Monday, August 31, 2015

ZARDARI STATMENT...END OR START OF POLITICS?



زرداری صاحب دوڑاپنی اپنی

نواز شریف کےخلاف زرداری صاحب کےآگ اگلتے بیان سے پریشان ہونے کی ضرورت چنداں نہیں ہے،نہ حکومت کونہ عوام کو،ان کی پارٹی ملکی سیاست میں مسلسل غیر متعلق ہورہی ہے جس کی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ خود زرداری صاحب اور انکی موجودہ اور ماضی کی حرکتیں ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ پارٹی کے زوال کی وجہ ن لیگ سے تعاون اور مفاہمت ہے،پیپلزپارٹی جس کو مفاہمت کہتی ہے وہ
دراصل مفاد ہےاور اسی مفاد پراس نے پانچ سال حکومت کی اور اگلے پانچ سال کےلیے نوازحکومت کےخلاف کوئی پریشانی نہ پیدا کرنے کا وعدہ کررکھاہے،ایسا ہی وعدہ نواز شریف نے نہ صرف کیا تھا بلکہ اس کونبھایابھی تھا۔

بہت پرانی بات نہیں زرداری حکومت کے پہلےڈھائی سال اور آخری ڈھائی سال کا ریکارڈ نکال کردیکھ لیں اس دور میں نوازشریف اور ان کی پارٹی کارویہ پیپلزپارٹی کے لیے اتنا ہی نرم اورمفاہمت والا تھا کہ ن لیگ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی حکومت کا حصہ ہی لگتی تھی بلکہ ایسے ہی جیسے پہلے ڈھائی سال پیپلزپارٹی ن لیگ حکومت کا حصہ لگتی رہی ہے،زرداری حکومت کے آخری ڈھائی سالوں کا تجزیہ بھی کرلیں جس میں ن لیگ نے بھرپور اپوزیشن کی اور کئی جگہ پر خومخواہ بھی کی۔نوازشریف کالاکوٹ پہن کرمیموگیٹ کے مدعی بن گئے،شہبازشریف نے صدر ہوتے ہوئے بھی زرداری کا کبھی لاہور میں استقبال نہ کیا،لوڈشیڈنگ کےخلاف ہاتھ والے پنکھوں کے ڈرامے کیے،زرداری کو گلیوں میں گھسیٹنے کی باتیں کی،جب بے وقوف عوام کویقین ہوگیاکہ ن لیگ ہی حقیقی اپوزیشن اور ملک کی خیرخواہ اور اگلی حکومت کی حقدار ہےتواس کو حکومت دے دی گئی۔۔حکومت بنی تونوازشریف نے میموگیٹ والا کوٹ اتاردیا،حسین حقانی جو غدار تھا واپس امریکا چلاگیااور نوازشریف وزیراعظم ہاوس چلے گئے،گلیوں میں گھسیٹنے والی باتیں سیاسی نعرے قرارپائےاور زرداری صاحب اتنے ہی عزیزہوگئے جتنی ان سے نفرت کادکھاواکیاجاتارہا۔

نوازحکومت کے ڈھائی سال پورے ہوچکے ہیں ،پیپلزپارٹی کا اس سیاسی ڈرامے میں مفاہمتی کرداربھی اب آخری مراحل میں داخل ہوچکاہے،نوازاور زرداری نے 2008میں اسکرپٹ لکھتے وقت جو نہیں سوچاتھا وہ تحریک انصاف کی اس سیاسی ناٹک میں انٹری تھی اس انٹری سے پہلے پہل تو خطرہ
اورنقصان ن لیگ کا ہی تھا کہ پنجاب کاووٹر دائیں بازو کو ووٹ دیتا رہا ہے اس لیے ستر کے بعد  پیپلزپارٹی کی دال یہاں کبھی نہیں گلی لیکن پی ٹی آئی کی شکل میں پنجاب میں دائیں بازو کی جماعت کامقابلہ اب انتہائی دائیں بازو والی جماعت سے پڑچکاہےاوراس کھیل میں پیپلزپارٹی شطرنج سے کہیں دورباہر جاتی نظر آرہی ہے،سندھ میں کرپشن وغیرہ پر گرفتاریوں سے کچھ خاص نہیں نکلے گا،پاکستان جیسے ملک میں کرپشن پر کیسزکرپٹ افراد کو کلین چٹ دینے کےلیے بنتے ہیں،ڈاکٹر عاصم اور قاسم ضیاء بھی کلین چٹ لے کرضمانت پر باہر آجائیں گے،نہ پراسیکیوشن ہوگی نہ عدالتیں سزا دے سکیں گی۔پیپلزپارٹی کو کرپشن پر گرفتاریوں سے کہیں بڑھ کر ان کی بے توقیرہوتی پارٹی اور اگلے الیکشن میں کم ہوتا ہوا حصہ ہے۔۔

پیپلزپارٹی کا خیال ہے کہ شاید ان کی پارٹی کے زوال کی وجہ ان کی نواز حکومت کے ساتھ قربت اور فرینڈلی اپوزیشن کا کردارہے۔انہوں نے بھی وہی اسٹیٹجی طے کی تھی جو ن لیگ نے پچھلا الیکشن جیتنے کےلیے طے کی تھی ۔پی پی وہ اسٹیٹجی دہرائے گی لیکن اسے وہ کامیابی نہیں ملے گی جو ن لیگ
کو ملی تھی کیونکہ اب عمران خان مضبوط امیدوار کے ساتھ ن لیگ سے مقابلہ کرنے والے ہیں۔پیپلزپارٹی کوپنجاب اور دوسرے صوبوں سے پہلے ہی امید نہیں تھی اب سندھ میں بھی عمران خان کی مضبوط ہوتی جڑیں اسے سخت لب ولہجے پراکسارہی ہیں۔


اب کسی کو بھی پیپلزپارٹی کی اس غیر مفاہمانہ سیاست سے کوئی حیرانی نہیں ہونی چاہیئے اور ہاں میاں صاحب بھی اوپر اوپر سے گلے لگانے کی بات کریں گے لیکن کریں گے کچھ نہیں اور اندر ہی اندر ایک پیغام ضروردیدیں گے کہ زرداری صاحب میرے پانچ سال پورے کروانے کےلیے شکریہ لیکن آگے دوڑ اپنی اپنی۔۔۔۔

Saturday, June 27, 2015

MQM LEADER TARIQ MIR STATMENT TO LONDON POLICE



ایم کیوایم کے رہنماطارق میرکابیان

ایم کیوایم کے سینیئررہنمااور لندن میں جناب الطاف حسین کے انتہائی قریبی ساتھی اور مالی معاملات کے نگران طارق میرکا وہ بیان خفیہ ہاتھوں نے سوشل میڈیا پر جاری کردیا ہے جسے پاکستانی ٹی وی میڈیا نے مزید گرد اڑانےکےلیے ہاتھوں ہاتھ لیا لےلیا ہے ۔یہ بیان مبینہ طورپر لندن پولیس نے ریکارڈ کیا ہے ۔قارئین کےلیے اس بیان کا مکمل ترجمہ لکھ رہاہوں ۔


اس دستاویز میں اعلیٰ سطح کی معلومات ہیں
طارق میر سے انٹرویو: ٹی ایم
تیس مئی دوہزار بارہ ایجوائر پولیس اسٹیشن
موجودگی: جے این
مسٹر میر زیرحراست نہیں تھے اور انہوں نے رضاکارانہ طور پر شرکت کی۔
یہ انٹرویو بڑی احتیاط سے مرتب کیا گیا اور تقریبا تین بج کر چونتیس منٹ پر شروع ہوا۔
(اس کے بعد والی سب باتیں وہ کہانی ہے جسے مرتب کرنے والےنے بیان کیا  ہے جس کی ذمہ داری تھی کہ وہ انٹرویو کے دوران ان سوالات اور جوابات کو ریکارڈ کرے)
جے این:ہم نے بھارتی فنڈنگ سے متعلق محمد انور کا انٹرویو کیا ہے۔
ٹی ایم: پہلے میں نے کہا تھا کہ برطانیہ میں کوریئرز کے ذریعے آٹھ لاکھ پاؤنڈ کی رقم سالانہ بنیادوں پر آ رہی تھی۔شروع میں لیکن پھر برطانیہ میں دس ہزار پاؤنڈ کی حد (کرنسی کی درآمد پر) کی وجہ سے ہم نے کاروباری افراد کو ساتھ ملایا تاکہ یہ رقم حاصل کر سکیں اور اس سے ایم کیو ایم کے اخراجات پورے ہو سکیں۔
ایسا تقریبا ایک فیصد معاملات میں ہوا۔
یہ کہ ایم کیو ایم کے لوگ ہلاکتوں میں ملوث تھے۔
جے این: آپ کراچی میں اپنی سیاسی پوزیشن کو آگے بڑھانے کے معاملے میں ملوث ہیں، آپ بندوقوں اور بارودی مواد میں ملوث ہیں؟
ٹی ایم:میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہمارے پاس کلنگ ٹیمز ہیں لیکن ایسے لوگ ہیں۔ایسے لوگ ہیں جو بغیر اجازت کے تشدد کرتے ہیں اور انہیں ہٹا دیا جاتا ہے، پارٹی سے
نکال دیا جاتا ہے۔
ٹی ایم: جس میں (حکیم سعید) کو قتل کیا گیا: نواز شریف نے اس مقدمے کیلئے ایک خصوصی عدالت تشکیل دی: ایک شخص کو تشدد کر کے ہلاک کیا گیا۔دوسرے کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس نے ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا۔جاوید ترک کے متعلق جہاں تک میں جانتا ہوں وہ پارٹی کا رکن نہیں تھا۔ اگر انیس خان کہتا ہے کہ وہ رکن ہے تو میں اس بارے میں نہیں جانتا۔ترک کے خط (میں) وہ لندن کو رپورٹ دینے کی بات بیان کرتا ہے کہ کام ہو گیا ہے اور پھر اس نے کلنگ ٹیمز کیلئے رقم دینے کو کہا)
بھارتی بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔میری پارٹی میں کسی نے ان کلنگز ٹیم پر بات نہیں کی۔رابطہ ٹیم نے کبھی اس پر بات نہیں کی۔
اب کلنگ ٹیمز بن چکی ہیں اور انہیں لندن سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔
جے این: کیا یہ درست ہے کہ لوگوں کو ہتھیاروں کی تربیت کیلئے پاکستان بھیجا گیا؟
ٹی ایم: مجھے اس کے متعلق کچھ علم نہیں ہے۔ میں نے سنا ہے کہ لوگوں کو ہتھیاروں کی تربیت کے لئے بھیجا گیا۔
ٹی ایم: فوری طور پر ایک ملین پاؤنڈ کی فنڈنگ کی درخواست
ایک ملین پاؤنڈ گھروں سے متعلق ہو سکتے ہیں۔
بھارتیوں (منسلک) سے مزید کارکنوں کے لئے رقم کی درخواست۔ ہم نے فنڈنگ کے لئے کہا لیکن مجھے یقین نہیں ہے کہ بھارتی لوگوں نے کبھی ہمیٕں اتنا کچھ دیا جس کی ہمیں ضرورت تھی۔کچھ رقم ہتھیاروں کی تربیت بھی خرچ ہوئی ہو گی۔ کچھ ہتھیاروں کی تربیت کے لئے لوگوں کو بھارت بھی بھیجا گیا ہو گا۔
جے این: کیا بھارتی اآپ کو اس لئے پیسے دے رہے تھے تاکہ وہ پاکستان میں کشیدگی پیدا کر سکیں اور کراچی میں ایک الگ سندھ کی ریاست بنا سکیں؟
ہم نے لوگوں کو ذاتی حفاظت کے لئے ہتھیاروں کی تربیت لینے کے لئے بھارت بھیجا۔
میں اس سے اتفاق کرتا ہوں کہ ایم کیو ایم بطور انتقام ہلاکتوں اور تشدد میں ملوث رہی ہے۔مثال کے طور پر ۔۔۔
شناخت اور عہدے۔جہاں تک میرا خیال ہے وہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ریسرچ اینڈ اینیلسز گروپ (را) سے تعلق رکھتے تھے۔سینئر شخص بہت بڑا عہدیدار تھا اور اس کی پہنچ انتہائی اعلیٰ سطح/وزیراعظم کی سطح تک تھی۔مجھے ٹھیک سے یاد نہیں ہے کہ ہم نے کتنی رقم مانگی تھی لیکن میرا خیال ہے کہ ڈیڑھ ملین امریکی ڈالر۔مجھے نہیں پتا کہ انہوں نے ہمیں کیا دیا۔یہ سب کچھ حسین کو ملا۔ایک مرحلے پر ہمارے
اخراجات (سیکرٹریٹ کے) تقریبا ایک کروڑ پاؤنڈ ماہانہ تھے۔

مجھے پتا تھا کہ بھارتی رابطے کی وجہ سے ہماری فنڈنگ میں قابل ذکر اضافہ ہو گیا ہے۔یہ فنڈنگ کتنی دیر جاری رہی میں اس بارے میں ٹھیک سے نہیں بتا سکتا۔
میٹنگ دوہزاردس میں ہوئی تھی (میرے خیال میں روم میں) اور ہمیں پیسے مل گئے۔شروع میں رقم امریکی ڈالرز میں ملتی تھی لیکن اسے سٹرلنگ میں تبدیل کرانے میں وقت لگتا تھا چنانچہ کچھ وقت کے بعد انہوں نے ہمیں ڈالرز کی بجائے سٹرلنگ میں ادائیگی شروع کر دی۔
ہم نے کئی طریقوں سے رقم حاصل کی۔کچھ رقم کو ایک بینک اکاؤنٹ میں بھیجا جاتا تھا یا یہ رقم پاکستان میں کسی جگہ  ہوتی تھی اور اسے تبدیل (؟) کیا جاتا تھا اور  پھر ہمیں دیا جاتا تھا۔
تمام رقم مسٹر ایچ کو ملتی تھی۔یا ایک تیسری بات (فنڈز کا ذریعہ) شاید رقم یا چیک کی صورت میں مسٹر ایچ کو دیا جاتا تھا۔یا پھر بھارتی ہاتھ (؟) سے مسٹر ایچ کو ملتی تھی۔رقم کو یا تو مسٹر ایچ کو حوالے کے ذریعے دیا جاتا تھا (؟)۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتاکہ مسٹر ایچ تک رقم کون پہنچاتا تھا۔یہ کام مسٹر انور کے ذریعے ہو سکتا تھا۔کیونکہ میرے علاوہ انور اور ڈاکٹر ایف کو اس بارے میں پتا تھا۔جہاں تک میں جانتا ہوں ہم نہیں چاہتے تھے کہ یہ بات سامنے آئے کہ ایم کیو ایم بھارت سے فنڈز لے رہی تھی۔یہ بہت خفیہ تھا۔
میں نے سب سے زیادہ جو رقم لی تھی وہ گھر خریدنے کے لئے تھی۔لیکن مجھے نہیں پتا تھا کہ رقم کا کتنا حصہ بھارت سے آیا تھا۔میں کہوں گا کہ گھروں کے لئے فنڈنگ کا زیادہ تر حصہ بھارتی پیسے سے آیا۔
میں نے پہلے کہا کہ لندن کو سالانہ آٹھ لاکھ پاؤنڈ ملتے تھے (اس میں گھر خریدنے کی قیمت شامل نہیں تھی)۔یہ رقم بالکل مستقل رہی تھی۔
جے این:بھارتی رقم
ٹی ایم: ہم ہر جگہ سے رقم کی تلاش میں تھے۔بھارتی ہم تک پہنچے۔پاسپورٹ کے بغیر لوگوں کے متعلق سوالات وغیرہ پوچھے گئے۔
تقریبا انیس سو چورانوے میں ہم  نے کچھ رقم حاصل کرنا شروع کر دی۔ہمارے کچھ منجمد اکاؤنٹ کھول دیئے گئے۔انیس سو پچانوے/چھیانوے میں میں نے نصرت سے مالی معاملات کا کنٹرول لے لیا اور یہ رقم بھارت سے آ رہی تھی۔مسٹر حسین کو اس کا علم تھا۔
مسٹر ایچ بھارت سے رقم لے رہے تھے۔ایچ نے مختلف ذرائع سے رقم حاصل کی۔
بھارتی حکومت نے ہمیں اس لئے پیسے دیئے کیونکہ اسے لگتا تھا کہ ہمیں سپورٹ کرنا اچھی بات ہے۔مجھے یاد نہیں کہ میں پہلی مرتبہ بھارتیوں سے کب ملا ۔میں ان سے ملا تھا۔
(بھارتیوں کے ساتھ) پہلی ملاقات ویانا یا روم میں ہوئی تھی۔انور (اور حسین؟) موجود تھا۔ہماری تین یا چار ملاقاتیں ہوئیں۔ایک تو یقینا روم میں تھی اور ایک ویانا میں، ایک زیورخ میں ہوئی اور ایک چھوٹے شہر آسٹریا (سالٹس برگ) میں ہوئی۔اور ایک ملاقات پراگ میں ہوئی۔
پہلی ملاقات شاید روم میں ہوئی تھی۔ملاقاتیں تب ہوتی تھیں جب بھی وہ ہم سے ملنا چاہتے تھے۔ملاقاتوں کا مقصد ایک دوسرے کو سمجھنا تھا۔مجھے یقین ہے کہ ان کے نام اصلی نہیں تھے۔ انہوں نے کبھی اپنی۔۔۔
جے این:بھارتیوں سے ملاقات
سربراہ آیا کرتا تھا۔بھارت سے کل چار لوگ اآتے تھے۔نمبر ٹو کو بدل دیا گیا۔ملاقات زیادہ لمبی نہیں چلتی تھی۔گپ شپ ہوتی تھی۔وہ جاننا چاہتے تھے کہ پاکستانی سیاست میں میں عمومی طور پر کیا ہو رہا تھا، علاقائی سیاست میں اور کیونکہ افغان اور طالبان: ہم نے کراچی میں ہونے والے واقعات پر بات کی۔وہ لنچ کرتے تھے۔بنیادی طور پر وہ مسٹر حسین سے ملنا چاہتے تھے تاکہ ہمارے درمیان رابطہ کھلا رہے۔
جے این:
میں ٹریول ایجنٹس سے ٹکٹیں خریدتا تھا۔کبھی اس جگہ براہ راست نہیں جاتا تھا جہاں میٹنگ ہوتی تھی مثال کے طور پر روم براستہ فرینکفرٹگیا۔بھارتی ہی ہمیشہ ملنے کی تاریخ اور مقام کا تعین کرتے تھے۔ہمیں صرف دو دون کا نوٹس دیا جاتا تھا۔ہم فائیو اسٹار ہوٹلوں میں ملتے تھےجس کا انتظام وہ کرتے تھے۔بعد کی میٹنگز میں بھارتی مسٹر انور سے رابطہ کر کے میٹنگز طے کرتے تھے۔میں کبھی بھی ڈاکٹر ایف کی موجودگی میں بھارتیوں سے نہیں ملا۔
وہ مسٹر انور کے ساتھ بھارت گئے۔
ٹی ایم:مجھے کوئی علم نہیں کہ ہم بدلے میں ان کو کیا دے سکتے تھے۔جب ہم حکومت میں تھے تو ہمارے پاس اس حکومت میں کوئی اختیارات نہیں تھے۔جب میں بھارتیوں سے ملا تو میں نے نہیں سنا کہ ہم نے ان سے کوئی خاص بات کہی ہو جو ہم ان کے لئے کر سکتے تھے۔
میں یہ کہوں گا کہ بھارتیوں سے ملاقاتوں میں تربیت بھی شامل تھی۔جہاں تک مجھے علم ہے تربیت دی گئی تھی۔۔اسلحے کی تربیت۔انیس سو چھیانوے کی بات کرتیں تو جب ایم کیو ایم بنی تھی تو اس نے تربیت دی تھی۔میرا خیال ہے کہ یہ بھارتیوں سے بات چیت کا حصہ تھی۔
جے این: ہمیں بتایا کہ ہتھیاروں کی تربیت کا تعلق شورش سے تھا یا ذاتی حفاظت سے؟
ٹی ایم: میں ہتھیاروں کی تربیت یا فنڈنگ کی تربیت میں شامل نہیں تھا۔

طارق میرکون ہیں؟

طارق میر پیشے کےاعتبار سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں جو پاکستان سے لندن میں تعلیم کےلیے گئے لیکن تعلیم مکمل کرنے کےبعد پاکستان واپس لوٹنے کے بجاے وہیں قیام
کیا اور ایم کیوایم کے رہنما محمد انور کی فرم میں ملازمت اختیار کی،انتہائی ذہین اور قابل ہونے کی وجہ سے بہت جلد اس فرم کے مالی معاملات میں انتہائی اہمیت حاصل کرلی۔محمد انور کی وجہ سے ہی ایم کیوایم میں شامل ہوگئے اور ایم کیوایم کے مالی معاملات کے نگران بن گئے۔ایم کیوایم کے لندن سکریٹریٹ میں جو بھی پیسا کسی بھی ذرائع سے آتا ان کو اس کا علم ہوتاتھا۔طارق میر آج کل بھی لندن میں ہی مقیم ہیں۔

Tuesday, May 26, 2015

AXACT SCANDAL AND BOL, A WAY FORWARD


شیخ بل گیٹس

بل گیٹ سے زیادہ امیر بننے میں کوئی خرابی ہے نہ بل گیٹس سے آگے نکلنے کی سوچ رکھنے میں کوئی حرج ہے،اعتراض اس طریقہ کار پر ہوسکتاہے جو بل گیٹس بننےکےلیےاختیارکیاجائے،بل گیٹس دنیا کا امیر ترین آدمی کئی سال تک رہا ۔بل گیٹس نےامیر بننےکا خواب دیکھا تواس کی بنیاد ایک خالص آئیڈیے پر
بل گیٹس
رکھی،آئی بی ایم کمپیوٹرزکی دنیا کابےتاج بادشاہ تھا،بل گیٹس نے پرسنل کمپیوٹرکا تصورپیش کیاتوکوئی اس پر یقین کرنےکوتیارنہیں تھا لیکن یہ آئیڈیا کمپیوٹرکی دنیا میں انقلاب لےآیا،اس آئیڈیےنےنہ صرف

بل گیٹس کو بل گیٹس بنایا بلکہ انسانیت کی حقیقی خدمت کی ،ہم جیسے تھرڈ ورلڈ لوگوں کےگھروں تک کمپیوٹرجیسی نعمت پہنچ گئی،ونڈوزکی ایجاد نےکمپیوٹرکےاستعمال کواتناآسان اور سادہ بنادیاکہ کم پڑھا لکھا بھی کمپیوٹراستعمال کرنےکےقابل بن گیا،یوں ایک آئیڈیا بل گیٹس کو دنیا کا امیرترین شخص بناگیا،یہ الگ بات کہ ہم نے اس ونڈوزکا استعمال بھی چوری کرکے ہی کیا،ونڈوزکی ایک سی ڈی صرف 25روپے میں جگہ جگہ بکنےلگی،اورمزے کی بات یہ تھی کہ ہمیں یہ دونمبری کبھی بھی دونمبری نہیں لگی۔

بل گیٹس نےمائیکروسافٹ نامی کمپنی کودبئی کےکسی فری زون میں رجسٹرڈکرایا نہ ہی اس کےشیئرزبےنامی کمپنیوں کےنام کیے،بل گیٹس نےخالص آئیڈیے سے خالص پیسہ کمایا اوراس میں سےایمانداری سےاپنےملک امریکا کوٹیکس دیا،اب  یہ بل گیٹس ہمارے ملک سے پولیو ختم کرنےکےلیےاربوں روپے ہمیں دے رہا ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کی کمپنی کاکوئی سافٹ ویئرکبھی ہم نے پیسے دے کر نہیں خریدا بلکہ ہمیشہ چوری کرکے ہی استعمال کیا۔

بل گیٹس سے زیادہ امیر بننےکےخواہشمند جناب شعیب احمد شیخ صاحب کے اس جذبے کو تو سلام ہےلیکن انہوں نےشاید وہ راستہ اختیارنہیں کیاجو بل گیٹس کو
بل گیٹس بناتاہے،ایگزیکٹ کمپنی کےحوالےسےجوتفصیلات سامنےلائی جارہی ہیں ان کے مطابق توشیخ صاحب جس کمپنی کے چیئرمین ہیں اس نے شاید ہی کوئی اچھا کام کیا ہو۔نہ صرف خود ٹیکس دینےسےپرہیزکیابلکہ اپنی کمپنی کا بھی صرف 18لاکھ روپے کا ٹیکس دیا جبکہ ہر جگہ یہ بات ضرور کی کہ ایگزیکٹ دنیا کی بڑی آئی ٹی کمپنی ہےاورسالانہ اربوں روپےکاریونیوکماتی ہے۔


ایک خیال یہ بھی ہے شیخ صاحب نے اپنی تقریروں ( جو سوشل میڈیا پر موجود ہیں) میں میڈیا مالکان کو سیٹھ کہہ کراسےایک گالی کی طرح پیش کیااوریہ بھول گئےکہ جن سیٹھوں کووہ گالیاں دےرہےہیں وہ کتنےعرصےسےاس ملک کے طاقتورحلقوں میں اپنابزنس کررہےہیں اور کس طرح کررہے ہیں۔انہوں نے ان
سیٹھوں کی آنکھوں میں باقاعدہ انگلیاں مارنا شروع کیں تو انہی سیٹھوں نے اس کی کمزوریوں کو ہتھیار بناکر وار شروع کردیے۔شیخ صاحب یہ بات بھول گئے کہ یہ سیٹھ کتنےطاقتورہیں یا شیخ صاحب کو یہ اندازہ نہیں تھاکہ یہ سب کچھ بھی ہوسکتاہے،ویسے تووہ اس سے پہلےجیو سےلڑچکےتھےجس میں انہیں کچھ کامیابی بھی مل گئی تھی شاید اس بات نے ہی ان کا حوصلہ بڑھادیاتھا لیکن اس بار مقابلے میں صرف جیو نہیں تھا۔۔۔اس سارے چکر میں شیخ صاحب سیٹھوں کوغصہ دلانے میں تو کامیاب رہے لیکن اپنا گھر سیدھا کرنےمیں ناکام رہے۔۔اپنے صحافیوں کواعلیٰ مراعات دے کر ان کی تشہیر کرکے دوسروں کو حسد میں مبتلا کرنے سے پہلے اگر شیخ صاحب اپنے ٹیکس کے معاملا ت ہی شفاف کرلیتے تو کم از کم ان کی حب الوطنی مشکوک نہ ہوتی۔۔یہ سکینڈل سامنے آنےکےبعد بھی ابھی تک شیخ صاحب کی ایگزیکٹ کمپنی کیا کرتی ہےاورکیسےکرتی ہے یہ بات وہ لوگوں کو سمجھا نہیں پائےاس وجہ سے بھی لوگوں کی ہمدردیاں ان کی طرف کم جارہی ہیں۔

ایک سازشی تھیوری یہ بھی ہے کہ یہ سب کچھ ایک سکرپٹڈ اسٹوری ہے جس کو کم از کم چار میڈیا مالکان نےمل کربنایاہےاورپھرڈکلن والش اور نیویارک ٹائمز کو اس کے لیےاستعمال کیا۔اس تھیوری میں اس لیے جان نہیں نظرآرہی کہ چار مالکان کامل کرکچھ کرنا تو سمجھ میں آسکتاہے لیکن ایک بالکل غلط اور جعلی اسٹوری کونیویارک ٹائمزجیسےاخبارکےفرنٹ پیج پرچھپوادینا کسی طورممکن نہیں خاص طورپرایک ایسےملک میں جہاں ہرجانےکےدعوےصرف کیےنہیں جاتےہرجانےدینےبھی پڑتےہیں۔

میرا یہ خیال ہے شیخ صاحب نےجو پبلسٹی سٹریٹجی اپنائی اسی نے ان کو پھنسوادیا۔ان کے بڑے دعوے اورصحافیوں کو لامتناہی مراعات کے ڈھول نے ہی سب کو شیخ صاحب کی طرف متوجہ کیا اوران کو بھی اندازہ تو ہونا چاہیے تھا   کہ وہ یہ سارا ڈھول پاکستان جیسے معاشرے میں پیٹ رہے ہیں جہاں بھائی بھائی کےامیرہونےکوبرداشت نہیں کرتا۔۔شیخ صاحب نےجوتین سال بول کا ڈھول
بجانےمیں ضائع کیےان میں سےصرف چھ مہینےلگا کرپروفیشنل صحافیوں کی ایک ٹیم سے بول ٹی وی آن ایئرکردیتےتواس کے بعد چاہتے تو خدا ہونے کا دعویٰ بھی کر چھوڑتےسب نےمان بھی لیناتھااورکسی نےان کاکچھ بگاڑنےکی ہمت بھی نہیں کرنی تھی۔۔اب تو ایک ہی حل نظر آتا ہے کہ شیخ صاحب خود کو اس بول سے الگ کرکے ایک دولتمند شخص سامنے لائیں اور بول اس کو ٹرانسفر کردیں اور خود کو ایگزیکٹ کی تفتیش میں کلیئرکرائیں اور اگر واقعی سچے ہیں تو نیویارک ٹائمزکے خلاف ہرجانے کا مقدمہ کریں اور جیت کر ان سب کی چھاتیوں پر مونگ دلیں جنہوں نے ایگزیکٹ کی بینڈ بجائی ہے ،اگر یہ نہیں کرسکتے تو پھر چھاتی پر لگا جھنڈااتارڈالیں اور معافی مانگ کر واپس چنیوٹ آجائیں ۔۔۔۔۔


Wednesday, May 20, 2015

MODEL TOWN FIRING CASE'S JIT REPORT


سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جوائنٹ انوسٹی گیشن رپورٹ

حکومت پنجاب کی طرف سے ڈی آئی جی بلوچستان کی سربراہی میں بنائی گئی جے آئی ٹی کی رپورٹ چالان کے ساتھ عدالت میں جمع کرادی ہے جس کو میڈیا میں ریلیز کردیا گیا ہے ۔ اس رپورٹ میں یہ بات کہی گئی ہے کہ گولیاں چلانے کے ذمہ دار صرف جائے وقوع پر موجود پولیس اہلکار تھے

Thursday, May 7, 2015

SOUTHREN PUNJAB AND PAKISTAN


جنوبی پنجاب زیرتعمیرہے۔۔۔۔

 جنوبی پنجاب کی محرومی کا نوحہ کہنے والوں کی حالت اس رنڈی(معذرت کےساتھ) جیسی ہےجورہتی تو ڈیفنس کے دوکنال کے بنگلے میں ہے لیکن اس کو

Monday, May 4, 2015

PAKISTAN'S FORGOTTEN PAST



ایان سے مرزا تک
ہم ہیں پاکستانی۔۔۔۔

ہمیں اپنی حالت،اخلاقی اقداراور ذہنی پستی کا اندازہ لگانے کا روزانہ کسی نہ کسی بہانے موقع ملتا رہتاہے،ہم اس پیمانے پر اپنے آپ کو تولتے بھی ہیں،اپنے اوپر لعن طعن بھی بعض اوقات کرتے ہیں لیکن خود ہی بے بسی کا اظہار کرکے ایسے رویوں کی طرف داری بھی کرجاتے ہیں۔آج ایک خبر نظر سے گزری

Monday, April 13, 2015

LETTER TO MR ANWAR GARGASH, UAE

یواے ای وزیرخارجہ کےنام 

پاکستانی پارلیمنٹ کی طرف سے (گوکہ یہ ایک سمارٹ قرارداد ہے جو اس حکومت کو سعودی عرب افواج بھیجنے سے نہیں روکتی)پہلی مرتبہ ایک ڈھنگ کے فیصلے کے بعد متحدہ عرب امارات کے ڈپٹی وزیرخاجہ جناب محمد انورغرقاش نے اپنے
ٹوئٹر پر ایک دھمکی دی کہ پاکستان کوسعودی عرب کوانکار کرنے پر سنگین نتائج بھگتنا