Friday, July 15, 2022

By Elections in 20 Seats of Punjab Assembly

 

پنجاب کے 20ضمنی حلقوں کی مکمل تفصیلات

10امیدوارایسے ہیں جو2018میں آزاد جیت کر پی ٹی آئی میں شامل ہوئےتھے

بیس میں سے صرف چھ حلقے ایسے ہیں جن کے ایم این ایزکا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے

ایک حلقے کے ایم این اے پیپلزپارٹی سے باقی 13حلقوں کے ایم این ایز پی ٹی آئی سے ہیں

ان تیرہ میں سے تین ایم این اے ایسے ہیں جو منحرف ہیں

پانچ سے چھ سیٹوں پر مقابلہ انتہائی سخ ہے ان میں دولاہوراور باقی جنوبی پنجاب کی سیٹیں ہیں

3حلقے ایسےہیں یہاں پی ٹی آئی نے ن لیگ کے سابق امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے

بیس کے بیس حلقوں میں عمران خان اور مریم نوازنے خود جاکر الیکشن مہم میں حصہ لیا اور جلسے کی

       حلقہ پی پی 7 راولپنڈی 

 

مسلم لیگ ن کے امیدوار: راجا صغیراحمد

پی ٹی آئی کے امیدوار :کرنل (ر) شبیراعوان

2018کے نتائج

ن لیگ کے امیدوارراجا صغیرنے یہ سیٹ دوہزاراٹھارہ میں آزادحیثیت میں 43ہزار3سو63ووٹ لےکر جیتی تھی اور پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے۔

دوسرے نمبرپراس وقت ن لیگ کے راجا محمد علی نے 42ہزار4سو59ووٹ لیے تھے

تیسرے نمبرپرپی ٹی آئی رہی تھی پی ٹی  آئی کےغلام مرتضیٰ ستی نے40ہزار5سو28 ووٹ لیے تھے

چوتھے نمبرپر ٹی ایل پی رہی تھی

اس وقت جیتنے والے راجا صغیرن لیگ کے امیدوارہیں جبکہ پی ٹی  آئی نے اپنا امیدوارتبدیل کیاہے پی ٹی آئی کے امیدوار کرنل شبیرنے پیپلزپارٹی کی طرف  سے 2008کا الیکشن لڑاتھا اور ایم پی اے منتخب ہوئے تھے۔ بعدمیں کرنل شبیر پی ٹی آئی میں شامل  ہوگئے۔

یہ حلقہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 57کے نیچے ہے یہاں پی ٹی آئی کے صداقت علی عباسی ایم این اے ہیں 

2۔۔۔ حلقہ پی پی 83خوشاب ٹو

 

مسلم لیگ ن کے امیدوار: ملک امیرحیرر سانگھا

پی ٹی آئی کے امیدوار  : ملک حسن اسلم

2018 کے نتائج

یہ سیٹ آزاد امیدوارملک غلام رسول سانگھا نے 68ہزار9سو59ووٹ لےکر جیتی تھی بعد میں وہ پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے

اس بار وہ خود الیکشن نہیں لڑرہے بلکہ ان کی جگہ ان کا بیٹا لڑرہا ہے

دوسرے نمبرپرن لیگ کے آصف ملک نے47ہزار6سو84ووٹ حاصل کرکے رہے۔

تیسرے نمبر پرآزاد امیدوار ملک ظفراللہ تھے جنہوں نے 10زاہرووٹ حاصل کیے

پی ٹی آئی اس حلقے میں پانچویں نمبر رہی تھی اور اس نے صرف 8ہزارووٹ حاصل کیے تھے

جبکہ چوتھے نمبر پر ٹی ایل پی آئی تھی

پی ٹی آئی کے امیدواراس ضمنی الیکشن میں اسی حلقے کے ایم این اے ملک عمراسلم کے بیٹے ہیں اس حلقے کا ایم این اے بھی پی ٹی آئی کاہی ہے۔

اس حلقے میں سانگھا خاندان کافی مضبوط ہے اور اس بار بھی کامیابی کا امکان ہے۔

 

3---حلقہ پی پی 90بھکرٹو

 

مسلم لیگ کے امیدوار: سعید اکبر نوانی

پی ٹی آئی کے امیدوار: عرفان اللہ نیازی

2018 کے نتائج

اس حلقے میں سعید اکبر نوانی59350ووٹ لےکر آزاد حیثیت میں کامیاب ہوئےتھے جو بعد میں پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے۔

دوسرے نمبرپرن لیگ کے عرفان اللہ نیازی نے44ہزار ووٹ لیے تھے اب عرفان نیازی ناراض ہوکر لوٹے ہوکر پی ٹی آئی کی طرف سے الیکشن لڑرہےہیں

پی ٹی آئی اس حلقے میں تیسرے نمبرپررہی تھی ۔ پی ٹی آئی کی طرف سے احسان اللہ خان نے 40ہزارووٹ لیے تھے۔

اس بار سعید اکبرنوانی کو سخت مقابلے کا سامنا ہے کیونکہ ن لیگ کا امیدوار ناراض ہوکر پی ٹی آئی کی طرف ہے اور ن لیگ کے ووٹ تقسیم ہونے کا خدشہ بھی ہے۔

سعید اکبر نوانی ترین گروپ کے ترجمان بھی ہیں۔

یہ حلقہ این اے 97میں آتا ہے جس کا ایم این اے بھی پی ٹی آئی کا ثناللہ مستی خیل ہے

 

 

4۔۔۔۔ حلقہ پی پی 97 فیصل اباد ون

 

مسلم لیگ ن کے امیدوار: اجمل چیمہ

پی ٹی آئی کےامیدوار: علی افضل ساہی

اجمل چیمہ سابق صوبائی وزیربھی رہے ہیں

2018کے نتائج

دوہزار اٹھارہ میں اجمل چیمہ نے 42ہزاردوسو73ووٹ لے کرآزادکامیابی حاصل کی اور پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے

دوسرے نمبرپرپی ٹی آئی کے علی افضل ساہی رہے تھے جنہوں نے 37ہزارووٹ لیے تھے

تیسرے نمبرپرمسلم لیگ ن تھی جس کے آزاد علی تبسم نے 35ہزارووٹ لیے تھے۔

اس حلقے میں اس بار علی افضل ساہی کی پوزیشن کافی مضبوط ہے کیونکہ ن لیگ یہاں بھی تقسیم ہے۔ اور پچھلے الیکشن میں بھی علی افضل صرف چھ ہزار ووٹ سے ہارے  تھے۔

یہ حلقہ این اے 101کے نیچے ہے یہاں پی ٹی آئی کے عاصم نذیرایم این اے ہیں ۔ عاصم نذیر بھی منحرف اراکین میں شامل ہیں جنہوں نے استعفیٰ نہیں دیا تھا اور اگلا الیکشن بھی ن لیگ سے ہی لڑیںگے۔

 

5۔۔۔۔حلقہ پی پی 125 جھنگ ٹو

 

مسلم لیگ کے امیدوار:فیصل حیات جبوآنہ

پی ٹی  آئی کے امیدوار: محمد اعظم چیلا

2018 کے نتائج

یہ حلقہ فیصل حیات جبوآنہ نے 50ہزارووٹ لےکرآزاد حیثیت میں جیتاتھا بعد میں وہ پی ٹی ئی میں شامل ہوگئے

دوسرے نمبر پرپی  ٹی آئی کے اعظم چیلا نے 38ہزار4سو61ووٹ لیے تھے

اس حلقے میں اٹھارہ میں بھی ون ٹوون مقابلہ تھا اور جبوآنہ نے بارہ ہزار کی لیڈسے جیتا تھا اٹھارہ میں اس حلقے میں ن لیگ کا امیدوار نہیں تھا اس بات بھی جبوآنہ کی پوزیشن بہتر ہے

اس حلقے میں دوہزار تیرہ میں ن لیگ کے ٹکٹ پر ایم پی اے بننے والے افتخار بلوچ اس بار آزاد حیثیت میں الیکشن لڑرہے ہیں اور انہیں ٹی ایل پی کی سپورٹ حاصل ہے۔

یہ حلقہ بھی پی ٹی آئی کے ایم این اے کے نیچے ہے یہاں سابق وفاقی وزیرپی ٹی آئی کے صاحبزدہ محبوب سلطان ایم این اے ہیں

 

6۔۔۔حلقہ پی پی 127 جھنگ فور

 

مسلم لیگ ن کے امیدوار: مہر اسلم بھروانہ

پی ٹی آئی کے امیدوار :محمد نوازبھروانہ

2018 کے نتائج

دوہزار اٹھارہ میں اس حلقے سے مہر اسلم بھروانہ 27ہزار3سو53ووٹ لے کرآزاد حیثیت میں کامیاب ہوئے تھے

دوسرے نمبر پی ٹی آئی کے محمد  نوازبھروانہ رہے تھے جنہوں نے 26ہزار7سو65ووٹ لیے تھے جیت کامارجن صرف پانچ سوووٹوں کا تھا

اس بار دونوں ہی وہی امیدوار ہیں جنہوں نے اٹھارہ میں مقابلہ کیا تھا بس یہ فرق ہے کہ اسلم بھروانہ آزاد لڑے تھے اب وہ ن لیگ کے امیدوار ہیں

اس حلقے میں ن لیگ کے امیدوارمحمد سلیم طاہر نے صرف 19سو49ووٹ لیے تھے ۔اگر مہراسلم بھروانہ اپنا پورا ووٹ بینک قائم رکھیں اور ن لیگ کے انیس سوووٹ بھی شامل ہوں تب جیت ممکن ہوسکتی ہے ، ویسے مقابلہ انتہائی سخت ہوگا۔

یہ حلقہ بھی پی ٹی آئی کی ایم این اے غلام بی بی بھروانہ کے نیچے ہے۔

 

 

7۔۔۔۔ حلقہ پی پی 140 شیخوپورہ سکس

 

مسلم لیگ کے امیدوار: میاں خالد محمود

پی ٹی آئی کے امیدوار: خرم ورک

2018 کے نتائج

2018میں  اس حلقے میں میاں خالد نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی اور32ہزار8سو62ووٹ لیے تھے

دوسرے نمبرپرمسلم لیگ ن کے یاسر اقبال نے 26ہزار29ووٹ لیے تھے

میاں خالد محمود نے دوہزار دو میں ق لیگ سے پہلی مرتبہ الیکشن لڑاتھا اور ایم پی اے منتخب  ہوئے تھے انہوں نے اٹھارہ میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر لڑااور کامیاب ہوئے تھے

میاں خالد محمود کا تعلق علیم خان گروپ سے ہے

یہ حلقہ این اے 121کے نیچے ہے یہاں ن لیگ کے میاں جاوید لطیف ایم این اے ہیں

اس حلقے میں میاں خالد کی جیت کا امکان ہے

 

8۔۔۔۔ حلقہ پی پی 158 لاہورپندرہ

 

مسلم لیگ ن کے امیدوار: احسن شرافت

پی ٹی آئی کے امیدوار :میاں عثمان اکرم

میاں عثمان اکرم پی ٹی آئی کے سابق وزیرمیاں محمودالرشید کے داماد ہیں

2018کے نتائج

اٹھارہ میں اس حلقے سے علیم خان نے 52ہزار2سو99ووٹ لےکرکامیابی حاصل کی تھی

دوسرے نمبر پرمسلم لیگ ن کے احسن شرافت تھے جنہوں نے45ہزار2سو28ووٹ لیے تھے

اس بار علیم خان الیکشن نہیں لڑرہے اس لیے ٹکٹ مسلم لیگ ن کے سابق ٹکٹ ہولڈر احسن شرافت کو ہی دیا گیا ہے۔ علیم خان ن لیگ کے امیدوارکی سپورٹ کررہے ہیں

پی ٹی آئی کا امیدوآر اس حلقے میں کافی کمزور ہے اس لیے لاہور سے یہ حلقہ میں ن لیگ کی پوزیشن مضبوط ہے

یہ حلقہ مسلم لیگ  ن کے ایاز صادق کے نیچے ہے

 

9۔۔۔۔ حلقہ پی پی 167لاہورچوبیس

 

مسلم لیگ ن کے امیدوار: نذیرچوہان

پی ٹی آئی کے امیدوار: شبیر گجر

2018کے نتائج

اٹھارہ میں اس حلقے میں نذیر چوہان پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئےتھے انہوں نے40ہزار7سو4ووٹ لیےتھے

دوسرے نمبر پر مسلم لیگ ن کے میاں سلیم تھے جنہوں نے38ہزار4سوووٹ لیے تھے

اس بار میاں سلیم نذیر چوہان کی حمایت کررہے ہیں نذیرچوہان کی جیت کے امکان ففٹی ففٹی ہیں کیوں کہ نذیر چوہان کئی قسم کے تنازعات میں شامل رہے ہیں

نذیر چوہان کے مد مقابل شبیر گجرپہلی بارمیدان میں ہیں انہیں ایک پیسے والی پارٹی سمجھ کر ٹکٹ دیا گیا ہے

شبیر گجر کوجوہرٹاون اور نذیرچوہان کوٹاون شپ اور گرین ٹاون کے علاقوں میں برتری حاصل ہے

یہ حلقہ ن لیگ کی ایم این اے شائستہ پرویز ملک کے نیچے ہے یہاں ابھی آٹھ ماہ پہلے ہی الیکشن ہوا تھا جو ن لیگ نے جیتا تھا۔

 

10۔۔۔حلقہ پی پی 168لاہورپچیس

 

مسلم لیگ ن کے امیدوار: ملک اسد کھوکھر

پی ٹی آئی کے امیدوار : ملک نوازاعوان

2018 کے نتائج

اس حلقے سے اٹھارہ کے بعد سعد رفیق نے صوبائی نشست چھوڑی تھی اس پر ضمنی الیکشن ہوئےجو اسد کھوکھرنے پی  ٹی  آئی کے ٹکٹ پر جیتا انہوں نے 17ہزار5 سو79ووٹ حاصل کیے تھے

دوسرے نمبرپرن لیگ کے رانا خالد ایڈووکیٹ تھے انہوں نے 16ہزار8سو92ووٹ حاصل کیے تھے

اس حلقے میں اسد کھوکھر کی پوزیشن مضبوط ہے کیونکہ ان کے مقابلے میں امیدوار نیاہے اوراسد کھوکھرکواپنی برادری اور ن لیگ کی مکمل حمایت حاصل ہے کیونکہ یہ سیٹ خواجہ سعد رفیق نے چھوڑی تھی اور وہ اور ان کے بھائی اسد کھوکھرکی مہم چلارہے رہے ہیں

یہ حلقہ ن لیگ کے خواجہ سعد رفیق اورشائستہ پرویز کے نیچے آتا ہے حلقے میں ن لیگ کوکبھی شکست نہیں ہوئی اب تک

 

11۔۔۔۔ حلقہ پی پی 170 لاہورستائیس

 

مسلم لیگ ن کے امیدوار: امین چودھری

پی ٹی آئی کے امیدوار : ملک ظہیر کھوکھر

2018 کے نتائج

اس حلقے میں امین چودھری نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی انہوں نے25ہزارایک سو80 ووٹ لیے تھے۔ امین چودھری کپتان کے سابق قریبی ساتھی عون چودھری کے بھائی ہیں۔

دوسرے نمبر پر ن لیگ کے عمران جاوید تھے انہوں نے 20ہزار7سو30 ووٹ حاصل کیے تھے

اس حلقے میں پی ٹی آئی  کی پوزیشن کافی بہتر ہے گوکہ ن لیگ کے سابق ٹکٹ ہولڈر عمران جاوید خود مہم چلارہے ہیں لیکن ان کے مدمقابل ملک ظہیر عباس کھوکھرہیں جن کو کھوکھربرادری کی حمایت حاصل ہے

یہ حلقہ پرائیویٹ ہاوسنگ سوسائیتیوں ویلنشیا ، این ایف سی ، واپڈاٹاون جیسے پوش علاقوں پر مشتمل ہے یہاں پی  ٹی آئی کی کافی  اکثریت ہے۔

ملک ظہیرعباس بیت المال کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔

یہ حلقہ بھی ن لیگ کے ایم این اے رانا مبشر کے نیچے ہے

                        

12۔۔۔۔ حلقہ پی پی 202ساہیوال سات

 

مسلم لیگ ن کے امیدوار:ملک نعمان لنگڑیال

پی ٹی آئی کے امیدوار :میجرریٹائرڈ غلام سرور

2018کے نتائج

اس حلقے میں ملک نعمان لنگڑیال نے 57ہزار5سو40ووٹ لےکرپی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی

دوسرے نمبرپرن لیگ کے شاہد منیر رہے تھے انہوں نے 44ہزار3سو49ووٹ لیے تھے

اس حلقے میں ایک تیسرا امیدوار بھی ہے اس کا نام عاد سعید گجر ہے جو پی ٹی آئی کے ٹکٹ کے امیدوار تھے لیکن ٹکٹ میجر غلام سرور کو مل گیا تو وہ ناراض ہوکر آزاد الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں

میجر غلام سرور نے سیاسی کیریئر کا آغاز جماعت اسلامی سے کیا تھا اب وہ پی ٹی آئی سے لڑرہے ہیں

اس حلقے میں ن لیگ کے جیتنے کے امکانات ہیں کیونکہ پی ٹی  آئی کا ووٹ تقسیم ہونے کا خدشہ موجود ہے

یہ حلقہ پی ٹی آئی کےایم این اے مرتضیٰ اقبال کے نیچے ہے

                        

13۔۔۔۔ حلقہ پی پی 217ملتان سات

 

مسلم لیگ ن کے امیدوار: محمد سلمان نعیم

پی ٹی آئی کے امیدوار:زین قریشی

2018کے نتائج

اس حلقے میں سلمان نعیم نے آزاد حیثیت میں پی  ٹی  آئی کے وائس چیئرمین اور سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کو شکست دی تھی انہوں نے35ہزار2سو34ووٹ لیے تھے

دوسرے نمبرپر شاہ محمود قریشی نے 31ہزار 7 سو16ووٹ لیے تھے

ن لیگ کے تسنیم کوثر اکیس ہزار ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پررہے تھے

یہ ملتان کا حلقہ ہے یہاں شاہ محمود قریشی نے اپنی جماعت پر ہی خود کوہرانے کا الزام لگایا تھا اور اب ان کے بیٹے الیکشن لڑرہے ہیں زین قریشی اس وقت ایم این اے بھی ہیں

اس سیٹ پر بھی  سخت مقابلہ ہوگا زین قریشی پر دس ووٹ کے بدلے ایک موٹرسائیکل دینے کاالزام لگاہے جس کا الیکشن کمیشن نے نوٹس بھی لیا  ہے

اس حلقے میں دوبارہ سلمان نعیم کی پوزیشن مضبوط ہے سلمان نعیم جہانگیر ترین کے قریبی سمجھے جاتے ہیں۔

یہ حلقہ پی ٹی آئی کے شاہ محمود قریشی کے نیچے ہے

 

 

14۔۔۔۔ حلقہ پی پی224لودھراں ون

 

مسلم لیگ ن کے امیدوار:زوارحسین وڑائچ

پی ٹی آئی کے امیدوار:عامر اقبال شاہ

یہ حلقہ جہانگیرترین کا آبائی حلقہ ہے اورزوارحسین وڑائچ ترین کے قریبی ساتھی ہیں ان کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے امیدوار عامر اقبال شاہ کا تعلق ن لیگ سے تھا وہ اٹھارہ میں ن لیگ کے امیدوار تھے ان کے والد اقبال شاہ نے جہانگیرترین کے بیٹے علی ترین کو ضمنی الیکشن میں شکست دی تھی لیکن اب وہ ناراض ہوئے ن لیگ سے تو پی ٹی آئی نے انہیں ٹکٹ دیدیا یہ بھی لوٹے ہیں

2018 کے نتائج

اٹھارہ میں اس حلقے میں زوار وڑائچ نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی  تھی انہوں نے 60ہازر4سو82ووٹ حاصل کیے تھے

دوسرے نمبر پر ن لیگ کے عامراقبال شاہ رہے  تھے انہوں نے48ہزارووٹ حاصل کیے تھے

اب بھی یہ دونوں امیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں لیکن ان کی پارٹیاں اب تبدیل ہوچکی ہیں۔ اس لیے صورتحال اس حلقے میں بہت دلچسپ ہے لیکن ترین کا یہ آبائی حلقہ ہے اس لیے وہ پورازور لگارہے ہیں کہ یہاں ناکامی نہ ہو ان کو۔اس حلقے میں ن لیے کے کانجوبرادران کا بھی کافی اثر ورسوخ ہے۔

یہ حلقہ این اے 154کے نیچے ہے یہاں ن لیگ کے عبدالرحمان کانجو ایم این اے ہیں۔

 

15۔۔۔حلقہ پی پی 228لودھراں تھری

 

مسلم لیگ ن کے امیدوار:نذیر احمد بلوچ

پی ٹی آئی کے امیدوار:کیپٹن جاوید خان

جاوید خان 2013میں پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے اور اس سے پہلے یہ بھی ترین گروپ میں شامل  رہے ہیں

2018کے نتائج

اٹھارہ میں نذیر بلوچ نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن  جیتا تھا اور43ہزارایک سو69ووٹ لیے تھے

دوسرے نمبر پرن لیگ کے سید رفیع الدین تھے جنہوں نے 41ہزار ووٹ حاصل کیے تھے

اس حلقے کی خاص بات یہ ہے کہ ن لیگ کے سابق ٹکٹ ہولڈرسید رفیع الدین ن لیگ سے ناراض ہوکر آزاد لڑرہے ہیں یہ بھی ایک مضبوط امیدوار ہیں اس لیے یہاں ن لیگ کی پوزیشن کافی کمزور ہے اور یہ سیٹ ہاتھ سے جاسکتی ہے

یہ حلقہ پی ٹی آئی کے ایم این اے میاں شفیق کے نیچے آتا ہے

 

 16۔۔۔حلقہ پی پی 237بہاولنگرون

 

مسلم لیگ ن کے امیدوار:فداحسین

پی ٹی آئی کے امیدوار:سید آفتاب رضا

2018کے نتائج

اٹھارہ میں فداحسین نے آزاد حیثیت میں الیکشن میں کامیابی حاصل کرکے پی ٹی آئی میں شمولیت کی تھی انہوں نے 56ہزار4سو11ووٹ لیے تھے

دوسرے نمبرپرطارق عثمان رہے جن کا تعلق پی ٹی آئی سے تھا انہوں نے 47ہزار6 سو30ووٹ لیے تھے

اس حلقے میں فدا حیسن کی پوزیشن مضبوط ہے فدا حسین تین مرتبہ اسی حلقے سے مسلسل الیکشن جیت رہے ہیں اور اس بار بھی انہیں کے چانسز ہیں کیونکہ ان کے مدمقابل آفتاب پہلی مرتبہ الیکشن لڑرہےہیں پی ٹی آئی نے اپنے پچھلے امیدوار طارق عثمان کو ٹکٹ نہیں دیا اس لیے وہ ناراض ہیں۔

یہ حلقہ بھی  پی ٹی آئی کے ایم این اے غفار وٹو کے نیچے آتا ہے۔

 

17۔۔۔۔ حلقہ پی پی 272مظفرگڑھ پانچ

 

مسلم لیگ ن کے امیدوار:زہرہ باسط بخاری

پی ٹی آئی کے امیدوار: معظم خان جتوئی

2018کے نتائج

یہ حلقہ بڑا دلچسپ ہے یہاں سے سید باسط بخاری این اے اورپی پی دونوں سیٹوں پر کامیاب ہوئے تھے لیکن انہوں نے قومی اسمبلی کی  سیٹ رکھی اور پنجاب کی  یہ سیٹ چھوڑدی تھی اس سیٹ پر ان کی والدہ نے ضمنی الیکشن لڑا اوروہ جیت گئیں

اس بار انہوں نے اپنی اہلیہ کو الیکشن میں اتاراہے اور خود ان کی انتخابی مہم چلارہے ہیں یہاں تک  کہ کسی اشتہارپر ان کی اہلیہ کی تصویرتک نہیں ہے اہلیہ کی جگہ سید باسط کی اپنی تصاویر ہیں

سید باسط بخاری منحرف ایم این اے ہیں اور حال ہی میں کشمیر  کمیٹی کے چیئرمین منتخب  ہوئے ہیں

اس حلقے میں ان کے بھائی بھی آزاد حیثیت میں الیکشن لڑرہےہیں

اس حلقے میں معظم جتوئی پی ٹی آئی کے امیدوارہیں جو پیپلزپارٹی کے سابق وزیرقیوم جتوئی کے کزن ہیں

اس حلقےمیں کسی پارٹی کا ووٹ نہیں  ہے بلکہ یہاں امیدواروں کا ذاتی اوربرادری کا ووٹ ہے ۔

اس حلقے میں بتول باسط کی جیت کے چانسز زیادہ ہیں۔

 

 

 

18۔۔۔ پی پی 273 مظفرگڑھ چھ

 

مسلم لیگ ن کے امیدوار:سبطین رضا

پی ٹی آئی کے امیدوار:یاسرخان جتوئی

2018کے نتائج

اٹھارہ میں سبطین رضا نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر36ہزار ووٹ لےکر یہ سیٹ حاصل کی تھی اب وہ منحرف ہوکر دوبارہ ن لیگ سے لڑرہےہیں

دوسرے نمبر پرآزاد امیدوار رسول بخش تھے جنہوں نے 26ہزار ووٹ لیے تھے

پی ٹی آئی کے امیدوار یاسر جتوئی اس سے پہلے پیپلزپارٹی میں تھے یہ تیرہ میں پیپلزپارٹی کے ایم پی اے تھے

حلقے میں سبطین رضا کی پوزیشن تھوڑی بہتر ہے کیونکہ پی ٹی آئی کے امیدوار کا تعلق بھی پی ٹی آئی سے نہیں ہے لیکن جتوئی برادری کی سپورٹ انہیں حاصل ہے ۔

یہ حلقہ پیپلزپارٹی کےایم این اے رضا ربانی کھرکے نیچے آتا ہے

 

19۔۔۔ حلقہ پی پی 282لیہ تھری

 

مسلم لیگ ن کے امیدوار:محمد طاہررندھاوا

پی ٹی  آئی کے امیدوار:قیصرعباس مگسی

2018کے نتائج

اٹھارہ  میں طاہررندھاوا نے آزاد حیثیت میں الیکشن جیت کرپی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی انہوں نے 37ہزار6سو7ووٹ لیے تھے

دوسرے نمبر پرپی  ٹی  آئی کے قیصر عباس تھے جنہوں نے 26ہزار9سو92ووٹ لیے تھے

تیسرے نمبرپرن لیگ محمد ریاض تھے جنہوں نے 25ہزار ووٹ لیے تھے

اس حلقے میں پی ٹی آئی کا امیدوار وہی ہے جو اٹھارہ میں تھا۔لیکن قیصر عباس پہلے ن لیگ سے دوبار ایم پی اے رہے ہیں انہوں نے آٹھ اور تیرہ میں ن لیگ  کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے اور جیتے لیکن وہ اٹھارہ میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر لڑے لیکن  ہار گئے

اس حلقے میں طاہررندھاوا کا اپنا ووٹ بینک ہے لیکن ن لیگ کا ٹکٹ محمد ریاض کو نہ ملنے پر مسائل ہوسکتے ہیں

یہ حلقہ پی ٹی آئی کے ایم این اے نیازاحمد جھکڑکے نیچے آتا ہے۔

 

20۔۔۔۔۔ حلقہ پی پی 288ڈیرہ غازی خان چار

 

مسلم لیگ ن کے امیدوار:عبدلقادرخان کھوسہ

پی ٹی  آئی کے امیدوار:سیف الدین خان کھوسہ

2018کے نتائج:

اٹھارہ میں اس حلقے میں محسن عطا کھوسہ آزاد حیثیت میں کامیاب ہوئے اورانہوں نےپی ٹی  آئی میں شمولیت کی انہوں نے 39ہزار3سو96ووٹ لیے تھے

دوسرے نمبر پرپی ٹی آئی کے سیف الدین کھوسہ رہے تھے انہوں نے 30ہزار ووٹ لیے تھے

اس حلقے کے ایم این اے امجد فاروق کھوسہ کا تعلق بھی  پی ٹی آئی سے ہے وہ بھی منحرف ہونے والوں میں شامل ہیں

اس حلقے میں اٹھارہ میں جیتے والے محسن کھوسہ الیکشن نہیں لڑرہے بلکہ ایم این اے امجد  فاروق کھوسہ نے اپنے بیٹے قادر کھوسہ کو ن لیگ کے ٹکٹ پر کھڑا کیا ہے

اس حلقے میں پی ٹی آئی بمقابلہ پی ٹی آئی ہے اور دونوں طرف لوٹے ہیں

سیف کھوسہ سابق گورنر پنجاب ذوالفقار خان کھوسہ کا بیٹا ہے ان کا تعلق ن لیگ سے بڑی دیر تک  رہاہے

اور سیف کھوسہ تو ایک الیکشن پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر بھی لڑ چکے ہیں

اس حلقے میں بڑا تگڑا مقابلہ ہے کیونکہ دونوں طرف کھوسہ برادری کے ےہی امیدوار ہیں، لیکن قادر کھوسہ پہلی بار لڑرہے ہیں اور نوجوان بھی ہیں اور ان کے والد حلقے کے ایم این اے بھی ہیں جس کا فائدہ انہیں ہوسکتا ہے۔

 

Thursday, July 7, 2022

IMRAN RIYAZ Arrested

عمران ریاض کی گرفتاری کیوں؟

سابق وزیراعظم عمران خان صاحب ایک اسٹار تھے اس لیے لوگوں میں ان کی پرستش تک کی فالونگ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں وہ اس فالونگ کو اپنی ذات کے لیے استعمال کرنے کے بھی مرتکب ہورہے ہیں۔ وہ خود نہ خرچ کرتے ہیں نہ اپنے آرام اورسکون میں کسی کو مخل ہونے کی اجازت دیتے ہیں۔ ان کے لیے اسٹیج تیار کیا جاتا ہے تو وہ خطاب کرتے ہیں۔ ان کے لیے کنٹینر تیار کیاجاتا ہے وہ صرف اس پر کھڑے ہوکر ہاتھ ہلاتے ہیں۔ انہوں نے کبھی سختیاں برداشت نہیں کیں۔ وکلا تحریک کے دوران جب ایمرجنسی لگی تو ان کی گرفتاری کا فیصلہ بھی ہوا لیکن وہ گرفتاری کے ڈرسے ایک دیوارپھلانگ کر بھاگ نکلے۔ پھر انہیں کسی سیانے نے مشورہ دیا کہ گرفتاری دیدیں چند دن کی بات ہے آپ اس گرفتاری کو عمربھر اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔پھر ایسا ہی ہوا انہوں نے گرفتاری دی اور تین چاردن بعد رہا ہوگئے۔

اب بھی جب لانگ مارچ کی کال دی تو لاٹھیاں کھائیں اس ملک کے لوگوں نے۔ قربانیاں دیں ان کے کارکنوں نے۔ راوی کے پل سے نیچے گرکرجاں بحق ہوا تو غریب کا بچہ عمران خان اسلام آباد میں رہنے کی بجائے امن کی جگہ کے پی میں چلے گئے وہاں سے ہیلی کاپٹر پرسوار ہوکر پشاور سے مردان تک آئے۔سپریم کورٹ نے ان کا راستہ کلیئرکیا۔ جب عمران خان کی ذات کو قربانی دینے کا وقت آیا تودھرنا دینے کی بجائے چھ دن کا الٹی میٹم دے کر چلتے بنے۔ وہ وقت تھا عمران خان دھرنا دے کر بیٹھ جاتے۔ موسم کی سختی برداشت کرتے۔ پولیس کا سامنا کرتے۔ لوگوں کو دکھاتے کہ میں صرف کہتا ہی نہیں کرتا بھی ہوں لیکن ان کے کارکنوں سمیت سب کو مایوسی ہوئی جب وہ ایک بارپھر فرارہوئے اور وہ چھ دن آج تک نہیں آئے۔

قارئین آپ کو یاد ہوگا کہ پچھلے ہفتے میں نے ایک کالم لکھا تھا جس میں لالہ نعیم ثاقب کی طرف سے لاہور میں ایک سیمینار کا احوال تھا۔ یہ سیمینار ڈیجیٹل سٹیزن کی ذمہ داریوں پر تھا۔ اس سیمنارمیں لالہ نعیم نے صحافیوں اور ڈیجیٹل میڈیا میں کام کرنے والے نمایاں افراد کو موضوع پر بات کرنے کے لیے بلوایا۔ اس سیمینار میں عمران ریاض نے بھی گفتگو کی تھی۔ موضوع تھا کہ ڈیجیٹل اسپیس میں کس طرح ذمہ داری سے بات کی جائے کہ ہمارے ادارے محفوظ رہیں۔ ہم محفوظ رہیں، ہماری ڈیجیٹل اسپیس نفرت اور الزامات سے آلودہ نہ ہو۔عمران ریاض نے اپنی سوچ اور نظریات کے مطابق گفتگو کی وہ گفتگو وائرل ہوئی اور اسی ویڈیو پر ان کے خلاف مقدمہ درج ہوا اوران کو منگل کی رات گرفتار کرلیا گیا۔

عمران ریاض ایک صحافی ہیں۔ان کواپنی بات کہنے کا حق ہے اس کا احترام بھی ہونا چاہئے لیکن بات کہنے کی آزادی بھی تو ہمارے آئین کے مطابق کچھ ذمہ داریوں کے ساتھ ہے۔ ہم آزادی مانگتے ہیں لیکن ذمہ داریوں کو قبول نہیں کرتے جس سے سارا بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ اس وقت ملک آزاد ہے۔ اس میں خرابیاں ہیں۔ شاید زیادہ خرابیاں ہوں اوراچھائیاں کم ہوں۔ لیکن ایسا بالکل نہیں ہے کہ صرف خرابیاں ہی ہیں۔ اور نہ اس وقت کوئی اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی لڑی جارہی ہے کہ سب صحافی   ایکٹوسٹ ہی بن جائیں۔ عمران خان کوکسی نے سازش سے نکالا ہے تو اس کے لیے انتظار کیا جاسکتا ہے سال بعد دوبارہ الیکشن ہوں گے لوگ ان کو دوبارہ اقتدار میں لے آئیں گے۔ کیا اس کی آڑ میں اس ملک میں آگ لگادی جائے؟کیا اداروں کو تباہ کردیا جائے؟میں یہ نہیں کہتا ہے کہ ہماراادارہ بھی سب ٹھیک ہی کررہا ہوگا۔ ان کی طرف سے بھی خرابیاں ہیں ان کو ایسے معاملات میں نہیں آنا چاہئے لیکن انتہا پسندی تودونوں طرف ہے۔

عمران ریاض صاحب ذاتی طور پر بہت اچھے انسان ہیں انہوں نے اس مقام تک پہنچنے کے لئے محنت بھی کی ہے لیکن ان کوعمران خان کی حکومت جانے کو انا مسئلہ نہیں بنانا چاہئے ۔سابق وزیراعظم عمران خان،جنہوں نے یہ آزادی اور حقیقی آزادی کا نعرہ مارا ہے وہ خود گرفتاری کے ڈر سے پشاور جاکر بیٹھ جاتے ہیں، ضمانتیں کرواتے ہیں لیکن ان کے بیانیے کو آگے چلانے والے ایسی باتوں کا خیال کیوں نہیں رکھتے کہ صحافی ہوں یا عام شہری ذمہ داری پہلے ہے۔ یہ ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے۔نفرت جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی ہے اس لیے ذمہ داری اور بھی زیادہ اور گہری ہوجاتی ہے۔ اور پھر اگر بڑے صحافی ہیں لوگ آپ کوسنتے اور دیکھتے ہیں پھر تو اور بھی زیادہ ذمہ داری بنتی ہے۔

ہماری تقسیم کی وجہ سے بھی ہم کمزورہیں۔ صرف صحافت تقسیم نہیں ہے۔ سیاست بھی تقسیم ہے۔ معاشرہ بھی تقسیم ہے۔ صحافت اورایکٹوسٹ کے درمیان بہت ہلکی سی لکیر ہوتی ہے آپ اس لکیر کو جب تک مٹنے سے بچائے رکھیں گے آپ صحافی کہلائیں گے جب آپ نے یہ لائن کراس کرلی پھر آپ کسی سیاسی جماعت کے کارکن لگیں گے۔ مجھے عمران ریاض کے حالیہ طرز صحافت سے اختلاف ہے لیکن ان کی ہتھکڑی لگی تصویر بہت تکلیف دہ لگی۔ ہمیں ایک پرامن معاشرے کی ضرورت ہے۔ برداشت کی ضرورت ہے۔ عمران خان صاحب سے درخواست ہے کہ حکومت دوبارہ مل سکتی ہے یہ معاشرہ اورملک دوبارہ ملنا مشکل ہوگا۔ خدارا برداشت۔۔برداشت اور صرف برداشت۔۔صحافیوں کیخلاف ایسی کارروائیوں کی بحث اوراس کوختم کرنے کی جدوجہد لمبی ہے لیکن ویگوڈالے، اغوااورتشدد سے پولیس کے ذریعے گرفتاری اور عدالت میں پیشی بحرحال بہتر ہے. 

ایک بات اور کہ اگر عمران ریاض نے کچھ غلط کیا ہے تو اس کو سزا دینے کے لیے ایک ایف آئی آر کافی ہوسکتی تھی یہ پورے پنجاب میں بیس مقدمات درج کرنے کی کیا ضرورت تھی اس کے علاوہ یہ بھی حقیقت ہے کہ صحافیوں کے خلاف غداری کے مقدمات سے پہلے کبھی مسئلہ حل ہوا ہے نہ اس بار ہوگا. دونوں طرف سے تحمل اور عقلمندی لازمی ہے ۔

Wednesday, June 8, 2022

EDEN Housing Society Fraud

 

ایڈن ہاوسنگ متاثرین بنام نیب


چھ جون بروز پیر کو صبح ساڑھے آٹھ بجے لاہورکی احتساب عدالت پہنچا توعدالت کے بیرونی دروازے پرایڈن ہاوسنگ سوسائٹی کے فراڈ کے متاثرہ گیارہ ہزار خاندانوں کے نمائندوں کی بڑی تعداد سرکار، نیب، ایڈن کے مالکان اور عدلیہ کا نوحہ پڑھ رہے تھے۔ جون کی گرمی اس قدررنگ دکھارہی تھی کہ صبح کے نو بجے ہی سورج سوا نیزے پر آکر چہروں کو جھلسارہا تھا۔ متاثرین میں بڑی تعداد میں خواتین، بیوہ، بچے اور ادھیڑ عمر کے ساتھ ساتھ عمررسیدہ افراد بھی شامل تھے۔ ان متاثرین کے صبر اور بے بسی نے اب شدید غصے کا روپ دھارلیا تھا۔ آج ایڈن کے فراڈیوں کے نیب ریفرنس کی آخری سماعت تھی  جس میں جج صاحب نے ایڈن کے مالکان اور نیب کے درمیان ملی بھگت سے طے پانے والی پلی بارگین کی منظوری دینی تھی۔ متاثرین عدالت کے احاطے میں جانے کے لیے کبھی گیٹ ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کے ترلے کرتے تو کبھی غصے میں آکر ان کو ہی بددعائیں دینے لگ جاتے۔
افتخارچودھری،سابق چیف جسٹس
ایڈن کے فراڈیوں کے خلاف نیب کا کیس تو دوہزار انیس میں شروع ہوا لیکن یہ فراڈ تیرہ سال پرانا ہے ان تیرہ سالوں میں ایڈن کے ڈاکووں نے غریبوں کوپلاٹ اورگھر دینے کے بدلے اربوں روپے جمع کیے لیکن جب زمین دینے کی باری آئی تو یہ پیسا لے کر ملک سے بھاگ نکلے، ان لوگوں نے دبئی میں جاکر انہی پیسوں سے زمینیں خریدیں اپنے کاروبار بڑھائے اورپیچھے متاثرین کی ایک بے بس فوج اس پاکستان میں چھوڑ گئے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس ملک میں انصاف عام آدمی کے بس کی بات ہی نہیں ہے۔پھر وہ فراڈ کرتے بھی کیوں نہ کہ  انہیں اس ملک کے طاقتور وں کی مکمل پشت پناہی جو حاصل تھی۔ایڈین ہاوسنگ کا فراڈ پاکستان میں پیسے، اقتدار اور عدلیہ کے گٹھ جوڑ کی کہانی ہے۔آپ یہ جان کر حیران نہیں پریشان ہوں گے کہ ایڈن کے مالک ڈاکٹر امجد نے اس وقت اپنے بیٹے کا رشتہ ملک کے حاضرسروس چیف جسٹس افتخارمحمد چودھری کی بیٹی سے طے کیا جب یہ فراڈ جاری تھا۔ اس کیس میں متاثرین کے ہاتھ اس لیے بھی کچھ نہ آسکا کیونکہ جب نیب نے ریفرنس فائل کیا تو سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کے داماد اور ایڈن کے مالک ڈاکٹر امجد کے بیٹے مرتضٰی امجد کو انٹرپول کے ذریعے دبئی میں گرفتار کیا لیکن افتخار چودھری کے دباو میں پاکستان کی ماتحت عدلیہ نے دبئی میں موجود اس مجرم کی یہاں لاہور میں ضمانت منظورکرلی۔ اس کے بعد وہ فراڈیا داماد کسی کے ہاتھ آیا اور نہ اس ملک کی عدلیہ نے اپنے سابق چیف جسٹس کو پوچھنے کی ہمت کی کہ جس دامادکی آپ نے اس کی غیرموجودگی میں ضمانت کروائی تھی وہ عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوا؟

میں ان روتے سسکتے اورغصے میں سب کو بددعائیں دیتے متاثرین کو دیکھتا ہواعدالت کے احاطے میں داخل ہوا۔ سوچ بھی رہا تھا کہ اندر جج صاحب نے کرنا تو آج بھی کچھ نہیں۔ نیب جو پلی بارگین  کی پرچی لائے گا اس پر مہر ہی لگانی ہے تو پھر کیا فرق پڑتا ہے کہ باہرسخت دھوپ میں سلگتے ان متاثرین کو عدالت کے اندرآنے کی اجازت دے دی جاتی تاکہ ان کو یہ سکون تو ہوتا کہ جج صاحب کو ہی ایک بار دیکھ لیتے کہ ان کی قسمت کا فیصلہ کرنے والا دکھتا کیسا ہے؟ شاید جج صاحب ان کو دیکھ کر کوئی میٹھا اور ہمدردی کا بول بول دیتے تو ان کی تکلیف ہی تھوڑی کم ہوجاتی لیکن یہ سب سوچنے کی باتیں ہیں سو میں نے بھی سوچ لیں اور عدالت کی طرف بڑھ گیا۔

مجرمہ انجم امجد
ایڈن بنام نیب یہ کیس احتساب عدالت نمبر چار میں جج صاحب  شیخ سجاد احمد کے پاس لگاہوا تھا۔ میں نے دروازے پر لگا روسٹردیکھا تو سب سے اوپر ایڈن کا کیس تھا جس میں مجرمہ اور ڈاکٹر امجد کی بیوہ انجم امجد کی ضمانت قبل از گرفتاری کا عنوان درج تھا۔اس روسٹر پر کل نو مقدمات درج تھے۔ میں عدالت کے اندر پہنچا تو سوا نو بجے کا ٹائم تھا لیکن جج صاحب کی کرسی خالی تھی احساس ہوگیا کہ کسی کو انصاف دینے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔وقت کی پابندی کتابوں میں ہوتی ہے یا پھر بالی ووڈ کی فلموں میں۔ عدالت کے اندرچند ہی لوگ تھے کیونکہ کسی کو اندر آنے کی اجازت ہی نہیں ملتی۔ کمرے میں جولوگ تھے وہ بھی اسی طرح کی مصیبتوں کے مارے ہی لگ رہے تھے۔ کوئی ڈبل شاہ کا ڈسا ہوا تھا تو کوئی ایڈن کا۔ میں نے عدالت میں دیکھا تو ایک کونے میں مجھے مجرمہ ڈاکٹر انجم امجد بیٹھی دکھائی دی۔ سفید رنگ کی بڑی چادر اوڑھ رکھی تھی  اور منہ پر این نائٹی فائیو ماسک لگارکھاتھا۔ اس کی آج  عبوری ضمانت کا کیس تھا لیکن مجھے اس کی آنکھوں میں گرفتاری کا کوئی خوف نظر نہیں آیا شاید اس کو یقین تھا کہ عدالت میں صرف کاغذی کارروائی ہی ہونی ہے۔ کیونکہ اسی مجرمہ کو اسی معزز عدالت سے پچھلے چھ ماہ سے ضمانت میں توسیع پر توسیع مل رہی تھی۔

یہ وہی ڈاکٹر انجم امجد ہیں جس کو چودھری پرویز الہی نے دوہزار دومیں پنجاب اسمبلی کی ایم پی اے بنایا تھا کیونکہ موٹی پیسے والی پارٹی تھی۔ لینڈ مافیا سے تعلق بنایا اور پھرمبینہ طورپر اپنے بیٹے مونس الہی کو ان کے ساتھ اسی کام پر لگادیا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ چیف جسٹس افتخار چودھری کے ہی زمانے میں ایک ای اوبی آئی کرپشن کیس آیا تھا۔ اس کیس میں بھی ایڈن ملوث تھا اور مونس الہی کا نام بھی تھا۔ افتخار چودھری نے فوری اس کیس کاسو موٹو لیا۔ ای او بی آئی  کے اس کرپشن کیس سے کچھ رقم کی واپسی کے عوض ایڈن اورمونس الہی دونوں کو نکال باہر کیا تھا اور گرفتار ہواتھا پیپلزپارٹی کے وزیرنذرمحمد گوندل کا بھائی۔ اس وقت ان کو بچایا توان کا گٹھ جوڑ افتخارچودھری سے اور گہرا ہواجوبیٹی کے رشتے پراختتام پذیر ہوا۔ آج متاثرین صرف ایڈن کو ہی اپنا مجرم نہیں سمجھتے ان کے نزدیک افتخار محمد چودھری ان کی عدلیہ اورنیب سب مجرموں کی قطار میں کھڑے ہیں کیونکہ نیب نے بھی انہی مجرموں کا ہی کیس لڑا۔ 

نیب نے جب ریفرنس بنایا تھا دوہزار انیس میں تو متاثرین سے لوٹی رقم کی واپسی کے لیے پچیس ارب روپے کی کرپشن کا الزام لگایا تھا اور ریفرنس میں درج کیا تھا کہ ایڈن کی جائیدادوں کی قیمت پچیس ارب ہے یہ بیچ کر رقم متاثر ین کو اداکی جائے گی۔ آج تین سال بعد نیب نے ایڈن والوں سے مل کروہ رقم مارکیٹ ویلیو کے حساب سے بڑھانے کی  بجائے کم کرکے سولہ ارب روپے کردی۔ جج صاحب نے سوال کیا کہ ریفرنس تو 25ارب کا تھا پلی بارگین 16ارب کی کیوں؟ اس پر نیب کے پراسیکیوٹراسداللہ نے کیا سادگی سے جواب دیا کہ سر اس وقت ہم نے اندازہ لگایا تھا کہ اگر ان زمینوں کی ڈویلپمنٹ مکمل ہوجائے ایل ڈی اے اجازت دیدے تو ان کی قیمت پچیس ارب ہوگی  لیکن اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سولہ ارب نکل آئیں تو بھی ٹھیک ہے۔ متاثرین کے ایک نمائندے نے کہا کہ مائی لارڈ تین سال بہت زیادہ ہیں پیسوں کی واپسی کا دورانیہ کم کردیں ہم پہلے ہی تیرہ سال سے چھت کے لیے ذلیل ہورہے ہیں اس پر جج صاحب نے کہا آپ جتنا چاہیں احتجاج کرلیں میں نے تو قانون کو دیکھنا ہے۔اس پر میرے جیسے ایک بندے کے ذہن میں سوال اٹھا کہ مائی لارڈ جان کی  امان پاوں توعرض کروں کہ آپ قانون کے پابند ہیں۔ یہی قانون کہتا ہے کہ اس مجرمہ کو گرفتارہونا چاہئے تھا لیکن جناب اس مجرمہ کو مسلسل ضمانت دیے جارہے ہیں۔ قانون کہتا تھا کہ اس کا شوہرجو مرکزی مجرم تھا۔ جس کو موت کے وقت سکون کا جنازہ بھی نہیں نصیب ہوسکا۔ اس کاجنازہ بھی پولیس کے پہرے میں پڑھا یا گیا اس شخص کو بھی جیل میں مرنا چاہئے تھا لیکن قانون نے خوب نرمی دکھائی۔اسی قانون سے راستے نکالے گئے۔

جاوید اقبال، سابق چیئرمین نیب
جج صاحب نے نیب سے چند سوال کیے اوراٹھ کرچلے گئے جس پر عدالت میں موجود سب نے یہی اخذکیا کہ کیس ختم ہوگیا ہے۔ میرے لیے حیران کن ہی تھا کہ جج صاحب کوئی حکم نہیں سناکرگئے۔اس کے بعد عدالت خالی ہوگئی اوراس دن کی عدالت بھی اختتام کو پہنچ گئی۔ مجرمہ انجم امجد کو متاثرین سے بچاکر پروٹوکول میں چور راستے سے باہر نکال کر گھربھیجا گیا۔ ان لوگوں نے متاثرین کے اربوں روپے تیرہ سال تک استعمال کیے۔ اس رقم کیساتھ کاروبار کیے پراپرٹی بنائی  اور جو نیب کے ذریعے متاثرین کو تین سالوں میں واپس کرنے پر راضی ہوئے ہیں وہ ان متاثرین سے ہتھیائی گئی رقم کا منافع بھی نہیں ہوگا۔اس طرح اس ملک میں مافیاز کام کرتے ہیں۔

میں واپس نکلا تو متاثرین شدید غصے میں نعرے لگارہے تھے۔وہ اس پلی بارگین کی رقم اورواپسی کی مدت سے بالکل بھی مطمئن نہیں تھے لیکن اب فیصلہ ہوچکا تھا۔ اس فیصلے میں نہ پیسے دینے والے متاثرین کو شامل کیا گیا نہ ان کی سنی گئی۔ نیب نے اس پلی بارگین کو اپنی فتح قراردیتے ہوئے ٹی وی چینلزکو خبرجاری کردی کہ متاثرین کیلیے بڑی خوشخبری۔ نیب نے تاریخ کی سب سے بڑی پلی بارگین کرلی۔میں سوچتا رہ گیا کہ کیسے نیب کے ریفرنس اربوں سے شروع ہوکر کروڑوں پر ختم ہوتے ہیں۔



Saturday, July 31, 2021

WHO WILL BE THE PRIME MINISTER OF AZAD KASHMIR

 

کون بنے گا وزیراعظم؟

کون بنے گا آزادکشمیر کاوزیراعظم یہ ہے وہ ملین ڈالر سوال جس کا جواب صرف کشمیری ہی نہیں، کشمیر میں جیتنے والے اراکین ہی نہیں ، تحریک انصاف ہی نہیں بلکہ پورا پاکستان جاننے کو بے قرارہے۔کشمیر کے وزیراعظم کےلیے  پیسہ دیکھا جائے گا، شہرت معیار بنے گی  یا کسی متحرک سیاسی رہنما کا انتخاب کیا جائے گا۔ فیصلے میں روحانیت غالب آئے گی،ستاروں کی چال کو پرکھا جائے گا ،علم االاعداد سے مدد لی جائے گی،کسی کا نام ہی  اس عہدے کی ضمانت بن جائے گا  یا  پھرعقل اور دماغ کی  سنی جائے گی ۔سیاسی تجربہ دیکھا جائے گا۔لیڈرشپ کی کوالٹی کو سامنے رکھا جائے گا۔ اس کا ماضی پرکھا جائے گا، مستقبل کا وژن دیکھا جائے گا ۔  طاقتور لابی کوخوش کیا جائے گا یا کشمیر میں سیاسی مقبولیت کو سامنے رکھا جائےگا۔ یہ سب سوالات ہیں ،خدشات اورکہی سنی کہانیاں ہیں۔پہلے تین شخصیات اس دوڑ میں شامل تھیں تینوں کے انٹرویوبھی کیے گئے  لیکن پھر

سلطان محمود

خبریں آئیں  کہ ستارے کچھ اور چال کو چلتا دیکھ رہے ہیں ۔ اس چال کو سامنے رکھتے ہوئے  حلقہ تیرہ اور اٹھارہ سے کامیاب دوارکان کو ہیلی کاپٹرکی سواری کے لیے چنا گیا ۔ اقتدار کا ہما ان دومیں سے کسی عدد کے سرپر بیٹھے گا ، پہلے سے دوڑ میں شامل کسی کو منتخب کیا جائے گا  یا پھر عثمان بزدار کی طرح کسی ایسے شخص کاانتخاب کرلیا جائے گا جس نے خود بھی کبھی وزیراعظم بننے کے بارے سوچا تک نہ ہو۔ کون ہوگا وزیراعظم اس کا فیصلہ تو عمران خان ہی  کریں گے کیونکہ وزیراعظم کا انتخاب ان کا ہی استحقاق ہے۔
سردارتنویرالیاس

عمران خان کا استحقاق ہے وہ چاہیں تو پنجاب کی طرح بڑے بڑے برج خود الٹ کر رکھ دیں۔ کسی بھی دھڑے کو خاطر میں نہ لائیں۔ سب امیدواروں کے نام پر لکیر پھیر دیں اورعثمان نزدار کی طرح کسی غیرمعروف  اور کمزورترین شخصیت کو اقتدار سے نوازدیں ۔ عمران خان کا ماضی تو یہی بتاتا ہے کہ وہ اگر کسی کو وزیراعظم بنانے پر متفق ہیں تو وہ صرف ان کی اپنی ذات ہے  اور جب ان کی باری آئی تھی تو انہوں نے خود کو فوری نامزد کرلیا تھا۔

خواجہ فاروق

آزاد کشمیر میں بھی زیادہ چانسز یہی ہیں کہ کسی غیر معروف اور بے ضررشخصیت کو سامنے لایاجائے  تاکہ کشمیر میں بھی وہی حکومتی ماڈل بنایاجائے جو پنجاب میں ہے، وہی ماڈل جو خیبرپختونخوا میں ہے۔ وہی ماڈل جو گلگت بلتستان میں ہے۔تاکہ تمام صوبے اور علاقے یکساں ترقی کریں سب ہی عمران خان کی طرف دیکھیں اورفیصلوں میں اپنی سوچ اور فیصلوں کو کم ہی موقع دیں۔

 

 


Sunday, June 6, 2021

I AM MEDIA

 


میں میڈیا ہوں



اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش۔۔

اس ناراضگی کی وجہ یہ ہے کہ  میں میڈیا ہوں۔ لوگوں کو خبر دینا میرامشن ہے۔ خبروں کا تجزیہ کرنا میراکام ہے لوگوں کو جھوٹ اور سچ کا فرق بتانا میری ڈیوٹی ہے۔ میں عوام کو اس ملک میں ہونے والےاچھے یا برے کاموں کی خبر دیتاہوں۔ انہیں ہیروزاور ولن کی اصلی پہچان بتاتاہوں ۔ بے آواز کی آواز بنتاہوں۔کمزورکاساتھ دیتاہوں ۔ظالم کا ہاتھ پکڑتاہوں۔ظلم کے سامنے دیوار بن جاتاہوں ۔ طاقتوروں کو بے نقاب کرتاہوں ۔ معاشرے کو اچھائی کی تبلیغ کرتاہوں۔ آگاہی دیتاہوں۔ رائے دیتاہوں کیونکہ میں میڈیاہوں ۔

مجھ سے کبھی کوئی خوش نہیں ہوتا۔ ہرکسی کو شکوہ رہتا ہے کیونکہ ہر کوئی اپنی مرضی کا سچ میرے منہ سے سننا چاہتاہے۔ ہرکوئی مختلف طریقوں سے مجھے دبانا چاہتا ہے ۔کبھی  سخت قوانین سے تو کبھی دھونس  سے کبھی دھاندلی سے اور کبھی پیسے اورلالچ سے ۔جب دھونس دھاندلی کام نہ کرے تو پیسا زبردست ہتھیار بن جاتا ہے مجھے دبانے کا۔ یہ پیسا اشتہاروں کی شکل میں بھی ہوسکتا ہے اور براہ راست میڈیا کےلیے کام کرنے والوں کو بھی ۔

حکمرانوں کو تو میں ہمیشہ ہی زہرلگتاہوں کیونکہ ان کی نااہلیوں ،کمزوریوں اورغلط پالیسیوں کا پردہ چاک کرتاہوں۔ اپوزیشن کی آنکھوں کا تارابنتاہوں۔ اپوزیشن مجھے اپنی آواز سمجھتی ہے۔ اپوزیشن مجھے اپنا ساتھی سمجھتی ہے۔ اپوزیشن مجھے ناگزیرسمجھتی ہے۔  لیکن یہی اپوزیشن جب حکومت بناتی ہے تو اس کی رائے میرے بارے میں رائے  یکسر بدل جاتی ہے پھر اس کو ٹاک شوزاچھے نہیں لگتے پھر وہ اخبارات نہ پڑھنے اور پروگرام نہ دیکھنے کے مشورے دیتے ہیں ۔ حکومت میں آتے ہی اس کو ٹی وی کا مائیک برالگنے لگتاہے۔ اس مائیک میں سے آنےوالی عوام کی آوازناگوارگزرتی ہے۔ کیونکہ میں میڈیاہوں۔

میرے اندر رنگ رنگ کے لوگ ہیں ۔ کچھ اچھے کچھ برے  کچھ بہت ہی اچھے اورکچھ بہت ہی برے ۔ کچھ طاقت کے لیے میڈیا میں آتے ہیں اور کچھ شہرت کےلیے ۔ کچھ پیسا بنانے آتے ہیں اور کچھ حقیقی طورپر معاشرے کی خدمت کےلیے آتے ہیں ۔ حامد میر بھی میڈیاہے۔ عاصمہ شیرازی بھی عزیزمیمن بھی میڈیا ہے اورحیات اللہ ، موسی خان خیل بھی میڈیاہے ۔ابصارعالم بھی میڈیا ہے۔ اسد طوربھی میڈیا ہے ۔مطیع اللہ جان اوراعزازسید بھی میڈیا ہے ۔ احمد نورانی  بھی میڈیا ہے  اور صابر شاکر بھی میڈیا ہے ۔ ارشد شریف بھی میڈیاہے ۔ عارف حمید بھٹی اور ارشاد بھٹی بھی میڈیا ہے ۔ شفایوسفزئی  بھی میڈیا ہے،معید پیرزادہ بھی تومیڈیا ہے اورسمیع ابراہیم بھی میڈیا ہے ۔  آپ ان کی رائے سے اختلاف کرسکتے ہیں ۔ دل کھول کر اختلاف کرسکتے ہیں ۔ ان کو حقائق سے جھٹلاسکتے ہیں ۔ منطق سے لڑسکتے ہیں ۔ اور برداشت سے  برداشت بھی تو کرسکتے ہیں ۔

میرے یہاں سب کچھ اچھا   نہیں ہے۔موقع کا فائدہ اٹھا کر کچھ غلط لوگ بھی یہاں گھس آئے ہیں وہ  اپنی ذات کےلیے، بلیک میلنگ کے لیے پیسابنانے اورطاقتوروں کو خوش کرنے کےلیے بھی مجھے استعمال کرتےہیں۔ایسے لوگوں کا احتساب ضروری ہے لیکن لڑائی جھگڑا،مارپیٹ اور تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ۔ میں اس ملک کے لیے ضروری ہوں، جمہوریت کےلیے ضروری ہوں،معاشرے کے لیے ضروری ہوں کیونکہ میں میڈیا ہوں۔۔اب حکومت میڈیا اتھارٹی کے نام پر ایک سخت قانون بناناچاہتی ہے   ایسا قانون میری خدمت نہیں ہے ۔ شاید پھر کوئی حکمران مجھے کنٹرول کرنے کی خواہش میں مبتلا ہے لیکن میں کبھی کسی طاقتورسے ۔کبھی کسی آمر سے کنٹرول ہوا ہوں اور نہ کسی جمہوری لیڈرسے کیونکہ میں میڈیا ہوں ۔