مریم نامہ
میری روزاول سے یہی رائے ہے کہ جس کو بھی عوام اپنے
حمکران کے طور پر چن لیں،پھر ملک کو کس طرح چلانا ہے اور اپنی ٹیم کیسے منتخب کرنی
ہے؟ کس اہم کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کرنا ہے،کس کونکالناہے، یہ اس کا اختیارہونا
چاہیئے۔ترقی یافتہ ممالک میں ایسے ہی ہوتا ہے منتخب سربراہاں اپنی مرضی سے ٹیم
منتخب کرتے اور نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ نظام ان ممالک میں کامیاب
ضرور ہے یہاں احتساب کا خود کار نظام اچھی طرح عمل پذیر ہے