Showing posts with label 14 August. Show all posts
Showing posts with label 14 August. Show all posts

Sunday, June 16, 2024

THE LAST SERMON OF PROPHET MUHAMMAD ﷺ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری خطبہ اور ہم  



جب بھی۔ جس جگہ،جس مجلس اور جس موقع پر بھی حج کی بات ہوتی ہے تو ہمارے پیارے نبی اخرلزماں صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری خطبہ حج ہمارے لیے مشعل راہ بن کر کھڑا ہوجاتا ہے۔پورے دین اسلام کانچوڑ یہی خطبہ حج ہےیہی وہ خطبہ ہے جس میں حضورنے چودہ سو سال پہلے انسانی حقوق کا مکمل چارٹرپیش کردیا،انسان کی جان ومال کے تحفظ کا چارٹردے دیا۔خواتین کے حقوق کا چارٹردے دیا اورانسانی مساوات اور برابری کا چارٹردے دیا۔

یہی وہ دن تھا جب حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا دین اسلام مکمل ہونے کا اعلان کیا۔چودہ سوسال سے ہر سال بیت اللہ کا حج ہوتا ہے لاکھوں فرزندان اسلام اسی میدان عرفات میں جمع ہوتےہیں اورخطبہ حج سنتے ہیں جس جگہ حضور اکرم صلہ اللہ علیہ وسلم نے اپنا آخری خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔حج کے موقع پر خطبے کا سلسلہ تو چودہ سو سال سے جاری ہے تاکہ مسلمانوں کے اعمال اورعقیدے کی اصلاح ہوسکےکیا کبھی سوچا ہے کہ ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنےآخری خطبے میں کیا کچھ کرنے کا حکم دیاتھا اور ہم کیا کررہےہیں۔

آپ نے تو فرمایا تھا کہ  سب انسان برابرہیں۔کسی کو کسی بھی بنیادپربرتری حاصل نہیں لیکن ہم ذات پات میں بٹ گئے۔طاقتوراور کمزورکی دنیا الگ کرتے چلے گئے۔آپ نے تو فرمایا تھا کہ ایسا نہ کرنا کہ دنیا کے مال کا بوجھ لے کر قیامت کے میدان میں آجائیں لیکن ہم نےتو مال جمع کرنے میں حلال اورحرام کے فرق کو ہی ختم کردیا۔آپ نے تو فرمایاتھا کہ تمہاری جھوٹی شان وشوکت آج ختم کردی لیکن ہم نے جھوٹی شان اور کھوکھلی اناوں کو ہی اپنی عزت کاسامان کرلیا۔آپ نے تو فرمایا تھا کہ تمہارا خون ایک دوسرے پرحرام کردیا گیاہے لیکن ہم نے قتل وغارت ،لڑائی جھگڑوں دھونس دھاندلی اور کمزورکو دبانے کو ہی زندگی میں آگے بڑھنے کا نصاب بنالیا۔ آپ نے توفرمایا تھا کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ایک دوسرے کی مددکرنا لیکن ہم ایسے بھائی ہیں کہ ہمارے سامنے فلسطین کے بچے ذبح کیے جارہے ہیں اورہم اپنی اپنی موج مستیوں میں مصروف ہیں۔

آپ نے تو فرمایاتھا کہ اپنے غلاموں اور ملازموں کو وہی کھلانا جو تم خود کھاتے ہولیکن ہم بڑے بڑے ہوٹلوں میں خود اچھا کھاتے ہیں اوراپنے گھریلوملازموں کو ایک کونے میں بٹھادیتےہیں۔آپ نے تو فرمایاتھا کہ میں نے سارے انتقام اپنے پاوں تلے روند دیے ہیں لیکن ہم جب تک اپنے مخالفین سے انتقام نہ لےلیں ہمیں ٹھنڈ ہی نہیں پڑتی۔آپ نے توفرمایا تھا کہ دورجاہلیت کے سارے سود ختم کردیے گئے ہیں لیکن ہم اپنےاسلامی ملک کی ساری معیشت سود پر چلائےچلے جارہےہیں۔

آپ نے تو فرمایا تھا کہ کسی کے جرم کابدلہ دوسرے سے نہیں لیا جائے گا لیکن ہم نے یہاں ملزم کے بدلے اس کے گھروالوں، بیٹے کے بدلے باپ اوربھائی کے بدلے بھائی یہاں تک کہ ماوں اوربہنوں کو گھروں سے اٹھانے کو قانون ہی بنالیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری خطبہ مکمل ضابطہ حیات ہے ہماری کامیابی کانصاب ہے۔پورے معاشرے کی بہتری اور ترقی کا راستہ ہے۔لیکن اگرہم ان باتوں پر عمل نہیں کرتے تو پھر وہی ہوگا جو آپ نےفرمایاتھا کہ ایسا نہ ہوکہ آپ دنیا میں عیش و عشرت کی زندگی گزارکر دنیا کی بداعمالیوں کا بوجھ سرپر رکھ کر اللہ کے حضور پیش ہوجاواگر ایسا ہواتو قیامت کے دن تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکے گا اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر مکمل عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Tags

#Hajj #Hajj2024

#Last Surman #Khutba hijjatul widah 

Thursday, August 14, 2014

14th AUGUST...HAPPY INDEPENDENCE DAY


جشن آزادی مبارک

پاکستان آج 68سال کاہوچکاہے۔میری عمر وطن عزیز پاکستان سے آدھی ہے میں نے اپنی زندگی میں آزادی کی 35صبحیں دیکھی ہیں لیکن آج 14اگست جیسی صبح آزادی میں پہلی مرتبہ دیکھ رہاہوں ۔اس سے پہلے آزادی کا جشن منایا جاتاتھا لیکن اس میں کچھ پابندیاں بھی لگتی تھیں یہ الگ بات کہ یہ پابندیاں موٹرسائیکلوں کے سائلنسرزکے راستے ہوا میں تحلیل کردی جاتی تھیں۔گزشتہ سالوں میں آزادی کا جشن منایا جاتا تھا لیکن اس مرتبہ جشن منانے کےلیے آزادی حاصل کرنے کی تگ ودو ہورہی ہے۔

پہلا یوم آزادی ہے جب ہر کسی کو آزادی ۔۔بلکہ مادرپدر آزادی ہے۔اس یوم آزادی پر عمران خان کو آزادی ہے کہ وہ جس شخص کی چاہیں پگڑی اچھالیں۔میڈیا کےکیمرے اور ایئرٹائم ان کے گھر پر ہاتھ باندھے کھڑا ہے وہ خود بادشاہ سلامت کی زندگی گزاریں لیکن وہ بادشاہ صرف نوازشریف کو ہی کہیں گے۔عمران خان کو آزادی ہے کہ وہ جس پر چاہیں دھاندلی کاالزام لگائیں اورہاں ان پر اس الزام کو ثابت نہ کرنے کی بھی مکمل آزادی ہے ۔عمران خان کو یہ بھی آزادی ہے کہ وہ رات ایک بات کہیں اور صبح اس بات سے آزادی سے مکرجائیں ۔۔۔ان کو آزادی ہے کہ وہ افتخار چودھری کی تعریف کریں،جسٹس رمدے کو منصف اعظم قرار دیں ،جسٹس ناصرالملک پر آنکھیں بند کرکے اعتبار کریں لیکن اس کے بعد ان کو گالیاں دینے کی آزادی سے بھی بھرپورلطف اٹھانے پر بھی کوئی پابندی نہیں ۔


خان صاحب فخرالدین جی ابراہیم کی تعریف کرنے میں بھی آزاد ہیں اور ان پر دھاندلی میں ملوث ہونے اور تاریخ کے بدترین الیکشن کرانے کاالزام لگانے میں بھی آزاد ہیں ۔عمران خان صاحب کو یہ بھی آزادی ہے کہ وہ طالبان کو تو پاکستان پر حکومت کرنے کی آزادی دے سکتے ہیں لیکن شریف برادران حکمران ہوں تو ان کو گھر بھیجنے کےلیے جتن کرنے میں بھی آزاد ہیں۔

عمران خان دوسروں کو ڈکٹیٹر کہنے میں آزاد ہیں لیکن بدقسمتی سے وہ خود ڈکٹیٹربننے میں بھی آزاد ہی ہیں۔ان کی اسی طرح کی شخصیت اور ملک میں اسی طرح کی حکومت کی خواہش ان کی اپنی پارٹی کے صدر جاوید ہاشمی کو ان سے دور لےگئی اور رعونت میں ایسے آزادکہ کہا کہ جاوید ہاشمی نے جو حرکت کی ہے اس سے تحریک انصاف کو کوئی فرق نہیں پڑے گا بلکہ ہاشمی کو ہی نقصان ہوگا۔۔ہاشمی کو بادشاہ سلامت کا یہی پیغام ملا تو ان کی عقل ٹھکانے آگئی اور کہا کہ خان صاحب نے وضاحت کردی ہے میں اب مان گیاہوں۔

اچھا خان صاحب اپنے بیانات کی حالات و واقعات کے مطابق تشریح کرنے میں بھی آزاد ہیں وہ ٹیکنوکریٹ حکومت کا مطالبہ کریں اور جب یہ مطالبہ ان کے گلے کا ہاربننے لگے تو کہیں کہ ٹیکنوکریٹ سے مراد غیر سیاسی حکومت ہوتی ہے اور ہاشمی صاحب ان سے اتفاق کرنے میں بھی آزاد ہونے کے پابند۔


اس یوم آزادی پر ڈاکٹر طاہرالقادری کو بھی آزادی ہے کہ وہ ملک میں انقلاب لائیں،نظام تہہ وبالا کریں،اپنے کارکنوں کو لاہور میں جمع کریں ۔ان کا وہاں دس دن تک وہاں رکھیں،کھانا اور پانی نہ ملنے پر انسانی المیے کا باعث بنیں۔۔اپنے کارکنوں کو کہیں کہ پولیس والوں کواٹھاکر ساتھ لاہور لے آئیں ۔ کارکنوں کو کہیں کہ جو واپس جائے اس کو شہید کردیں۔ اس کے بعد دباؤ میں آکر اپنے تمام بیانات کی تردید کرنے میں بھی ڈاکٹر صاحب  آزاد ہیں۔چودھری براداران اور شیخ رشید شامل واجا ہونے میں مکمل آزاد ہیں۔

اس یوم آزادی پر حکومت شہریوں کو مکمل پابند کرنے میں آزاد ہے ۔لاہوریوں کو کنٹینروں میں قید کرنے میں آزاد ہے،شہریوں کے موبائل فون بند کرنے میں مکمل آزاد ہے۔لانگ مارچ روکنے کے عدالتی  حکم کی پابند اورکنٹینر ہٹانے کا حکم نہ ماننے میں آزاد ہے۔



اس یوم آزادی پر وطن عزیز کی معزز عدالتیں بھی مبہم فیصلے دینے میں آزاد ہیں ایسے فیصلے جس کو دونوں میں سے جو فریق چاہے اپنے مطابق قراردے ۔عدالتیں یہ فیصلہ دینے میں مکمل آزاد ہیں کہ ۔؛؛غیرآئینی لانگ مارچ اور دھرنا نہیں دیاجسکتا؛؛ اس فیصلے کے بعد حکومت کےلیے یہ دھرنا اور مارچ غیرآئینی ہے اور مظاہرین کےلیے یہ لانگ مارچ آئینی ہے ۔کرتے رہیں تشریح اس فیصلے کی ۔۔۔مجھے بھی کل پتہ چلا کہ دھرنے کی دو قسمیں ہوتی ہیں آئینی اور غیر آئینی دھرنا۔۔۔شکریہ آزاد عدلیہ


اور آخر میں اس یوم آزادی پر بھی پاکستان کے آزاد شہری ،بھوک،افلاس،بے روگاری ،ظلم اور جبر کے ہاتھوں مرنے کےلیے مکمل آزاد ہیں۔ایسے تمام پاکستانیوں کو جشن آزادی مبارک۔۔۔۔۔۔۔