Tuesday, June 12, 2012

Arsalan Case.Malik Riaz statment in SC


 ارسلان افتخار کیس۔۔۔ملک ریاض کا جواب سپریم کورٹ میں جواب


ملک ریاض کی طرف سےسپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے  تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ ارسلان  افتخار اور ان کی فیملی پر ان کے گزشتہ تین سالوں میں کل چونتیس کروڑ پچیس لاکھ ایک سو پچیس روپے خرچ ہوئے۔


ارسلان افتخار کے لندن کے تین دوروں پرڈھائی کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے گئے پہلے دورہ پر88لاکھ60ہزار دوسرا دورہ بھی لندن کا تھا جس  ہوٹل کا خرچہ 6لاکھ روپے کے قریب آیا ،تیسرے دورے پر 59لاکھ روپے خرچ کیے گئے جبکہ ارسلان افتخار کو مختلف مواقع پر 32کروڑ25لاکھ 1254روپے نقد دیے گئے اس طرح ان پر خرچ کی گئی کل رقم34کروڑ35 لاکھ روپے کے قریب بنتی ہے  


۔ ارسلان افتخار اور احمد خلیل نے پچیس جولائی دو ہزار دس کو مونٹی کارلو کا دورہ کیا۔ مونٹی کارلو میں ارسلان کے ساتھ ایک خاتون بھی تھیں۔ خاتون کی ٹکٹ ہم نے خریدی لیکن خاتون کی شناخت نہیں بتائی گئی۔ چار ہفتوں کے لئے رینج روور گاڑی بھی کرائے پر لے کر دی۔ جواب میں کہا گیا ملک ریاض کا کہنا ہے سپریم کورٹ اور اس کے تمام ججز کا احترام کرتا ہوں۔ معاملے میں کسی کا بنیادی حق متاثر ہونے کا سوال نہیں اٹھتا۔

 تحریری جواب میں کہا گیا ارسلان نے فراڈ اور بدعنوانی کی جو نیب قانون کے زمرے میں آتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سارا معاملہ سپریم کورٹ کے خلاف کسی قسم کی سازش نہیں ہے بلکہ انہوں نے اپنے آپ کو درپیش مسائل کی وجہ سے یہ معاملہ اٹھایا ہے ارسلان چیف جسٹس کا بیٹا ہونے کا فائدہ اٹھاتا رہا اور میرے داماد کو بلیک میل کرکے رقم اینٹھتا رہا۔اس سارے معاملے میں حکومت کی کوئی شخصیت یا خفیہ ادارے کا کوئی اہلکار ملوث ہے اور نہ وہ یہ قدم کسی کی شہہ پر اٹھارہے ہیں۔

Monday, June 11, 2012

MEMO comission case hraing from tomorrow



میمو کیس کی سماعت کےلیےسپریم کورٹ کا 9رکنی بینچ تشکیل

سپریم کورٹ نے میمو کیس کی سماعت کے لیے نو رکنی بینچ تشکیل دیدیا ہے جو 
کل سے کیس کی سماعت کرے گا۔

سپریم کورٹ کانورکنی بینچ چیف جسٹس افتخار محمدچوہدری، جسٹس میاں شاکراللہ جان، جسٹس جواد ایس خواجہ، جسٹس خلجی عارف حسین، جسٹس طارق پرویز،جسٹس آصف سعید کھوسہ،جسٹس امیرہانی مسلم، جسٹس اعجاز چوہدری اور جسٹس عظمت سعید پرمشتمل ہوگا

سپریم کورٹ میں میموکی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے 4 ماہ سے زائد عرصہ پر محیط تحقیقات کے بعد اپنی رپورٹ پچھلے ہفتے سپریم کورٹ میں جمع کروائی تھی جس کے بعد سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کےلیے ایک نو رکنی لارجر بینچ بنا دیا ہے  جس کی سربراہی خود چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار چودھری کریں گے ۔میمو کے مرکزی فریق حسین حقانی سپریم کورٹ سے مہلت لے کر امریکا گئے تھے لیکن سپریم کورٹ کی طرف سے بنائے گئے میمو کمیشن کے طلب کرنے پر پاکستان نہیں آئے تھے جبکہ دوسرے فریق منصور اعجاز کمیشن کے سامنے لندن میں پیش ہوتے 
 کے سامنے لندن میں پیش ہوتے رہے۔

Saturday, June 9, 2012

Arsalan Iftikhar,statment to supreem court



فیملی گیٹ۔۔۔۔۔ارسلان افتخار کا سپریم کورٹ کوتحریری بیان



چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ملزم بیٹے افتخار ارسلان چودھری نے بحریہ ٹاؤن کی طرف سے رقم وصول کیےجانے کے الزام میں اپنا بیان سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا ہے ،ملک ریاض سے مبینہ طورپر پیسے لینے کےخلاف ازخودنوٹس کیس میں جواب دائر کرتے ہوئے ڈاکٹرارسلان نے موقف اختیارکیاہے کہ ان کے خلاف الزامات بے بنیادہیں۔ ملک ریاض عدالتی احکامات کے باوجود نہ ہی عدالت پیش ہوئےنہ ہی ان کے خلاف کوئی ثبوت پیش کیا۔ ملک ریاض کی طرف سے متضاد موقف دینے پر اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔مجھ سے منسوب میڈیاکی اطلاعات غلط ہیں۔میرا بیان صرف وہی تسلیم کیاجائے جو عدالت میں دیا۔میڈیا کےذریعےلگائےگئے الزامات کی تردید کرتاہوں۔اینکرپرسنز کی طرف سے عدالت 
میں بیانات ملک ریاض کے بیان پر مبنی ہیں۔


جیو ٹی وی کے اینکر پرسن کامران خان نے اپنا بیان بدلا اور عدالت میں دیے گئے بیان اور اپنے پروگرام میں بیان کیے گئے حقائق میں واضح تضاد پایا جاتا ہے اسی طرح حامد میر نے بھی عدالت میں اور بیان دیا جبکہ پروگرام میں اور باتیں کیں۔

سپریم، کورٹ میں جمع کروائے گئے بیان میں ارسلان افتخار نے کہا کہ ملک ریاض کی جس بیٹی اور داماد کی طرف سے ان کی پیمنٹس کرنے کا بتایاجارہا ہے وہ نہ ان کے نام جانتے ہیں ،نہ کبھی ان سے ملے ہیں اور نہ ہی ملک یا بیرون ملک ان کے ساتھ کسی قسم کا کاروبار کرتے ہیں۔

ان کا کہناتھا کہ وہ اس وقت 32 سال کے ہیں اور چیف جسٹس کے بیٹے ہونے پر ان کو فخر ہے،جن کی دیانت کا ہر کوئی معترف ہے۔ وہ اپنی زندگی گزارنے کےلیے اپنا کاروبار کرتےہیں اور ہر سال ٹیکس ریٹرن باقاعدگی سے جمع کروا 
رہے ہیں۔

اگر ملک ریاض نے غیر قانونی فیور حاصل کرنے کے لیے ان پر رقم خرچ کی ہے تو اس کو عدالت کے سامنے اس کی وضاحت کرنی چاہیئے اور اگر یہ جھوٹ نکلے تو اس(ملک ریاض) کیخلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیئے۔۔

ارسلان افتخار نے بیان کیا کہ انہوں نے سن 2006 میں اپنی فیملی کے ساتھ ذاتی خرچ پر لندن کا دورہ کیا۔اسی طرح 2010 اور 2011 میں بھی لندن اپنے خرچ پر گئے ۔ اور 15 اگست 2011 کواپنے کزن عامر رانا کے ذریعے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کےاکاؤنٹ سے چیک نمبر1287353کے ذریعے اپنے دوست زید رحمان کے میزان بینک گلبرگ لاہور کے اکاؤنٹ نمبر020502000003244میں 45 لاکھ روپے جمع کروائے۔ جس کے چیک کی فوٹو کاپی اس بیان کے ساتھ لگائی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ لندن کے جس فلیٹ میں وہ ٹھہرے اس کا ایک ہفتے کا کرایہ3200پاؤنڈ تھا جہاں وہ چار ہفتے ٹھہرے جس کاکرایہ شاید10000 پاؤنڈ ادا 
کیا گیا انہیں نہیں معلوم کہ یہ پیسے کس کے کریڈٹ کارڈ سے ادا کیے گئے

انہوں نے کرائے کا معاہدہ لندن پہنچنے کے بعد کیا اور اپنے پاسپورٹ کی کاپی جمع کروائی۔اسی طرح 2011 میں بھی اسی شخص(زیدرحمان) نے ان کےلیے رہائش کا انتظام کیا اور جیسا کہ اوپر بیان کیا چاچکا ہے تمام رقم بعد میں(زیدکو) ادا کردی گئی۔

لندن میں میرے قیام کا بندوبست کرنے والا شخص زید رحمان تھا جس کو میں اس کے کزن احمد خلیل کی وساظت سے جانتا ہوں،جو(احمد خلیل) میرادوست ہے ۔اگر اس بابت عدالت کو کسی ثبوت کی ضرورت ہو تو مہیا کیا جاسکتاہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بیان حتمی اور آخری نہیں ہے کیوں کہ ملک ریاض نے ابھی تک کوئی بیان جمع نہیں کروایا اس بیان کے بعد وضاحت اور نیا بیان جمع کروانے کا حق رکھتے ہیں۔

Thursday, June 7, 2012

Kohistan Case..Women Killed?



کوہستان۔۔۔پانچ خواتین قتل یازندہ؟؟


سپریم کورٹ کے حکم پر حکومت اور انسانی حقوق کی نمائندہ خواتین کا وفد کوہستان گیا اور واپسی پردو لڑکیوں کے زندہ ہونے کی تصدیق کردی لیکن اس واقعہ میں ایسے بہت سے سوالات ابھی باقی ہیں
کیا وفد کو جن خواتین سے ملایا گیا وہ وہی تھیں جو ویڈیو میں ہیں؟
کیا ویڈیو میں ایک جھلکک دیکھنے کے بعد کسی کو نہ جاننے والا شخص تصدیق کرسکتا ہے کہ یہ وہی شخص ہے؟
کیا علاقے کے لوگوں کی زبانی یقین دہانی یہ ثابت کرنے کےلیے کافی ہے کہ لڑکیاں زندہ اور محفوظ ہیں؟
وہ تین خواتین جن سے وفد کی ملاقات نہیں ہوئی ان کے بارے میں بیان کیا جاتاہے کہ وہ شادی شدہ ہیں اور ان کے سسرال مظفر آباد،راولپنڈی اور مانسہرہ میں ہے تو پھر ان کے سسرال سے رابطہ کیوں نہیں کیا گیا؟
اگر لڑکیوں کا عدالت آنا ممکن نہیں تھا تو ریاست کے بھاری خرچے پر کوہستان جانے والا وفد ان لڑکیوں کے شناختی کارڈ اور انگوٹھوں کے نشان کیوں نہیں لایا تاکہ نادرا سے تصدیق کروائی جاسکے ؟
مقامی حلقوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کمشنر ہزارہ وفد کی خواتین سے دو گھنٹے پہلے اس علاقے میں گئے۔۔اس کا کیا مقصد تھا؟
اگر یقین کرلیا جائے کہ لڑکیاں قتل نہیں کی گیں تو پردے میں رہتے ہوئے ان کو عدالت پیش کرنے میں کیا چیز حائل ہے؟
اس واقعہ میں ملوث لڑکے کن معلومات پر مسلسل دعوے کررہے ہیں کہ لڑکیاں قتل کردی گئی ہیں؟
لڑکوں کے دعوے پر یقین نہ کرنے کی کیا وجوہات ہیں؟
دولڑکیوں کے زندہ ہونے کی تصدیق اگر ہوگئی ہے توباقی تین لڑکیوں کی تصدیق کون کرے گا؟
اور ایک آخری سوال کہ کیا اس وفد کی یقین دہانی پر لڑکیوں کو زندہ خیال کرکے اس کیس کو نمٹا دیاجائےگا؟

News business: Arsalan Iftikhar case..Cj sets precedent.

News business: Arsalan Iftikhar case..Cj sets precedent.: کوئی باپ نہ بیٹا۔۔۔صرف ملزم اور جج نہ کوئی باپ ہے نہ بیٹا ۔۔۔سب رشتے ختم ،ہم آج سے اسے اپنا بیٹا نہیں کہیں گے۔۔۔۔ہمارے سامنےکھڑاشخص...

Arsalan Iftikhar case..Cj sets precedent.



کوئی باپ نہ بیٹا۔۔۔صرف ملزم اور جج

نہ کوئی باپ ہے نہ بیٹا ۔۔۔سب رشتے ختم ،ہم آج سے اسے اپنا بیٹا نہیں کہیں گے۔۔۔۔ہمارے سامنےکھڑاشخص ڈاکٹرارسلان ہے۔۔۔اگر یہ غلطی پرہواتواسے معاف نہیں کریں گے۔۔۔یہ کہناتھاچیف جسٹس پاکستان افتخارمحمد چوہدری کاجو اپنے بیٹے ڈاکٹرارسلان کے خلاف کرپشن کیس کی سماعت کررہے تھے۔۔۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے قرآن پاک کے مطابق ہرشخص، اپنے اعمال کاذمہ دارہے۔۔اولاد کا نہیں۔۔۔حلفاً کہتاہوں مجھےڈاکٹرارسلان کے کاروبارکا علم نہیں۔۔۔

چیف جسٹس نے واضح کیا وہ بائیس سال سےجج ہیں۔۔۔لیکن ان کے پاس گاڑی ہے نہ گھر۔۔۔وہ توصرف وراثتی گھرمیں بھائیوں کے ساتھ حصہ دارہیں۔۔۔انہیں تویہ بھی معلوم نہیں کہ وہ ریٹائرڈ ہونےکے بعدکہاں جائیں گے۔۔۔ چیف جسٹس نے سخت ناراضی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ کیا لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہرشخص کی قیمت ہوتی ہے۔۔یہاں تو الیکشن خریدنے کی بات بھی کردی جاتی ہے۔۔۔ لیکن ہم نےانصاف فراہم کرنے کاحلف اٹھارکھا ہے۔۔۔

 چیف جسٹس افتخارمحمدچودھری نے ریمارکس دئیے، بتایا جائے!ملک ریاض کا کونسا معاملہ ان کے پاس آکرحل ہوگیا، وہ آئندہ بھی ملک ریاض کے کیسزکی سماعت کرتے رہیں گے۔۔ تین رکنی بینچ سے الگ ہونے کااعلان کرتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا ان کے بیٹے کے خلاف فیصلہ یہی بینچ کرے گا۔۔ انہیں اپنے ججوں پراعتماد ہے۔۔۔اوراس کیس کی سماعت دنیا دیکھے گی۔۔ خلفائے راشدین کے ادوارمیں باپ نے بیٹوں کونصیحتیں بھی کیں اورسزائیں بھی دیں،ہم اللہ پریقین اورایمان رکھتے ہیں اور ہمیں اسی کے پاس لوٹ کرجانا ہے۔۔۔۔

Wednesday, June 6, 2012

News business: Arslan iftikhar case in Supreem Court

News business: Arslan iftikhar case in Supreem Court: سپریم کورٹ کوتباہ کرنےکا منصوبہ کامیاب ہوجائے گا؟ پاکستانی ریاست کے آخری بچ جانے والے فعال ادارے سپریم کورٹ کو تباہ کرنے کا وقت آچکا ...