں مکمل آزاد ہیں کہ ۔؛؛غیرآئینی لانگ مارچ اور دھرنا نہیں دیاجسکتا؛؛ اس فیصلے کے بعد حکومت کےلیے یہ دھرنا اور مارچ غیرآئینی ہے اور مظاہرین کےلیے یہ لانگ مارچ آئینی ہے ۔کرتے رہیں تشریح اس فیصلے کی ۔۔۔مجھے بھی کل پتہ چلا کہ دھرنے کی دو قسمیں ہوتی ہیں آئینی اور غیر آئینی دھرنا۔۔۔شکریہ آزاد عدلیہ


اور آخر میں اس یوم آزادی پر بھی پاکستان کے آزاد شہری ،بھوک،افلاس،بے روگاری ،ظلم اور جبر کے ہاتھوں مرنے کےلیے مکمل آزاد ہیں۔ایسے تمام پاکستانیوں کو جشن آزادی مبارک۔۔۔۔۔۔۔

Monday, August 11, 2014

DEMISE OF PAKISTANI SOCIETY


انتقال پرملال 

حضرات۔۔! ایک ضروری اعلان سنیئے ۔۔۔نہایت افسوس کے ساتھ اعلان کیاجاتا ہے کہ پاکستانی معاشرے کا گزشتہ رات انتقال ہوگیا ہے ،مرحوم کی عمر چھاسٹھ سال تھی ۔مرحوم کی لاش نفرت تعصب اورذات پات کے ٹکڑوں میں بٹی پاکستان کے ہرگلی کوچے، سڑک اور چوراہے پر بے یارومددگار پڑی ہے ۔مرحوم کا جنازہ آج رات کے اندھیرے میں ادا کیا جائےگا۔اور ہاں مرحوم کے کفن دفن کےخرچ کےلیے چندے کی بھی اپیل ہے۔

پاکستانی معاشرے کو اس کی پیدائش سے ہی مختلف بیماریاں لاحق ہوگئی تھیں۔اس معاشرے کو پیداکرنے والے بابے کو اس کی پرورش اور درست سمت میں چلانے کی تربیت کا موقع ہی نہ مل سکا بلکہ وہ خود بھی اسی معاشرے کی بے حسی کی بھینٹ چڑھ گئے اور معاشرے کی پیدائش کے ایک سال بعد ہی چل بسے تھے۔

پاکستانی معاشرہ چونکہ اپنی پیدائش سے پہلے ہندو معاشرے کے ساتھ پلا بڑاتھا اس لیے اونچ نیچ اور ذات پات اپنے ساتھ ہی پاکستان لےکرآیا تھا۔پاکستان آکر نفرت کی صنعت نے بڑے زوروشور سے ترقی کی ۔دوسروں کو برداشت نہ کرنے کی خصوصیت نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور اس معاشرے کے افراداپنے علاوہ کسی دوسرے کو ترقی کرتے نہ دیکھ سکے ۔دوسروں کاسرکچل کرخود اس کی جگہ لینے کی دوڑ لگ گئی،دوسروں کے سر پر پیر رکھ کر اونچی جگہ پہنچنے کی روش پیدا ہوئی اور جو کسی کے سر تک نہ پہنچ سکا اس نے نیچے سے ٹانگیں کھینچ کر اپنی انا کی تسکین کا سامان کیا۔

مرنے والا معاشرہ خود کو اسلامی  معاشرہ کہلاتاتھا اوربدقسمتی سے اس معاشرے میں دوسروں کو سب سے زیادہ نقصان  بھی اسلام کے ہی نام پر پہنچایاگیا۔اسلام کے نام پر سب سے زیادہ خون بہایاگیا۔مذہب کے نام پر فرقے بندی عروج پر رہی ۔مدارس اور مساجد سے اسلام کی تبلیغ کےبجائے اپنے اپنے مذہب کی ترویج کی جاتی رہی۔ہرکسی نے صرف اپنے فرقے کو ہی خالص اسلام کا درجہ دیا دوسروں کو کافر اور موت کا حقدار قراردے کر قتل کیا جاتارہا۔پوری دنیا میں اسلام کا جھنڈا سربلندکرنے کا بیڑااٹھانے والوں نے مسلمانوں کو ہی سب سے بڑی رکاوٹ قراردے کر خوب قتل وغارت کی۔جہادی تنظیمیں سب سے زیادہ اسی معاشرے میں بنیں ۔

مرحوم معاشرے کی بیماریوں میں ایک بیماری دکھاوا اور ریاکاری بھی تھی جس نے اس کی بنیادوں کو کھوکھلا کردیا تھا۔یہاں تک کہ نیکی کا کام بھی اللہ کی رضا کےلیے کم اور لوگوں کو دکھانے کےلیے زیادہ کیا جاتاتھا۔یہاں رہنے والے لوگ جب حج جیسے مذہبی فریضے پر روانہ ہوتے تو پورے علاقے میں اعلان کرواتے کہ فلاں ابن فلاں حج پر جارہے ہیں آپ ان کو دعاؤں کے ساتھ رخصت کریں اور اپنی دعاؤں کی پرچیاں بھی ان کو دیں تاکہ وہ آپ کی حاجات بھی اللہ کے گھر تک پہنچاسکیں۔بسیں بھر کر لوگ انہیں رخصت  کرنے ایئرپورٹ پر جایاکرتے تھے۔ لوگ دکھاوے کے اتنے شوقین تھے کہ حج سے واپس آکر خود کو حاجی کہلاتے تھے یہاں تک کہ عمرہ کرنے والے بھی حاجی کا سابقہ لگانے میں راحت محسوس کرتے تھے ۔

 اس معاشرے نے ’’رول آف لاء‘‘ کا لفظ ایجاد کرنے والے کو بھی شرمندہ کردیا تھا ۔قانون کی حکمرانی کا اس معاشرے میں کہیں نام ونشان نہ تھا ۔بلکہ قانون کا مذاق اڑانا ،طاقت کے استعمال سے اس کی دھجیاں بکھیرنا اس میں رہنے والوں کا من پسند کام تھا۔جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا عملی نمونہ تھا یہ معاشرہ ۔سب لوگ طاقت کے مراکز کو سلام کرتے تھے ۔اس معاشرے میں فوج کے پاس بندوق تھی  اس کو یہ بندوق دشمن کےخلاف استعمال کےلیے دی گئی تھی اس نے دیکھا کہ بندوق تو بندوق ہے ضروری تھوڑا ہے کہ دشمن کےخلاف ہی استعمال کی جائے کیوں نہ اس کو اسی معاشرے پر حکمرانی کے طور پر استعمال کرکے دیکھاجائے لہٰذا فوج نے 1958میں تجربہ کیاجو کامیاب رہا پھر عوام کی طاقت سے حکمرانی اور بندوق کے زور پر حکمرانی میں خوب جوڑ پڑا جو اس معاشرے کے پوری طرح مرنے تک جاری رہا۔یہاں تک کہ عوام کو بھی اب سمجھ نہیں آرہی تھی کہ سیاسی حکمران اچھے ہوتے ہیں یا فوجی حکمران۔

اس معاشرے  میں سفری سہولیات  تو عوام کو مل ہی نہ سکیں لوگ ٹرانسپورٹ مافیا کے رحم و کرم  پر رہے۔امیروں نے  سفر کی سہولت کےلیے  بڑی بڑی گاڑیاں خرید لیں لیکن گاڑیوں میں بیٹھنے کےباوجود ان کی ذہنیت موٹرسائیکل سوار کی رہی،سڑک استعمال کرنے کی تمیز نہ انہیں آئی اور نہ کسی نے سکھائی کہ قانون کی حکمرانی تو تھی نہیں نہ ہی انہوں نے اس کی پابندی ضروری خیال کی ۔اس معاشرے نے  دوسرے معاشروں کی دیکھا دیکھی ٹریفک قوانین بنالیے اور چوراہوں پر ٹریفک اشارے بھی  لگالیے  لیکن لوگوں کو ان اشاروں کی پابندی کرانے کےلیے ایک پولیس اہلکار کو چالان کرنے کی کتاب لے کر کھڑا کرنا پڑا۔اس کا علاج بھی امیروں نے کرلیا اور ٹریفک کی خلاف ورزیوں پر رشوت کا خون ان پولیس اہلکاروں کے منہ کو لگادیا ۔۔پھر سب چلنا شروع ہوگیا۔

اس معاشرے کو شفقت،پیار،محبت،رواداری،اخلاق  نرم خوئی اور اسی طرح کی دوسری اچھی صفات جن کا مسلمان ہونے کے ناطے بھی ان میں ہونا ضروری تھا ،اچھی خاصی چڑ تھی بلکہ ان تمام صفات سے انہوں نے ٹھیک ٹھاک دشمنی پال رکھی تھی۔ پھل کھانے کےلیے ہمہ وقت تیار رہتے لیکن محنت کرنے سے جی چراتے تھے،یہاں رہنے والوں کوصفائی ستھرائی سے بھی اچھا خاصا بیرتھا۔حکومت نے شہروں میں صفائی بہترکرنے کےلیے نظام وضع کیا اور کوڑا ڈالنے کےلیے گلیوں میں بڑے بڑے ڈسٹ بن رکھوادیے ۔یہاں کے باسی  اپنے گھروں سے کوڑا اکٹھا کرتے ،اٹھاتے اور ڈسٹ بن کے اندر ڈالنے کے بجائے اس کے قریب باہر ہی پھینک دیتے یوں رکھی گئی ڈسٹ بن خالی رہتی اور ارد گرد کا پورا علاقہ گند سے بھرجاتا۔۔صفائی والے آتے تو پہلے سارا کوڑا اٹھاکر اس ڈسٹ بن میں ڈالتے پھر اسے اٹھاکر گاڑی میں ڈالتے۔۔۔

اس معاشرے میں میڈیا بھی تھا جس نے خود ساختہ طورپر رہنمائی کا ٹھیکہ لےلیا تھا،جب ٹی وی آزاد ہوا اور نیوزچینل دھڑادھڑآنے لگے تو بہت سے بیوپاری اس میدان میں گھس آئے ،چینلز کے ٹاک شوزپر گھس بیٹھیے افراد کا قبضہ ہوگیا۔یہ لوگ پرائم ٹائم میں ٹی وی پر عدالتیں لگاتے جو ان کو ناپسند ہوتا اس کی کلاس لیتے جوپسند ہوتا اس کی تعریفیں کرتے۔جس کی چاہتے اس کی عزت اتارتے ۔معاشرے کے دوسرے لوگ ان سے ڈرنے لگے ۔زیادتی کاشکار لڑکیوں کو شوزمیں بلواکر ان کے جنسی استحصال کے قصے مزے لےلےکرسننے لگے ۔پروگرام ختم ہونے پر خواتین معاشرے میں رسوا ہوتیں اور یہ جغادری اپنی ریٹنگ دیکھ کر خوش ہوتے ۔اس میڈیا نے بھی معاشرے کی بنیادیں ہلانے میں اپنا پورا حصہ ڈالا،لوگوں کو تقسیم کیا یہاں سے پیسا ملا اس کو ہیروجس نے انکار کیا اس کی زندگی تباہ ۔

اس معاشرےمیں باسیوں کوانصاف فراہم کرنے کےلیے عدالتی نظام بنایاگیا۔عدالت میں بیٹھے لوگوں نے ،ریڈرسے جج تک سب نے دیکھا کہ انصاف بیچ کر اچھاخاصا پیسا کمایا جاسکتاہے پھر کیا تھا انصاف سرعام نیلام ہونے لگا،ایک ایک مقدمہ سالوں پر محیط ہوگیا،عدالتی نظام کرپشن اور شوت کا گڑھ بن گیا۔عدالت کی طرح تمام سرکاری محکموں میں جائز کام بھی ناجائز بنادیے گئے اسی معاشرے کےباسیوں  نے اپنی بھوک مٹانے کےلیے دوسروں کو کنگال کرنے کے منصوبے بنائے۔

اس معاشرے کو ایک بیماری احتجاج کی بھی بری طرح چمٹ گئی تھی ۔کسی کو اپنی نااہلی اور کاہلی کی وجہ سے روٹی پانی نہ ملتا وہ دھرنا دینے کا اعلان کردیتا۔یہاں ریاست سے تنخواہ لینے والے ملازمین کا سال میں زیادہ ٹائم اپنے دفاتر میں کام کے بجائے سڑکوں پر احتجاج میں گزرجاتا۔یہاں پھیلے ٹی وی چینلز کے کیمرے اس احتجاج کو مزید بڑھانے کا باعث بنتے یہاں تک کہ یہ تاثر گہرا کردیا گیا کہ پرامن احتجاج کچھ نہیں ہوتا احتجاج میں اپنی ہی ریاست کی املاک کو نقصان نہ پہنچایا تو کیا احتجاج کیا۔شفاف الیکشن کی ٹرم انتہائی متنازع تھی ۔جیتنے والے کے نزدیک انتخاب شفاف اور ہارنے والے کے نزدیک الیکشن غیر شفاف ہوتا۔شکست تسلیم کرنے کا رواج  موجود تھا نہ اخلاقی جرات۔

لوگ اس انتقال پرملال کی خبر سن کر اکٹھے ہونا شروع ہوگئے کہ اس کے کفن دفن کا بندوبست کیا جائے ۔سبھی آپس میں مرحوم کی صفات پر بحث بھی کررہے تھے لیکن کسی بھی چہرے پر اس کے انتقال پر ابھی کوئی ملال تھا نہ مستقبل میں سدھرنے کی کوئی چاہ۔بس اس موقع پر بھی اسی حسد،دکھاوے اور نفرتوں کی باتیں تھیں۔سب لوگ قبرستان جانے لگے تو یکایک لاؤڈاسپیکر آن ہوا ۔لاؤڈ اسپیکر پر پھر ایک اعلان ہوا۔۔


حضرات ایک ضروری اعلان سنیں ۔۔۔معاشرے کے کچھ حکیم طبیعت ،منجھے ہوئے اور نبض شناس  افرادکے ایک پینل نے معاشرے  کی لاش کا جائزہ لیا ہے ان کا کہناہےکہ وہ جائزہ لےکر اس نتیجے پر پہنچے ہیں  کہ یہ معاشرہ ابھی پوری طرح مرا نہیں ہے بلکہ اپنی آخری سانسیں لےرہا ہے اگر کچھ افراد خلوص دل سے کوشش کریں تو اس کی صحت میں بہتری  کی گنجائش موجود ہے اس لیے متفقہ طورپر فیصلہ کیاگیا ہے کہ اس معاشرے کو اس کی صحت میں بہتری تک آئی سی یو میں رکھا جائےگا۔اس کے باسیوں سے ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے کہ اس معاشرے کو مرنے سے بچانے کےلیے اپنے حصے کا کردار خلوص نیت سے اداکریں ۔

Friday, August 8, 2014

IMRAN'S TSUNAMI LETTER AND AZADI MARCH


خان صاحب ابھی دودھ گرم ہے۔۔۔

ملک اس وقت زبرست افراتفری کی لپیٹ میں ہے۔پتہ نہیں کس نے کچھ لوگوں کو اتنا پکا یقین دلادیا ہےکہ زمین نرم ہے چڑھ جاؤ فتح تمہاری ہی ہوگی۔تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پارلیمانی نظام کا حصہ ہیں اور اسی نظام کی پیداوار بھی ہیں۔اسی نظام سے منسلک اور سپورٹر پاکستان کی تمام جماعتوں اورسیاستدانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ مارچ جن مقاصد کےلیے کیا جارہا ہے وہ اس وقت قطعی قابل فہم نہیں ہیں اس لیے اس میدان میں عمران خان کو کوئی ساتھ نہیں دے رہا لیکن خان صاحب کو یقین ہے کہ وہ لاکھوں کارکن اکٹھے کرکے اسلام آباد پرچڑھائی کردیں گے اور اگر دھکا اچھا لگ گیا تو مڈٹرم الیکشن ہوجائے گا ۔خیر14اگست آنے والی ہے حکومت عمران خان کےلیے چارہ تیار کررہی ہے اور امید ہے خان صاحب یہ چارہ کھا بھی لیں گے ۔۔ہاں مارچ ہوگا لیکن مقصد اور منزل بدل جائے گی ۔ابھی تک کی اطلاعات کےمطابق ایک طرف تو حکومت ہفتے کی صبح پاکستان کی پارلیمانی قیادت وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھ کر ملکی سلامتی پر گتگو کرے گی اس کانفرنس میں تحریک انصا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک بھی موجود ہوں گے ۔دوسری طرف جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کے ذریعے عمران خان کو پی ٹی آئی کی پسند کے پانچ حلقے اور حکومتی پسند کے پانچ حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی پیشکش کررہی ہوگی جو خان صاحب قبول کرکے مڈٹرم الیکشن کی ڈیمانڈ سے چپکے سے باز آجائیں گے ۔ویسے تو ایک اخباری خبر کےمطابق خان صاحب کی نشاة ثانیہ کے گارڈ فادر جناب سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا نے لاہور میں تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود کے گھر بغیر کسی پروٹوکول اور موٹرسائیکل پر جاکر ملاقات کی یہاں عمران خان صاحب پہلے سے موجود تھے ۔اس ملاقات میں کیا طے ہوا یہ تو ایک راز ہے  لیکن میں خوش گمان ہوں کہ پاشا صاحب نے خان صاحب کو سمجھایاہوگا کہ ابھی گرم گرم دودھ پینے سے زبان جلنے کا زیادہ خدشہ ہے اس لیے ہاتھ ہلکا رکھیں۔

دوسری طرف خان صاحب اور ان کے کارکن تیزی سے آزادی مارچ کی تیاریوں میں مصروف ہیں ایسے میں خان صاحب نے کارکنوں کے نام ایک خط لکھا ہے جس میں حکمرانوں کو فرعون کہ کر ان سے آزادی چھیننے کا پیغام دیاگیا یہ خط آپ کی دلچسپی کےلیے یہاں دیا جارہا ہے آپ بھی پڑھیں۔


Thursday, July 24, 2014

Dr TAHIR UL QADRI'S INQLAB..A MYTH OR REALITY..?

کیایہ ممکن ہے؟۔۔۔ایک انقلابی مکالمہ

کیاخیال ہے یہ ریاست کتنےانقلابیوں کا لہو پی کر سرنڈر کردے گی؟
کیوں یہ ریاست عوام کا لہوکیوں پیے گی؟
کیوں نہیں پیے گی ۔۔ماڈل ٹاؤن میں انہوں نے بندے نہیں مارے؟
وہ تو ایک صورتحال نے جنم لیاتھا اور پولیس نے زچ ہوکر گولی چلادی۔
نہیں بھائی پوری پلاننگ تھی بندے مارنے کی ہی پلاننگ تھی اور اسی لیے وہاں وہ آئے تھے۔
بندے ہی مارنے تھے تو پوری رات کیوں پولیس پسپا ہوتی رہی ؟
او نئیں یہ سب ڈرامہ تھا ان کا وہ مارنے آئے تھے مارکرچلے گئے۔
اچھا چلو دونوں طرف کا اپن اپنا مؤقف ہے اس بارے میں ۔۔۔
اچھا چلو یہ بتاؤ عمران خان کا کتنا چانس ہے کہ وہ بھی ڈاکٹرصاحب کے ساتھ آجائے؟
صفر۔۔۔کوئی چانس نہیں!خان صاحب نے بہت کچھ دیکھنا ہے۔۔۔خان صاحب اس وقت حکومت میں ہیں اور آئندہ وزیراعظم بننے کی آس لگاکربیٹھے ہیں ۔۔ان کو اس نظام کو لپیٹ کر کیاملےگا؟ ان کے تمام ساتھی پارلیمانی جمہوریت کی پیداوار ہیں ۔الیکشن لڑتے اور جیت کر اسمبلی آتے ہیں وہ کبھی بھی عمران کو ایسا مشورہ نہیں دیں گے یہاں ڈرائیونگ سیٹ پر کوئی اور بیٹھاہو۔۔
ہاں یہ توہے عمران خان کبھی نہیں آئے گا اس راستے پر۔
ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب کے اس چاہنے والے اور انقلاب کےلیے اپنی جان دینے کی تیاری کرنے والے کارکن نے میری اس بات سے اتفاق کرلیا۔
چلو اگر تحریک انصاف نہیں آتی تو باقی جماعتیں ؟
کونسی جماعتیں۔۔۔؟میں نے پوچھا
سنی اتحاد کونسل ہے،مسلم لیگ ق ہے وغیرہ وغیرہ
ان جماعتوں کے پاس توکارکن ہے ہی نہیں ۔۔میں نے کہا
کارکن عوامی تحریک کےپاس ہیں ان جماعتوں کی تو اخلاقی سپورٹ ہی چاہیئے۔۔انہوں نے کہا
اخلاقی سپورٹ؟ اس کا کیافائدہ ہوگا؟
حکومت پر دباؤ بڑھے گا اور کیا؟
چودھریوں کی سپورٹ تو شاید الٹا اثر کرے ان کا کردار تو سب کے سامنے ہے لوگ انہیں پسند نہیں کرتے۔میں نے خدشے کااظہارکیا۔
لیکن ان کو سیاست کا تجربہ ہے گہری جڑیں ہیں اس لیے فائدہ ہی ہوگا۔
یہ انقلاب کیسے آئے گا۔لائحہ عمل کیاہوگا؟کون کس وقت اعلان کرے گا کہ انقلاب آگیاہے؟ریاستی ادارے کس طرح نواز حکومت کےبجائے ڈاکٹرطاہرالقادری کا حکم ماننا شروع کردیں گے ؟میرے ذہن میں کلبلاتے سوالات باہر آگئے۔
ڈاکٹرصاحب اس ملک میں بدر کی فضا پیداکرنا چاہتے ہیں۔۔گوکہ ابھی حالات سازگار نظر نہیں آرہے لیکن اللہ کی مدد اور نصرت آئے گی اور یہ انقلاب نوشتہ دیوار ہے آپ بھی دیکھیں گے اور دنیا بھی ۔۔انقلاب آنا ہے اور آکر رہےگا۔انہوں نے قطعی اندازاپنالیا۔
کیا آپ ریاست سے دوبدو لڑائی کریں گے؟
نہیں ابھی تو اس کا پلان نہیں ہے لڑائی نہیں بس عوامی سمندر سے ہی حکمرانوں کو مجبور کریں گے۔
حکمران کیوں مجبور ہوں گے؟جب تک آپ لڑائی نہیں کریں گے ۔ریاست کو پسپا نہیں کریں گے اس وقت تک کیسے آپ پاورکنٹرول کرپائیں گے؟
ہاں اگر ضروری ہواتولڑائی بھی ہوگی اور موت بھی گلے لگائیں گے۔یہی توپوچھ رہاہوں کہ کتنے جنازوں کےبعد ریاستی طاقت سرنڈرکردے گی؟انہوں نے پھرسوال کیا
اس بات کی توکوئی حد نہیں ہاں اس صورت میں ممکن ہے کہ ڈاکٹرصاحب کارکنوں کوکم ازکم ایک ماہ تک اسلام آباد بٹھائے رکھیں اور حکومت پر دباؤ بڑھتارہے۔
نہیں اس دفعہ ایساکوئی پلان نہیں ہے ۔کوئی دھرنا نہیں ہوگا بس آریاپارہوگا۔۔کوئی دھرنا نہیں کوئی معاہدہ نہیں بس انقلاب اور صرف انقلاب۔۔انہوں نے دوٹوک الفاظ میں آخری مقصد بیان کردیا۔
لیکن پھر بھی  تاریخ اٹھاکردیکھیں ۔اسے انقلاب کہیں یا نہ کہیں لیکن شام عراق اور اس سے پہلے لیبیا میں تو حکومتیں الٹنےکےلیے شدید خون خرابہ کیا گیا پھر بھی سوائے لیبیا یہاں پر باغیوں کو کھلم کھلا امریکا اور نیٹو کی حمایت حاصل تھی وہاں قذافی حکومت کاتختہ الٹا گیا۔ شام میں کامیابی ابھی تک نہیں ہوئی اور عراق کے صرف دو شہروں پرقبضہ کیا گیاہے ۔۔۔۔
ٹھیک ہے اگر جان دینا پڑی تو خون حاضر ہے لیکن اس بار اب یا کبھی نہیں والی صورتحال ہے انہوں نے خون خرابے والی بات سے انکارنہ کیا۔
پاکستان میں حکومتوں کی زبردستی تبدیلی میں تو فوج کا کردار ہی رہا ہے ابھی ایسا کوئی انقلاب موجود نہیں ہے جس میں عوام نے زبرستی کسی حکمران کو گھر بھیج دیا ہو ۔اگرفوج نہیں چاہے گی تو کیسے حکومت بدلے گی اور اگر فوج چاہے گی تو وہ ڈاکٹرصاحب کے حوالے ملک کرنے کےبجائے خود کیوں نہ معاملات چلائے گی؟
میرے سوال پرانہوں نے کہاکہ ایسا بھی تو ہوسکتاہے کہ فوج نوازشریف حکومت کا حکم نہ مانے اور عوام کے سامنے آنے کےبجائے ایک سائیڈ پر ہوکر عوام کو اپنا حق لینے دے؟

ان کا سوال بڑا سادہ تھا لیکن اس کاجواب شاید اتنا سادہ نہیں کہ ریاست میں خون خرابہ ہو رہا ہو۔۔پولیس اور عوام میں میچ پڑاہو لاشیں گررہی ہوں اور اس ریاست کی سب سے بڑی محافظ ایک سائیڈ پر ہوکر عوام کو انقلاب لاتے دیکھتی رہے۔۔۔۔کیا ایساممکن ہے؟

Sunday, July 13, 2014

IDEAL SOLUTION OF PALESTINE, ISRAEL CRISES



فلسطین۔۔۔۔۔جہادکی بہترین جگہ

اسرائیل کی طرف سے فلسطین کےعوام پر ظلم کاچھبیسواں  دن طلوع ہوچکا۔ طیاروں سے آگ،بارود اور لوہا داغنے کے ساتھ ساتھ  اب اسرائیل کے کمانڈوزانبیاء کی سرزمین کو تاراج کرنے کےلیے غزہ میں موجود ہیں ۔میرے سامنے نیوزایجنسی رائٹرزکی اسکرین جب بھی آن ہوتی ہے غزہ سے بیت الحنون اور شجائیہ سے خان یونس تک دھویں کے بادل آسمان سے باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔کیمرہ غزہ کی گلیوں میں جاتاہے تو ننھے بچے اور خواتین اسپتالوں میں زخمی یا ایمبولینسز گلیوں سے لاشیں اٹھارہی ہوتی ہیں اور لوگ اپنے گھروں کو ملبے کا ڈھیر بنے حسرت سے دیکھ رہے ہیں ۔بارود کی آنکھیں نہیں ہوتیں گولہ جب گرتا ہے تو گناہگار اور بے گناہ کی تمیز نہیں کرتا،اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق26دنوں میں ہونےوالی 1500سے زائداموات میں پچاسی فیصد سویلین  مارے گئے ہیں۔


پاکستانی ٹی وی کھولو یا اخبارات اٹھاؤ تو فلسطین کے نوحے کے ساتھ عالمی ضمیرمرگیا۔۔۔عالمی ضمیر سوگیا۔۔۔۔کہاں ہے عالمی ضیر؟ جیسے فضول نعرے اور نوٹس لینے کے مطالبات سے صفحات کالے ہوئے نظر آتے ہیں۔۔۔۔میں سوچتا ہوں یہ سب لوگ کس عالمی ضمیر کو آوازیں دے رہے ہیں۔۔اگر اس عالمی ضمیر سے مراد اقوام متحدہ ہے تو مجھے ان کی سادگی پر ہنسی آتی ہے ۔اگر یہ عالمی ضمیر امریکا بہادر کا ہے تو بھائی امریکا کو مسلمانوں کی موت کا دکھ کیوں ہوگا ؟ اسے اسرائیل سے ہمدردی کیوں نہ ہو؟ اور برطانیہ کےلیے پہلے امریکا ہے پھر باقی دنیا کی بار ی آتی ہے ۔ آئیں اس سادہ دلی سے باہر آئیں اور کیوں نہ آج فلسطینیوں سے ہمدردی اور اسرائیل کی تباہی کےلیے انہیں آوازدیں جنہوں نے  اسلام کا جھنڈا پوری دنیا میں لہرانے کےلیے ہتھیار اٹھارکھے ہیں ۔۔یہ الگ بات ہے کہ وہ لوگ بھی مسلمانوں کو ہی اسلام کی راہ میں رکاوٹ قرار دے کر انہیں تہہ تیغ کرتے چلے جارہے ہیں۔

اسامہ بن لادن اورایمن الظواہری

آئیں سب سے پہلے دنیا بھر میں پھیلی اسلامی جہادی تنظیموں کی والدہ محترمہ القاعدہ نامی تنظیم کو دعوت دیتے ہیں اس تنظیم کے بانی سربراہ اسامہ بن لادن تو بقول امریکا اب اس دنیا میں نہیں ہیں اس لیے ان کے نائب جناب ایمن الظواہری کی خدمت میں گزارش کرتے ہیں کہ وہ چند دنوں کےلیے اسرائیل کو امریکا کا درجہ دے لیں اور دنیا بھر میں پھیلے اپنے جہادی کمانڈروں منصوبہ سازوں کو فلسطین پہنچنے کا حکم کریں آپ نے اس جہاد کی اونر شپ لےلی تو باقی جہادیوں کےلیے آسانیاں پیدا ہوجائیں گی۔ آپ سے گزارش ہے کہ لبنان،سوڈان ،ازبکستان ،پاکستان اور افغانستان میں بیٹھ کر امریکاکےخلاف منصوبہ بندیوں کو کچھ دنوں کےلیے روک کر اس جہاد عظیم کا حصہ بنیں اور ان ممالک کو بھی چند دن سکون کا سانس لینے دیں۔


ملاعمر
اس کے بعد امیر المومنین امارت افغانستان کے بانی و تاحیات اوربعدازحیات سربراہ جناب ملاعمر صاحب سے گزارش ہے کہ ان کے پاس اپنی امارت کو وسیع کرنے کا سنہری موقع ہے بہتر تو یہ ہوگا گا کہ وہ خود فلسطین تشریف لے جائیں (وہ ویسے ہی کسی کو نظر نہیں آتے) اور امریکی افواج کو کچھ دن افغانستان میں سکون کرنے دیں ویسے بھی وہاں صدارتی جھگڑے وغیرہ چل نکلے ہیں آپ اسرائیل کو فتح کرکے وہاں کے امیرہونے کا اعلان کردیں افغانستان کو امریکی ایجنٹوں کے پاس ہی رہنے دیں یہ لوگ اسی قابل ہیں ۔

ملافضل اللہ
ملاعمر صاحب کے فلسطین جانے کے بعد ان کے پیروکار بن کر اپنے ہی ملک پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے درپے ملا ریڈیوجناب ملا فضل اللہ فرام ملاکنڈ سوات حال مقیم صوبہ کنڑ،نورستان وغیرہ سے بھی گزارش ہے کہ اپنے امیر کی اطاعت فرماتے ہوئے آپ بھی فلسطین تشریف لے جائیں اور اپنے ساتھ قاری شکیل ،حافظ گل بہادر ،خالد خراسانی ،خان سید سجنا وغیرہ کو بھی ہمراہ کرلیں اور ہاں ترجمانی کے لیے جناب شاہد اللہ شاہد کو ضرور ساتھ لےجائیں تاکہ آپ کی فتوحات کی تازہ ترین داستانیں اہل اسلام اور خصوصی طورپر پاکستانی میڈیا کو بروقت ملتی رہیں ۔ویسے بھی آج کل آپ کا پورا قبیلہ فارغ ہی ہے کہ وزیرستان میں فوج آپریشن کررہی ہے اور آپ کے مطابق آپ کے تمام جنگجو محفوظ علاقوں میں چھٹیاں گزاررہے ہیں اور آپ سے بہتر کون جانتا ہے کہ اسلام میں چھٹی کا کوئی تصور نہیں ہے اس یے سنہری موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اسرائیل پر یلغار کردیں ۔خیبرایجنسی سے منگل باغ گروپ کو ہمراہ کرلیں۔ اس کے ساتھ ساتھ لگتے ہاتھ پاکستان میں موجود اپنے چاہنے والوں، ہمدردوں اور آپ کی اموات پر دلی دکھ کے اظہار میں پاک افواج کو برا بھلا کہنے والوں کو بھی ساتھ لےلیں اس سلسلے میں جماعت اسلامی کے امیر جناب سراج الحق اور سابق امیر جناب منور حسن بہترین انتخاب ہوسکتے ہیں اگر تحریک انصاف سے بھی کوئی اہم رہنما مان جائے تو کیا بات ہے اس صلے میں حکومت پاکستان آپ کےلیے آسانیوں کا بھی اعلان کرسکتی ہے اسی چکر میں 14اگست کا سونامی بھی نکل جائے گا۔جاتے جاتے جناب حافظ سعید صاحب کو صلح مارتے جائیں شاید اسی بہانے پاکستان بھارت سے اپنے تعلقات ٹھیک کرنے میں کامیاب ہوجائے۔

بوکوحرم کے قبضے میں نائجیریا کےبچے
اس کے بعد نائجیریا میں تعلیم حاصل کرنے کی خواہشمند اپنے ملک کی بچیوں کو اغوا کرکے انہیں اذیت دینے والے حرام خوروں سوری ۔۔۔بوکوحرام۔۔۔نامی تنظیم کے کرتا دھرتوں سے بھی گزارش ہے کہ غیر ملکی تعلیم صرف نائجیریا کی بچیاں ہی حاصل نہیں کررہیں ۔۔بھائیو اسرائیل اس گناہ کا سب سے زیادہ مرتکب ہورہا ہے ان بچیوں کو چھوڑیں اور فی الفور اسرائیل پر چڑھ دوڑیں اور ان کی بچیوں اوربچوں کو اس لعنت سے باز رکھنے کےلیے اپنی طاقت لگائیں شاید اسی بہانے فلسطین کے بچے بچ جائیں۔

اور ہاں ایسے وقت میں لیبیا اور  شام میں لڑنے والے باغیوں، جہادالنکاح اور نکاح الجہاد کے فلسفوں میں مبتلا مردو خواتین بھی کچھ دن اپنا اپنا مشن موخر کرتے ہوئے فلسطین کی جانب چلیں ۔ازبک اسلامی موومنٹ سے گزارش ہےکہ کراچی ایئرپورٹ پر کامیاب کارروائی کےبعد تل ابیب کے ایئرپورٹ پر حملہ کردیں اور فلسطین پر بمباری کےلیے اڑنے والے طیاروں پر قبضہ کرکے اسرائیل پر ہی بمباری شروع کردیں آخر آپ کا یہ تجربہ کس دن کام آئے گا۔اس کام کےلیے حزب اللہ والوں کو بھی ساتھ لے لیں انہوں نے ساری زندگی لبنان میں ہی تھوڑا رہنا ہے۔
ابوبکر البغدادی 

سعودی عرب وغیرہ نے تو 70کی دہائی میں ہی غیرت وغیرہ جیسے تکلفات کواتار پھینکا تھا اس لیے ان جیسے عرب ممالک سے توقع وغیرہ رکھنا فضول ہے لیکن آخر میں سب سے اہم تنظیم سے گزراش ضروری ہے ۔دولت اسلامیہ عراق وشام (آئی ایس آئی ایس) کے سربراہ اور امیر جناب ابوبکر البغدادی سے ہاتھ باندھ کر گزارش ہے کہ آپ اپنی امارت اسلامیہ کو عراق وشام سے آگے بڑھائیں اور فلسطین و اسرائیل کو بھی اس میں شامل کریں ۔آپ نے چونکہ عراق میں تازہ تازہ قتل وغارت فرمائی ہے اس لیے ہاتھ بھی رواں ہے،عراق میں شیعہ کمیونٹی کو تھوڑے دن سکھ کا سانس لینے دیں اور فوری طور پر اپنے تمام جہادیوں کو اسرائیل کی طرف موڑدیں آپ چونکہ سب سے قریب ترین بیٹھے ہیں اس لیے جلدی پہنچ جائیں گے اور اسرائیل جیسا داغ جس کو چار دہائیوں سے کوئی نہیں مٹا سکا آپ اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈالیں اور یہ جو دنیا آپ کے خلاف پراپیگنڈا وغیرہ کرنے میں مصروف ہےکہ آپ صرف مسلمانوں کوہی مارتے ہیں وہ بھی مٹ جائے گا۔ آپ کی سلطنت کو وسعت ملے گی آپ کے اس کارنامے سے خوش ہوکر باقی مسلمان ممالک میں جہاد میں مصروف جہادی تنظیمیں بھی آپ کو اپنا راہبروراہنما مان لیں گی اور پھر آپ کی پوری دنیا پر حکومت کا چانس پکا ہے ۔مجھے یقین ہے اور کوئی آپ کو بلائے نہ بلائے لیکن ایک بات کی گارنٹی ہے شریعت وغیرہ کی حامی آوازیں آپ کو پاکستان ضرور بلوالیں گی۔۔۔۔۔

جاتے جاتے ایک گزارش حماس والوں سے بھی کہ آپ اسرائیل کو مٹانے میں 
مصروف ہیں بڑی ہی تندہی سے کام کررہے ہیں۔آپ کی نیت اور کاوشیں شک و شبہ سے بالاتر ہیں لیکن  آپ سویلین آبادی والے علاقوں میں پناہ لیتے ہیں تو اسرائیل کو وہاں بمباری کا جواز ملتاہے آپ تو موت سے نہیں ڈرتے پھر غزہ میں کیوں؟ آپ سارے اکٹھے ہو کر تل اببیب کی طرف مارچ کریں۔۔پلیز۔۔۔

آخرمیں ایک پوسٹ جو سوشل میڈیا پر کسی بھلے آدمی نے پوسٹ کی اسے خوب شیئرکیاجارہا ہے ہمارے حالات پر کافی درست بیٹھتی ہے ۔۔۔۔۔۔






Saturday, July 12, 2014

ALTAF HUSSAIN'S LETTER TO CORP COMM KARACHI & EDITORS


ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کے خطوط


ایم کیوایم کے قائد نے گزری رات کراچی میں اپنے کارکنوں کی ماورائے عدالت گرفتاریوں اور کراچی آپریشن میں اپنی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کےخلاف اقدامات پر تشویش کا اظہارکیا انہوں نے دو طرح کے خطوط لکھے پہلے انہوں نے ایک خط اخباری مدیران کو لکھا جس میں انہوں نے بتایاکہ وہ تمام اہل بست وکشاد سے مایوس ہوکر اب اپنے تحفظات پاکستانی افواج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف کو پہنچارہے ہیں اس خط میں انہوں نے کیا لکھا آپ بھی پڑھ سکتے ہیں


الطاف حسین کاایڈیٹرزکوخط کاعکس

اس خط کے بعد میڈیا پر ایم کیوایم کی طرف سے اطلاع دی گئی کہ الطاف حسین نے آرمی چیف کو خط ابھی نہیں لکھا بلکہ انہوں نے کورکمانڈر کراچی جناب سجاد غنی سے ٹیلی فون پر بات کرکے انہیں تحفظات سے آگاہ کیا ہے ۔یہ بات ابھی پرانی نہیں ہوئی تھی کہ ایم کیوایم کی طرف سے میڈیا کواطلاع دی گئی کہ ان  کے ایک کارکن حیدربیگ کو رینجرزنے حراست میں لےلیا ہے اس پر جناب الطاف حسین شدید غصے میں آئے اور انہوں نے اپنی ٹیلی فونک گفتگو کے کوئی آٹھ گھنٹے بعد کورکمانڈر کراچی جناب سجاد غنی کو تفصیلی خط لکھ کر رینجرز کے رویے کی خوب شکایات کیں یہ خط بھی آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں

الطاف حسین کے کورکمانڈر کراچی کو خط کاعکس

Saturday, June 28, 2014

IMRAN KHAN'S TSUNAMI MARCH


نئےپاکستان میں پرانی فلم




قوم کو مبارک ہو کہ رات ایک اور نیا پاکستان بن گیا یہ نیا پاکستان خیبرپختونخوا کی حکمران پارٹی نے پنجاب کے ضلع بہاولپور میں بنایا۔نئے پاکستان میں پرانے پاکستان کی میگا ہٹ فلم مولا جٹ کو ٹائٹل میں کچھ تبدیلی کرکے- مولا خان- کے نام سے ریلیز کردی گئی ۔عمران خان نامی ڈائریکٹر اور اس فلم کے مرکزی کردار عمران خان نے اس فلم کے اسکرپٹ میں کافی تبدیلیاں کی ہیں سب سے بڑی تبدیلی تو اس کے پلاٹ میں کی گئی ہے مولا جٹ ایک سنجیدہ ایکشن تھرلر تھی لیکن- مولاخان-کا زیادہ تر حصہ کامیڈی یعنی مزاحیہ ڈائلاگ پر مشتمل ہے۔مولا جٹ میں ولن نوری نت کا کردار خاصا جانداتھا لیکن اس فلم میں خان صاحب کسی دوسرے کو کوئی بھی کردار دینے کے زیادہ حامی نظر نہیں آتے یہاں تک کہ  شیخ رشید، جاوید ہاشمی اور مخدوم شاہ محمود قریشی جیسے سائیڈ ہیروز بھی لگتا ہے سائیڈ پر ہی رکھے جائیں گے ۔



عمران خان نے نئی فلم کےلیے بڑھکیں میرا مطلب ہے ڈائیلاگ کی ایک جھلک بہاولپور کے جلسے میں اپنے کارکرکنوں کو سنائی ہے ان ڈائیلاگزکو ان کے جلسے میں شریک ان کے چاہنے والوں نے بہت پسند کیا ہے ۔عمران خان صاحب نے یہ بھی لکھ مارا ہے کہ –مولانوں مولا نہ مارے تے مولا نئیں مردا-(یہاں دوسرے مولا سے ہرگزنوازشریف مراد نہ لی جائے)

پہلی بڑھک میرا مطلب ہے پہلا ڈائیلاگ۔۔مجھے بتایاجائے کہ نوازشریف کی وکٹری اسپیچ پولنگ ختم ہونے کےساڑھے پانچ گھنٹے بعد کس نے کرائی۔۔تو خان صاحب کو وکٹری اسپیچ پر توکوئی اعتراض نہیں صرف اعتراض ہے تو صرف اس بندے پر جس نے ان کو کہا کہ میاں صاحب اٹھو تسیں جت گئے جے ۔

دوسرا ڈائیلاگ: میں 2013کے پورے الیکشن کو نہیں مانتا۔۔نہیں مانتا۔۔۔چلو ایک بات کو صاف ہوگئی کہ جب الیکشن کو ہی نہیں مانتے تو پھر یہ جو خیبرپختونخوا حکومت ان الیکشن کے نتیجے میں بنائی گئی تھی وہ ماشاءاللہ ابھی تک چل رہی ہے اور امید ہے اس فلم کی ریلیز کےبعد بھی اسی طرح چلتی رہے گی کیوں کہ خان صاحب بھلے کہتے رہیں وہ اسمبلیاں توڑپھوڑ دیں گے لیکن وہ بھی جانتے ہیں خیبر اسمبلی ٹوڑدی تو تحریک انصاف جو ابھی تک سینیٹ کی ایک بھی نشست نہیں رکھتی وہاں ان کی نمائندگی اگلی صدی تک نہیں ہوپائے گی تو جہانگیر ترین جیسے جس کروڑ پتیوں سے سینیٹ کے ٹکٹ کے وعدے وغیرہ کررکھے ہیں ان کا کیا بنے گا ۔خان صاحب اس طرح کے وعدے وفا کرنے والے آدمی ہیں وہ ان –غریبوں- کا ضرورخیال رکھیں گے اور سینیٹ کے الیکشن تک الیکسن کو نہ مانتے ہوئے حکومت وغیرہ کرتے ہی رہیں گے۔

تیسراڈائیلاگ: بتایا جائے افتخار چودھری کا کردار الیکشن میں کیا تھا۔ویسے تو افتخار چودھری چیف جسٹس تھے اور الیکشن وقت پر کرانے کےلیے انہوں نے کافی زور وغیرہ لگایا تھا اس کے علاوہ کیا کردار تھا یہ تو وہ بہتر بتاسکتے ہیں
چوتھا ڈائیلاگ: بتایا جائے یہ جو کرپٹ ریٹرننگ افسر تھے جن کو خان صاحب نے توہین عدالت لگنے سے پہلے شرمناک وغیرہ کہا تھا وہ الیکشن کمیشن کے ماتحت کیوں نہ تھے۔۔اب یہ بات بھی نوازشریف ہی بتائیں؟الیکشن کمیشن کیوں نہ بتائے؟

پانچواں ڈائیلاگ: بتایاجائے کس کے حکم پر ووٹ مسترد کرکے نتائج تبدیل کیے گئے۔۔عمران خان کو اس بات کا یقین پتا نہیں مخدوم نے دلادیا ہے کہ ان کے وزیراعظم نہ بننے کی ساری ذمہ داری نوازشریف کی ہی ہے۔ویسے اگر نتائج تبدیل کرنے کا حکم بھی نوازشریف نے ہی دیا تھا تو میاں صاحب خیبرپختونخوا اور سندھ کے نتائج بھی پلٹ دیتے اور پورے ملک میں راج کرتے۔۔

ایک اور ڈائیلاگ جو خان صاحب نے کارکنوں کوتو نہیں سنایا لیکن مجھے یقین ہے کئی بار خود کلامی ضرور کی ہوگی کہ اس ملک میں ہر چھ ماہ بعد الیکشن ہونے چاہیئیں اور اس وقت تک ہوتے ہی رہیں جب تک تحریک انصاف مرکز میں حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہوجاتی اور جب وہ وزیر اعظم بن جائیں تو پھر الیکشن پر غیرمعینہ مدت تک پابندی لگادی جائے۔۔

خان صاحب نے یہ بھی بتادیا کہ اگر نوازشریف نے ان مطالبات کا جواب نہ دیا (گویا وہ صرف جواب ہی چاہتے ہیں)تو فلم کا کلائیمیکس چودہ اگست کو دکھایا جائے گا پتا نہیں انہوں نے اس سکرپٹ کے کلائیمیکس میں بھی ولن کو کوئی چانس دیا ہے یا یہاں بھی سارا فوکس ہیرو یعنی اپنے اوپر ہی رکھا ہے ۔۔


خان صاحب کی اس فلم کو پتا نہیں کوئی تھیٹر لگانے کےلیے راضی ہوتا ہے یا نہیں ویسے ان کو ابھی سے اسکرینز کی بکنگ وغیرہ کرالینی چاہیئے اگر بکنگ نہ ملے تو کچی ٹاکیز کا بندوبست کیا جاسکتا ہے ۔ویسے اگر خدانخواستہ یہ فلم چل بھی جاتی ہے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ پھر اس فلم کا سیکوئل نہ بنے؟ سب کو یاد ہے کہ اسی کی دہائی میں مولاجٹ کی بے مثال کامیابی کے بعد اس جیسی درجنوں فلمیں بنیں سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی کی جوڑی نے نئے ریکارڈ بنائے اسی طرح اگر –مولاخان –ریلیزہوگئی اور کامیاب ہوگئی تو پھر اس کامیاب نمائش کے فوری بعد ہی- شریف جٹ- کے نام پر اگلے سیکوئل کوکون روکے گا؟