Thursday, October 17, 2019

New Steve Jobs


نیا اسٹیوجابز

وہ نوجوان ہے، اپنے کام میں بلا کا ماہرہے،ہونہار اس کے سامنے شاید چھوٹا لفظ ہے ،وہ اورسیز پاکستانی ہے ،بیرون ملک کامیابی کے جھنڈے گاڑرہاہے ، وہ اپنی ایجاد پاکستان لانا چاہتاہے لیکن  اس نئے پاکستان میں یہاں کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کے نعرے میڈیا پر تو مارے جاتے ہیں لیکن جب عملی کام کی باری آتی ہے تو پھر وہی سرخ فیتا، وہی مشکلات ، وہی سوالات  اور وہی موٹا کمیشن اور کک بیکس  راستے کی دیوار چین بن کر کھڑے دکھائی دیتے ہیں ۔۔
پاکستان سے اس قدر محبت کہ آپشن کے باوجود پاکستان کا پاسپورٹ ہی سینے سے لگائے بیٹھا ہے ، دوسرے ملک کا پا سپورٹ نہیں لیا، شہریت لے سکتا ہے لیکن انکاری ہے ۔۔بھارت میں اس کی ایجاد کی مانگ ہے لیکن بھارتی کہتے ہیں کہ کمپنی لانچ کرنے دہلی آو۔۔جب وہ بتاتا ہے کہ وہ پاکستانی ہے اور کمپنی بھی پاکستانی ہے اور اس کے پاس پاسپورٹ بھی پاکستانی ہے تو سب کچھ رول بیک ہوجاتا ہے ۔۔بھارتی اسے مشورے دیتے ہیں کہ دوسرے ملک کا پاسپورٹ لے لو تمہاری چاندی ہوجائے گی ۔۔لیکن وہ بضد ہے کہ کاروبار  اور پیسہ کمانے کےلیے پاکستانی شہریت نہیں چھوڑ سکتا ۔۔
وہ نئے پاکستان میں اپنی پراڈکٹ لانا چاہتا ہے، وہ چاہتا ہے کہ پاکستان الیکٹرانک کنزیومر ریسرچ کی جنت بن جائے ، ہم اپنی پراڈکٹ یہاں بنا کر ایکسپورٹ کرسکیں ، زر مبادلہ خرچ کرنےکے بجائے کماسکیں ۔ لیکن یہاں کوئی عبدلرزاق داود اس کا دوست نہیں ہے ، وہ انیل مسرت بھی نہیں ہے ۔۔وہ زلفی بخاری کا بھی دوست نہیں ہے  وہی زلفی بخاری جو سمندر پار پاکستانیوں کے وزیر ہیں ۔۔وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے لیکن سرمایہ کاری بورڈ میں اس کی جان پہچان نہیں ہے ۔۔وہ بل گیٹس کی کمپنی مائیکرو سافٹ میں کام کرکے اپنی صلاحیت کا لوحا منوا چکاہے ۔۔ہم صرف بل گیٹس کو ہی دیکھنا ، سننا اور اس کو ہی ماننا چاہتے ہیں ، ہم بل گیٹ جیسوں یا اس سے بھی قابل اپنے لوگوں کو پروموٹ کرنا چاہتے ہیں نہ ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ۔۔ہم  سوئی سے لیکر جہاز تک باہر سے خرید کر لانے میں آسانی محسوس کرتے ہیں ۔۔زر مبادلہ اسی امپورٹ پر خرچ مارتے ہیں ، پھر قرضے لیتے ہیں اور پھر انہی قرضوں کو اتارنے کےلیے دوبارہ قرضہ لے لیتےہیں اس طرح دائروں میں گھوم گھوم کر سمجھتے ہیں کروڑوں میل کا سفر طے کرچکے ہیں ۔۔ہمارے پاوں واقعی کروڑوں میل چل چکے ہیں لیکن سفر ایک میٹر بھی آگے نہیں بڑھتا کیوں کہ ہم نہ رسک لیتے ہیں اور نہ کسی نئے انسان کی حوصلہ افزائی کرتےہیں ۔۔ہم آزمائے ہووں کو دوبارہ اور سہہ بارہ آزماتے رہتے ہیں ۔۔
اس نوجوان کی کہانی بڑی دلچسپ ہے ، سبق آموز بھی اور کامیاب بھی ہے ۔۔مجھے سے اس نوجوان کا رابطہ سماجی ویب سائیٹ  ٹوئٹر کے ذریعے ہوا ۔۔میں اس کی باتوں میں وضاحت دیکھی ۔۔آئیڈیاز کی کلیریٹی  دیکھی ۔۔پاکستان سے محبت کا جذبہ دیکھا  اور ساتھ ہی ساتھ کچھ شکوے بھی دیکھے وہ شکوے جو اس نے پاکستان میں اپنی کمپنی لانچ کرنے کے راستے میں فیس کیے ۔۔میں نے اس کی کہانی لکھنے کا فیصلہ کیا کہ شاید کسی زلفی بخاری کو یہ کہانی سمجھ آجائے ۔۔
لاہور کے علاقے سمن آباد سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان کا دادا برٹش آرمی میں افسر تھا، تقسیم ہند کے بعد ان کے دادا میجر ایم یو خان پاکستان آرمی میں آگئے اور پاک آرمی سے ریٹائر ہوئے ۔۔
میجر ایم یو خان

اس کے والد ایک ڈاکٹر ہیں۔۔دادا کی خواہش تھی کہ اس کا پوتا آرمی میں چلاجائے لیکن والد اس کو ڈاکٹر بنانے پر تلے ہوئے تھے ۔۔دونوں کی خواہشوں کا بوجھ اپنی جگہ لیکن وہ کچھ اور سوچ کر بیٹھا تھا ۔۔ایک دن اس نے اپنے والد سے کہہ ہی دیا کہ ابا جی آپ چاہتے ہیں کہ میں ڈاکٹر بنوں ۔۔میں آپ کا حکم مان کر ایم بی بی ایس تو کرلوں گا لیکن شاید بہت ہی برا ڈاکٹر ثابت ہو گا ۔۔اگر میں  پڑھ کر بھی اپنے پیشے سے انصاف نہ کرسکا  تو بہت پچھتاوا رہے گا ۔۔والد کو سمجھ آگئی کہ ان کے بیٹے کا رجحان آئی ٹی اور ٹیکنالوجی میں ہے اس لیے انہوں نے اپنا فیصلہ بدل ڈالا ۔۔
پڑھائی کے ساتھ ہی صرف سولہ سال کی عمر میں اس نوجوان نے رات کے وقت کال سینٹر میں جونیئر ایگزیکٹو کی نوکری شروع کردی ۔۔اس نوکری میں انگریزوں کی کالیں اٹینڈ کرنا اس کا کام تھا ۔۔اس کام کے دوران اس نے اگریزی بولنا سیکھ لی ۔۔
پاکستان میں آئی ٹی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ دبئی چلا گیا، محلے دار، رشتے دار اور دوست سب نے طعنے کسے کہ دبئی جاکر کیا کروگے ، صرف پیسے برباد کرکے واپس آجاو گے لیکن اس نے کسی نہ سنی ۔۔ٹھان لی کہ اب کچھ کرکے ہی واپس لوٹے گا ۔۔دبئی میں کام کرتے کرتے  اس کو مائکروسافٹ کا ایک پراجیکٹ مل گیا ۔۔یہ وہ  وقت تھا جب نوکیا نے مائکروسافٹ کے ساتھ اشتراک کرکے ونڈو بیسڈ موبائل ہینڈ سیٹ بنانے شروع کیے تھے ۔۔یہ نوجوان دبئی میں بیٹھ کر مائکرو سافٹ کے لیے یہ موبائل فون بنانے میں مصروف تھا۔۔پھر وہ لمحہ آیا جس نے اس کی زندگی نئی ڈگر پر ڈال دی ۔۔
رات کا وقت تھا ، آفس سے واپسی پر یہ نوجوان اپنی ٹیم کے ساتھ ہوٹل میں کھانا کھا رہا  تھا  کہ ایک شخص نے بات چیت کے دوران پوچھ لیا کہ کیا کرتے ہو۔۔اس نے بتایا کہ وہ موبائل ٹیکنالوجی کا ماہر ہے اور یہ کام کرتا ہے ۔۔۔اس نے پوچھا کہ اس میں" تمہارا"  کیا ہے ۔۔یہ "تمہارا " کیا ہے  اس نوجوان کو جیسے لڑ ہی گیا ۔۔وہ سوچ میں پڑ گیا کہ واقعی اس میں "میرا" کیا ہے ۔میں تو کسی دوسرے کی کمپنی کے لیے کام کرتا ہوں ۔۔اس پراجیکٹ کے بعد کیا ہوگا ۔۔سوالوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا اور وہ نوجوان ۔۔۔یہی وہ لمحہ تھا جب سب کچھ بدلنے کا وقت تھا ۔۔۔اس نے پراکیٹ سے استعفی دے کر کچھ اپنا کرنے کی ٹھا ن لی ۔۔۔
اس نے اپنی کمپنی رجسٹرڈ کروائی اور خود سے موبائل ہینڈ سیٹ بنانا شروع کردیے ۔۔موبائل تیار ہوگئے تو ان کو بیچنے کا مرحلہ آیا ۔۔اس مرحلے میں اس کو شدید ناکامی ہوئی ۔۔جو کچھ کمایا تھا وہ اس موبائل کی مینوفکچرنگ میں لگا چکا تھا ۔۔ایک مرتبہ خیال آیا کہ واپس پاکستان چلاجائے پھر وہی رشتہ داروں اور محلے والوں کے طعنے کانوں میں گونجنے لگے ۔۔۔
یہ اس پر ایک مشکل وقت تھا کہ دبئی میں ایک بزنس کانفرنس میں ہوئی ۔۔اس نے اس کانفرنس میں چند منٹ مانگ لیے  تاکہ  وہ اپنا کام شرکا کو سمجھا سکے ۔۔اس کانفرنس میں اس نے بتایا کہ کس طرح اس کا موبائل آئی فون اور سامسنگ سے مختلف اور سستا ہے ۔۔وہ ۔۔"اینکرپٹڈ" ٹیکنالوجی پر کام کرچکا تھا ۔۔صارف کے ڈیٹا کی سکیورٹی اس موبائل کا خاصا تھا ۔یہ موبائل ملٹری استعمال کے لیے موزوں ترین  گیجٹ تھا ۔۔۔اس نے دنیا کے بزنس مینوں کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ۔۔اس کانفرنس میں شریک یہ جرمن شخص نے اس نوجوان کی بات سمجھ لی ۔۔
کانفرنس کے بعد اس نے اپنا وزٹنگ کارڈ اس نوجوان کو دیا اور کہا کہ وہ جرمنی آجائے اور اپنا کام وہاں آکر آگے بڑھا ئے ۔۔اس نوجوان نے کہا کہ میں اپنا سب کچھ لگاچکاہوں ۔۔بنائے ہوئے سارے موبائل اسٹور میں پڑے ہیں ۔۔اس شخص نے کہا کہ آپ میری کال کا انتظار کرنا ۔۔
وہ شخص واپس جرمنی چلا گیا ۔۔کچھ ہفتوں بعد اس شخص کی کال آگئی ۔۔اس نے کہا کہ آپ کے سارے موبائل جرمن ملٹری خرید لے گی آپ جرمنی آجائیں ۔۔نوجوان نے دبئی کو خدا حافظ کہا اور جرمنی میں جاکر کمنی لانچ کردی ۔۔ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ  میں اس کمپنی نے کما ل کام کیا ۔۔اس نے "سینسو" موبائل کے نام سے موبائل فون بنانا شروع کردیے ۔۔چند سالوں میں کامیابی اس کا پیچھا کرنے لگی ۔۔اس وقت وہ دس ممالک میں کمپنیاں کھول چکا ہے ۔۔اس نوجوان کا نام ہارون ایس خان ہے ۔۔ہارون یورپ میں درجنوں برانڈ ایوارڈ جیت چکاہے۔ ان کی کمپنی  ٹیکنالوجی کے کئی ایوارڈ اپنے نام کرچکی ہے ۔۔
ہارون خان 

ہارون نے دوہزار پندرہ سولہ میں پاکستان میں کمپنی بنانے کی کوشش کی ۔۔یہاں اس وقت "کیو" کا راج تھا ۔۔کیو موبائل انڈر انوائسنگ کرکے جو پیسا کماتا اس میں سرکاری اہلکاروں کو بڑا حصہ دیتا۔۔ ایسی صورتحال میں ہارون خان کو کسی نے اندر نہ گھسنے  دیا ۔۔۔
ہارون ایک بار پھر اس "سینسوموبائل کو پاکستان لانے کوشش کررہا ہے ۔۔ اس نے پاکستان میں موبائل مینوفیکرنگ کا لائسنس حاصل کیاہے  لیکن بہت سے مرحلے ابھی درپیش ہیں ، اس کو حکومت کی مدد درکار ہے ۔۔پاکستان میں حکومت بدلی ہے لیکن تبدیلی شاید ابھی دور ہے ۔۔میری دعا بھی ہے اور حکومت سے درخواست بھی کہ ہارون کو موقع دیں یہ نوجوان پاکستان میں موبائل ٹیکنالوجی میں انقلاب لاسکتا ہے ۔۔ہماری مہنگے فونوں سے جان چھڑا سکتا ہے ۔۔یورپ میں یہ موبائل آئی فون اور سامسنگ کا مقابلہ کررہاہے ۔۔پاکستان میں کام کرنا اس پاکستانی کا بھی حق ہے جس نے آج تک موقع ملنے کے باوجود پاکستانی پاسپورٹ  نہیں چھوڑا ۔۔
آپ ہارون کو اس کے ٹوئٹر ہنڈل ۔۔
کے ذریعے مل سکتے ہیں ۔۔۔






Friday, October 4, 2019

نتیجہ صفرہی کیوں۔۔۔؟



نتیجہ صفرہی کیوں۔۔۔؟

                                                                     تیرے وعدے پہ جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا

کہ خوشی سے مرنہ جاتے  اگراعتبار ہوتا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارتی وزیراعظم نریندر  مودی سے ملیں  یا پاکستان کے وزیر اعظم  عمران خان  صاحب سے ان کی ملاقات ہو۔۔بات چیت ہو یاعلیک سلیک ہو۔۔ ۔۔ کیمروں کے سامنے ڈونلڈ ٹرمپ  دونوں رہنما وں کی  ایک جیسی ہی تعریفیں کرتے ہیں۔۔عمران خان  سے ملیں تو فوری طورپر کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کردیتے ہیں  لیکن یونہی مودی کے پاس جاتے ہیں تو پکار اٹھتے ہیں   کہ دونوں ملک  خود ہی مسئلہ کشمیر حل کرلیں گے ۔۔پاکستان کو کہتے ہیں کہ میں تو ثالثی کےلیے تیار ہوں لیکن بھارت تیار نہیں ہے ۔۔حقیقت بھی یہی ہے کہ بھارت تیسرے فریق کی ثالثی کےلیے نہ پہلے کبھی راضی تھا نہ اب ہے  تو پھر ہم صرف ثالثی کی اس زبانی کلامی پیشکش پر اتنا خوش کیوں ہوجاتے ہیں ۔۔۔ٹرمپ کہتے رہیں کہ وہ ثالث ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کا 
نتیجہ ہے ۔۔صفر ۔۔


وزیراعظم عمران خان صاحب   اسی سال جولائی میں اپنے پہلے دورے پر امریکا گئے ، بائیس جولائی کو وائٹ ہاوس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی ۔۔ٹرمپ نے جھٹ سے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کردی ۔۔۔عمران خان  کو لگا وہ ورلڈ کپ جیت گئے۔۔۔اس ملاقات کے صرف بارہ  دن بعد ہی  بھارت نے کشمیر پر شب خون مار دیا یو ں  ٹرمپ کی پیشکش کا نتیجہ رہا ۔۔صفر ۔۔۔

ٹرمپ کہتے ہیں عمران خان ایک  عظیم لیڈر ہیں، وہ ان سے بہت متاثر ہیں وہ خطے کے مسائل حل کرسکتے ہیں  لیکن حقیقت یہ ہے کہ کشمیر میں  بھارت کی طرف سے لگائے گئے کرفیو کو دوماہ سے زیادہ وقت ہوگیا۔۔کشمیری آج بھی مشکل میں ہیں ۔۔محاصرے میں ہیں، ادویات کو ترس رہے ہیں۔۔روزی روٹی کمانے کے لالے ہیں۔۔۔۔ہماری  تمام تر کوششوں کا نتیجہ ہے ۔۔۔صفر۔۔

ٹرمپ کہتے ہیں عمران خان بہت اچھے انسان ہیں، سچے انسان ہیں ۔۔کھرے انسان ہیں ۔۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ کشمیر میں بچے اسکول جانے کو ترس رہے ہیں ، ان پر تعلیم کے دروازے بند ہیں اور نتیجہ ہے ۔۔صفر۔۔

وزیر اعظم عمران خان  کا کہنا ہے کہ امریکا طاقتور ترین ملک ہے اور ٹرمپ دنیا کے طاقتور ترین صدر ہیں جو مسئلہ حل کرواسکتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ کشمیر میں دوائیں ختم ہوچکی ہیں ۔۔لوگ علاج نہ ہونے پر موت کے منہ میں جارہےہیں ۔۔یوں اس  طاقت کا نتیجہ ہے صفر ۔۔۔

ہم نے واشنگٹن میں احتجاج کرلیا، نیویارک میں بھی  میلہ لوٹ لیا، ہیوسٹن میں ہزار وں لوگ نکل آئے ، چین، جاپان ،جرمنی اور روس میں احتجاج کرلیا لیکن آج بھی بھارتی فوج کی کشمیر میں درندگی جاری ہے، یوں عملی نتیجہ رہا ۔۔صفر۔۔۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں کشمیر کا مسئلہ ہم خود لےکر  کر گئے ۔۔بہت اچھا کیا۔۔اجلاس کے بعد وزیراعظم عمران خان  اور ان کے نائب کپتان  شاہ محمود قریشی نے اٹھا ون ممالک کی حمایت کا اعلان بھی کیا، عمران خان نے بھی ٹویٹ کرکے ان اٹھاون ممالک کا شکریہ اداکیا۔۔لیکن قرارداد پیش کرنے کے وقت نتیجہ رہا صفر۔۔۔

یہ نتیجہ کیوں صفر ہے اور کب تک یہ نتیجہ صفر ہی رہے گا ۔۔کیا اس صفر نتیجے میں وزیراعظم  کا کوئی قصور ہے ۔۔تو جواب ہے نہیں ۔۔اس میں کسی شخص  کا قصور نہیں  ہے بلکہ قصور ہے ان تجارتی مفادات کا جو امریکا کے بھارت سے جڑے ہوئے ہیں ۔۔اس صفر کی وجہ  کروڑو ں بھارتی ہیں جو امریکا میں مقیم ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کو اگلا الیکشن جیتنے کےلیے ان بھارتی ووٹوں کی ضرورت  ہے ۔۔۔
 مزید پڑھ لیں کہ یہ نتیجہ آخر صفر ہی کیوں رہتاہے یا صفر ہی رہے گا۔۔۔

امریکہ کی  تجارتی لسٹ میں بھارت تیرھویں نمبر پر ہے اور  پاکستان  کا نمبر ہے پچپن۔۔
امریکہ کی بھارت کو برامدات کا حجم 33ارب ڈالر  سالانہ ہے جبکہ پاکستان کو امریکی برآمدات  صرف 3ارب ڈالر  سالانہ ہیں ۔۔۔
بھارت  کی امریکا کو برآمدات  کا حجم چون ارب ڈالر سالانہ ہے جبکہ پاکستان امریکا کو صرف ساڑے تین ارب ڈالر  کی اشیاء برآمد کرتاہے  ۔۔۔

امریکا کی بھارت میں ڈائریکٹ انوسٹمنٹ کا حجم 44ارب ڈالر ہے جبکہ پاکستان میں یہ حجم صرف  پچاس کروڑ ڈالر ہے ۔۔۔
تو  یہ جو تینتیس اور تین کا فرق ہے ۔۔یہی وہ فرق ہے جو کوئی  نتیجہ پاکستان کے حق میں ہونے نہیں دیتا۔۔امریکا اور بھارت کے یہی وہ تجارتی مفادات ہیں جو نتیجہ صفر سے ایک ہونے نہیں دیتے۔۔۔

ہمیں ان  مفادات کی کھلی حقیقت کو سامنے رکھ کر آگے بڑھنا پڑے گا۔۔اپنے گھر میں صرف سیاسی حمایت اور سیاسی مفاد کے حصول کے لیے جھوٹے اور کھوکھلے نعروں کے بجائے  ۔۔پاکستان کے مفاد کے لیے فیصلے کرنا پڑیں گے ۔۔حقیقت کا سامنا تحمل اور سلیقے سے کرنا پڑے گا ۔۔دنیا کے ساتھ اپنے تجارتی مفادات کو بڑھانے پر کام کرنا پڑے گا ۔۔قوم کو یہ سب سچ سچ بتانا پڑے گا  کہ کس طرح یہ نتیجہ صفر سے ایک اور پھر پانچ اور دس میں تبدیل ہوسکے گا ۔۔پھر اصلی اور حقیقی تبدیلی آسکے گی۔۔۔



Saturday, May 13, 2017

KULBHUSHAN CASE A TEST FOR ICJ


KULBHUSHAN CASE A TEST FOR ICJ


Photo of  Indian naval officer Kulbhushan Jadhav who has been sentenced to death by a Pakistani court on charges of ‘espionage’.

The Kargil war was barely over. Tensions between India and Pakistan were already running high when on August 10th 1999 a Pakistan Navy aircraft on a routine training flight along Indian border near Run of Kutch was shot down. India had acted in violation of Pakistan's airspace and Pakistan had suffered not only the loss of aircraft but also of 16 lives.

On September 21st Pakistan took the matter to the International Court of Justice (ICJ), filing a petition under UN Charter and General Act of 1928. In its final verdict, the ICJ noted:

"...  the Islamic Republic of Pakistan (hereinafter called "Pakistan") filed in the Registry of the Court an application instituting proceedings against the Republic of India (hereinafter called "India") in respect of a dispute relating to the destruction, on 10 August 1999 of a Pakistani aircraft. In its Application, Pakistan founded the jurisdiction of the Court on Article 36, Paragraphs 1 and 2, of the Statute and the declarations whereby the two Parties have recognized the compulsory jurisdiction of the Court.

"Pursuant to Article 40, paragraph 2, of the Statute, the Application was forthwith communicated to the Indian Government by the Registrar; and, pursuant to Paragraph 3 of that Article, all States entitled to appear before the Court were notified of the Application."

Pakistan requested the Court to judge and declare as follows:
" that the acts of India (as stated above) constitute breaches of the various obligations under the Charter of the United Nations, customary international law and treaties specified in the body of this Application for which the Republic of India bears exclusive legal responsibility;

 "That India is under an obligation to make reparations to the Islamic Republic of Pakistan for the loss of the aircraft and as compensation to the heirs of those killed as a result of the breaches of the obligations committed by it under the Charter of the United Nations and relevant rules of customary international law and treaty provisions."

International Court of Justice named this case as AERIAL INCIDENT OF 10 AUGUST 1999 (PAKISTAN v. INDIA). From Pakistan side, the case was pleaded by Mr. Jamshed A. Hamid, Legal Adviser, Ministry of Foreign Affairs, Mr. Aziz A. Munshi, Attorney General for Pakistan and Minister of Law and Mr Pirzada as Adhoc judge. Public sittings were held from 3 to 6 April 2000, at which the Court heard oral arguments and replies of: For Pakistan: Mr. Hamid, H.E. Mr. Munshi, Sir Elihu Lauterpacht, Dr. Kemicha. For India: H.E. Mr. Menon, H.E. Mr. Sorabjee, Mr. Brownlie, Mr. Pellet, and Dr. Sreenivasa Rao.

India vigorously challenged the jurisdiction of the ICJ and pleaded to dismiss the case. In its reply India stated that:

"the General Act of 1928 is no longer in force and that, even if it was, it could not be effectively invoked as a basis for the Court's jurisdiction".

It argued that numerous provisions of the General Act, and in particular Articles 6, 7, 9 and 43 to 47 thereof, refer to organs of the League of Nations or to the Permanent Court of International Justice; that, in consequence of the demise of those institutions, the General Act had "lost its original efficacy"; that the United Nations General Assembly so found when in 1949 it adopted a new General Act; that "those parties to the old General Act which have not ratified the new act" cannot rely upon the old Act except "'in so far as it might still be operative', that is, in so far . . . as the amended provisions are not involved"; that Article 17 is among those amended in 1949 and that, as a result, Pakistan cannot invoke it.

To oppose General Act1928, India presented its foreign minister‘s statement declaring that:

"I have the honor to refer to the General Act of 26th September 1928 for the Pacific Settlement of International Disputes, which was accepted for British India by the then His Majesty's Secretary of State for India by a communication addressed to the Secretariat of the League of Nations dated 21st May 1931, and which was later revised on 15th February 1939. The Government of India never regarded themselves as bound by the General Act of 1928 since her Independence in 1947, whether by succession or otherwise. Accordingly, India has never been and is not a party to the General Act of 1928 ever since her Independence.

India also invoked Simla Agreement

India argued that the Simla Accord "is no more than an arrangement between India and Pakistan first to enter into negotiations in case of any difference, and following such negotiations, to refer the matter to any other method of settlement to the extent that there is any further and specific agreement between the parties"."), the two States declared themselves "resolved to settle their differences by peaceful means through bilateral negotiations or by any other peaceful means mutually agreed upon " India also referred to Lahore Declaration of 1998 wherein Prime Ministers Nawaz Sharif and Atal Behari Vajpai had agreed to resolving issues in bilateral talks and reiterated the Simla Accord.


On June 21st 2000 International Court of Justice announced its verdict in favor of India and declared that the court had no jurisdiction to hear this case. Verdict as on website of ICJ is as under:
As regards India and Pakistan, that obligation was restated more particularly in the Simla Accord of 2 July 1972, which provides that "the two countries are resolved to settle their differences by peaceful means through bilateral negotiations or by any other peaceful means mutually agreed upon between them". Moreover, the Lahore Declaration of 21 February 1999 reiterated "the determination of both countries to implementing the Simla Agreement".
Accordingly. the Court reminds the Parties of their obligation to settle their disputes by peaceful means, and in particular the dispute arising out of the aerial incident of 10 August 1999, in conformity with the obligations which they have undertaken (cf. Fisheries Jurisdiction (Spain v. Canada), Jurisdiction of' the Court, Judgment, 1. C. J. Reports 1998, p. 456, para. 56). 56. For these reasons, By fourteen votes to two, that it has no jurisdiction to entertain the Application filed by the Islamic Republic of Pakistan on 21 September 1999. IN FAVOUR : President Guillaume ; Vice-President Shi ; Judges Oda, Bedjaoui, Ranjeva, Herczegh, Fleischhauer, Koroma, Vereshchetin, Higgins, ParraAranguren, Kooijmans, Buergenthal; Judgc ad hoc Reddy; AGAINST: Judge Al-Khasawneh; Judge ad hoc Pirzada

17 years later, India who opposed Pakistan’s case by invoking bilateralism under Simla Accord and Lahore Declaration has knocked at the door of same court to seek provisional measures in Kulbhushan Sudhir Jadhav's case. Jadhav is an Indian naval officer, caught red handed from Pakistan’s Baluchistan province. Pakistan has tried Mr. Jhadav and a military court has handed down death sentence.

The International Court of Justice has fixed the first hearing on Monday 15 May 2017 in HAGUE. The court will hear the oral observations on the said date from both sides on the Indian request to grant a stay order against hanging of Mr. Jhadav. India has also prayed for a declaration of "egregious violations of the Vienna Convention on Consular Relations”.

According to several senior jurists it’s time for Pakistan to give India a taste of its own medicine of Simla Accord and Lahore Declaration which call for both countries to settle disputes bilaterally. For ages India has sought refuge behind these agreements to deny multilateral talks in case of Indian-held Kashmir and other outstanding issues. The jurist are of the view that India will lose this case. Others believe that this is going to be a test case for the International Court of Justice which disposed of Pakistan's case in 2000 accepting lack of jurisdiction. From Pakistan, Attorney General Mr. Ashtar Aosaaf will plead the case. Most independent analysts says that the Indian government needs a face saving device to placate its people and to be able to argue that it can protect and rescue its undercover agents in Pakistan and other hostile countries.

The hearing is around the corner. Pakistan appears determined to challenge the ICJ jurisdiction. The government appears confident that it can prevail on the same grounds as India did 17 years ago.

Writer Jabbar Chaudhary is senior Journalist in Pakistan and often write on Pak India relations 

Friday, October 14, 2016

WILL BOL RESTART?



Re-inventing BOL

There was a day in May 2015 when hundreds of Bolwala were chanting slogans in support of Mr.Shoiab Ahmad Shaikh, founder of Bol media group, when he was being arrested and there was a day after a year, when only few dozen people were present outside Karachi jail from where Mr.Shaikh was released on bail in Axact fake diploma mill case that lodged against him and company after a story published in USA based newspaper The New York Times on 17 May 2015. This one year was horrible, not only for Shoaib Shaikh and Bolwalas but entire media industry of Pakistan. Quickest action was recorded against Axact and Bol after publishing a story that may be a history in Pakistan.

This debate is not much relevant whether this was a conspiracy or a truth, but this is also a fact that after a year and on, no one is convicted in said case of fake diplomas and this is also naked truth that Mr. Shaikh or his company never sued The New York Times or reporter Declan Walsh to write this story. Bol which engaged top journalists of Pakistani media industry principally from Geo from its top slot anchor Kamran Khan and MD Mr. Azhar Abbas. Geo ‘s Karachi bureau chief Faisal Aziz Khan also picked by Bol and after that a long queue of Geo employs from NBC to Muhammad Usman start boarding this Titanic in making . Heat felt by Geo initially and industry as a whole afterward. Mr. Shaikh who was very outspoken that time, spoke extra and well before time. He created an environment of unbelievable among journalists. A race began to catch that ship and at the time every notable head was counted on Bol’s deck.

Right after publishing the story in New York Times these notables start jumping the ship as they were well his conscience would not let him continue” follow the same sense by Azhar abbas and parted ways. Another big gun Iftikhar Ahmad wrote “cannot work for an organization whose basic workings conflict with my professional commitment.” And likewise one after one vice president left the sinking ship and rival media houses which initially said no one will take this journalist but Dunya news breached this unsigned pact by announcing that it’s going to appoint Kamran Khan as president of its organization and then Geo took back Azhar. Muhammad Usman who went Bol from Geo came in Dunya news as director news and resigned later to join Neo news. Wajahat S Khan another journo joined Dunya as an anchor and defense analyst and still working.

aware this will not survive. Mr. Kamran Khan, the president and editor in chief was the first who wrote on twitter”

In Islamabad Mushtaq Minhas was in from row, who was hosting show Bolta Pakistan with Nusrat Javed on
aaj tv before joining Bol said goodbye to journalism and elected MLA in Azad Kashmir assembly on PMLn ticket and became minister now and Nusrat Javed joined Dawn News. In Lahore Mr Khawar Naeem Hashmi struggled a lot for Bol ,set up camp at Lahore press club and a march toward Islamabad and kept Bolwala team members in sprits but at last joined 92 News and still there. In Karachi all many big names left Bol to save their image and others, when accounts of company became dry. In this bleak situation some staffers did not give hope and continue struggle hoping reinventing Bol. Mr. Faisal Aziz Khan was the central character who kept hope alive and eventually Mr. Shaikh granted bail.Meanwhile ARY owner Salman Iqbal announced on his TV that ARY will take over BOL and starts it trasmission in next few weeks and Business man Aqeel Kareem Dhedi also anounced to give Rs 5M to Bol but nothing worked.

As Mr. Shaikh walks out from jail things starts backs to normal but with very slow pace. Bol admin announced that it will regain its strength and will start Bol again with slogan of Pehly se bhi ziada. In his first which also placed on Bol website he assures every Bolwala as under

Adhering to our mission of Winning & Caring - We are announcing that all the BOLwalas of Pakistan
SHoaib Shaikh
(Officers and Staff) would get their outstanding dues with interest till date. Similarly all the respected Vendors & Associates of BOL, who have displayed patience & trust throughout this tenure, will be paid in full, for their outstanding amounts with interest till date.
We would like to assure all Pakistanis; especially BOLwalas, their families, stakeholders and well-wishers of BOL/Pakistan that now everything is Pehle se bhi ziada!

This message by Mr. Shaikh was a ray of hope for many displaced staffers who still not employed any other place. That staff started gathering to re-launch this TV. Bol TV may be launched sooner or later but at the moment big question on surface is finance, because during this period FIA also frozen accounts of company which being restored gradually. Thing getting back to normalcy but with very slow pace that is much logical as money is the central character to start Bol again.

According to me and many critics of industry biggest mistake which was committed by Shoiab Ahmad Shaikh was its “over marketing”. His continues deep throated growl against media owners triggered a spark against Bol. Calling media owners “Saiths” was another cause of harsh fury. Some media industry insiders says that this kind attacks threatens existing media owners and they start thinking to counter this, and because his own house was not much in order so whole industry was united against Bol. I wrote soon after Walsh story that if Shaikh sb start this anti Saith campaign after starting transmission of Bol , this episode might be avoided.


Again there is chance to fulfill his wish to be a media owner and if Shoaib adopted same strategy again he will fail again and if he fail again he will be not be able to wish again. So a simple solution is to start transmission first and not test transmission this time. Shaikh should start channel with available resource in hand. After launching, he may modify its business model to make it more economically viable. If once, it hits the air successfully more serious and trained human resource will be attracted. He should not take back big guns onboard in first phase because firstly it will be tough to handle then commercially and secondly that staff will be demotivated which suffers a lot due and for BOL.

NOTE: One of key Bol staffer officially confirms to me after publishing this article that Bol will hit the airwaves after 76 days. Fingers crossed 

Wednesday, September 28, 2016

INDIA SABUTAGES SAARC



Sabotaging SAARC

I was part of a media conference, titled South Asia Looking East, arranged by the East West Centre International in New Delhi from September 8 to 11. Following the moot, the participants were invited to a dialogue on September 12 to discuss cooperation among South Asian journalists.
A senior Indian journalist claimed that the 19th SAARC conference, scheduled to take place in Pakistan in November, would be called off. Her announcement came just before SusanKreifels, the East West Centre media programmes manager, was to kick start the formal talk.
During South Asia dialogue in Delhi 
The news came as a shock for the audience at Delhi’s Hans Hotel conference hall. They asked her if it was a fact or her desire. She replied, “This is news.” But I believe that it was her desire.
Another senior journalist from Sri Lanka, said, “The Indian prime minister might skip the conference but there is no question of calling it off.”
Indian journalist’s news surfaced at a time when Uri attack had not taken place, no unusual discussion on the Indus Water Treaty was underway and even the UNGA meeting was not under discussion. Does that mean New Delhi had decided to fail the SAARC Conference even before the Uri attack?
This is not the first time the regional cooperation forum has suffered from such issues. However, it is still struggling to narrow down the gap among its members. Two years ago, the conference had held in Nepal and Pakistan PM Nawaz Sharif had refused to use an Indian car there. Instead, he had taken a car from Pakistan to Nepal.
The word ‘cooperation’ becomes awkward when a leader from one of SAARC members refuses to board a bullet-proof car from another member country. What could be the level of expectations when leaders from two member countries don’t even like to come across each other. This is not a new phenomenon; it has been prevailing from decades and SAARC has failed to narrow this trust deficit between two nuclear rivals.
India is not only fleeing from this meet but also forcing other small nations in the region to remain absent from the summit. Following India, Shaikh Haseena-led government in Dhaka has also run away. The Indian media is claiming that Bhutan and Afghanistan, too, will boycott the summit. If India has done so this time, Pakistan will do the same next time. Why is this forum needed further? and eventually it happend and Nepal as chairman announced its cancelation. 
South Asian Association for Regional Cooperation (SAARC) was established in 1985 with the aim of economic cooperation of seven countries located in South Asia. Afghanistan was given membership as 8th state in 2007, the combined economy of SAARC is 3rd largest in the world in terms of GDP as purchasing power parity after the United States and China. Despite being so powerful and important regional club
SAARC could not prove itself as relevant as other such economic blocks in the world. SAARC has six Apex bodies namely SAARC Chamber of commerce & Industry (SCCI), South Asian Association for Regional Cooperation in Law (SAARCLAW), South Asian Federation of Accountants (SAFA), South Asian Foundation (SAF) , South Asian Initiative to End Violence against Children (SAIEVAC) and Foundation of SAARC Writer and Literature (FOSWAL). These bodies exist only on papers with some offices and office bearers but nothing to deliver practically.
After observing the activities of this white elephant (SAARC) it is easily derived that the existence of such forum  is worthless for its member countries and sure no weight among other nations. Number of deliberations and proposals are discussed among member’s nations and other analysts to improve its performance but results are the same that no result.
It is proven fact that engagement is far better than fleeing away or sitting in the corner what India is opting this time and forcing other nations to do the same and do the same for what? Is this forum is belong to Pakistan only? Answer is in negative, this body is for all 8 nations and should not be jeopardies  by one of its members only. If India think it should boycott this conference and also think this step can sooth its convection it should opt this but forcing other nation is a crime against people living under poverty line. If this practice continues this forum will be no longer exist.
I have a views that if this region wish to gain progress on economic front then this forum must be expand with WAARC (South and West Asia Association of Regional Cooperation) instead of SAARC.
2 more nations from South West Asia, that obviously China and Iran to balance power and better usability of this club and curtail it to only economic cooperation. In existing SAARC two powerful and rival nations Pakistan and India, with their so many conflicts is major hurdle to bring cooperation among member countries and not breakthrough is possible unless these 2 remain opponents. To overcome this phenomenon two more powerful and impotent nation is needed to bring in and expand this forum to enhance profitability. A European Union like economic block it may be established. Good relations between Pakistan and China and Iran’s alignment with India will help to resolve difference between India and Pakistan as well. By entering China and Iran in the ring will attract rest world to give weight age to this forum.
Writer is a senior broadcast journalist. He tweets @ajtabassum


Friday, September 23, 2016

EXPRESS MEDIA GROUP AND FAHD HUSAIN



 فہد حسین اور پاکستانیت


مطالعہ چاہے شخصیات کاہو ،اداروں کا ہویا تاریخ کا جب یہ رک جاتا ہے تو انسانی رویوں میں تباہی کے سوا کچھ نہیں لاتا۔۔علم مومن کی میراث تھی لیکن ہم مومنوں نے میراث میں سے باپ دادا کی زمین کے سوا سب کچھ نکال باہر کیا بلکہ اس بچی کھچی میراث میں سے بھی اپنی بہن بیٹیوں کو جھنڈی کراکے خود ہی سب ہڑپ کرنے کے در پے ہوگئے
میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا تھا کہ اختلاف میری امت میں ایک رحمت کی مانند ہے لیکن ہم نے اس اختلاف کے درمیان  سے ت نکال کرآخر میں فٕٹ کرکے اس کو مخالفت بنالیا اور پھراختلاف، جو رحمت تھا مخالفت بن کر ہمارے منہ سے ہر وقت جھاگ کی طرح بہنے لگا۔ذاتی مفاد میں کسی کی پگڑی اچھال پروگرام سوشل میڈیا پر شروع کیا اور پھر مطالعے سےعاری عام لوگ اسی نظریے سے اس کا پرچار کرنے لگے کہ جھوٹ سچ معلوم ہونے لگے۔

میں پچھلے آٹھ سال سے ایکسپریس میڈیا گروپ سے وابستہ ہوں ۔یہ میڈیا گروپ ریاستی نظریات کا سب سے بڑا پرچارک ہی نہیں بلکہ محافظ بھی ہے۔کشمیری مجاہد برہان وانی کی شہادت کے بعد جب بھارت نے ریاستی دہشتگردی کے ذریعے کشمیریوں کوکرفیو میں رکھ کر ان کی آوازدبانے کی کوشش کی تو یہ پورے پاکستان میں صرف ایکسپریس نیوزہی تھا جس کو بھارت سے ایسا کھلا جواب مانگنے کی توفیق اور ہمت ہوئی ۔۔۔چھروں سے زخمی کشمیریوں کے 
ایکسپریس نیوز کی سکرین کا عکس
چہرے جس تواتر سے ایکسپریس نیوز نے اپنی سکرین پر دکھائے اس کی مثال نہیں ملتی ۔ بھارت جواب دو کی مہم کا ایسا اثر ہوا کہ میرا اپنا ویزہ باقاعدہ روک دیا گیا کیونکہ میں بھی اس مہم کا ایک چھوٹا سا حصہ تھا۔مجھے ویزہ جس طرح دیا گیا وہ الگ ایک کہانی ہے۔
میں جب بھارت میں تھا تو بھارتی صحافیوں اور جس جس تک ایکسپریس نیوز کی وہاں رسائی تھی ان سب کی طرف سے مجھے تندوتیز سوالات کا سامنا کرنا پڑا کہ یہ کیا مطلب ہو اکہ بھارت جواب دو۔۔کس بات کا جواب مانگ رہا ہے ایکسپریس نیوز۔۔مجھے بھی وہاں یہ بتانے کا موقع ملا کہ ایکسپریس نیوزبھارت سے اس بات کا جواب مانگ رہا ہے کہ کسی کو گھروں میں قید کرکے پانی اور کھانا بند کرکے انٹرنیٹ اور فون سے دور کرکے ان کے چہروں کو چھروں سے چھلنی کرکے انسانوں سے صرف اختلاف رائے کا بدلہ کیسے لیا جاسکتا ہے؟ ۔۔بس اسی بات کا جواب مانگ رہا ہےایکسپریس نیوز۔بھارت جواب دو مہم کے مصنف کا نام فہد حسین ہے۔وہ فہد حسین جس نے بھارت جیسے پاکستان دشمن  ملک کو دیکھنے کا مؤثرترین نظریہ ہمیں دیا۔
22ستمبر کو پاکستان کے بڑے اخبارات بشمول جنگ ،دی نیوز نیشن اور ڈان میں
روزنامہ جنگ میں خبر کاعکس
  یہ خبر شائع ہوئی کہ کسی امریکی رکن کانگریس نے پاکستان کو دہشتگرد ریاست قراردینے کا بل پیش کیا گیا ہے۔روزنامہ جنگ میں یہ خبر تین کالم شائع ہوئی اور روزنامہ ایکسپریس میں یہ خبر صرف سنگل کالم اور مختصر ترین شائع کی گئی ۔ اسی طرح ایکسپریس ٹریبیون نے بھی اس خبر کو شائع کیا اورپہلی ہی سطر میں یہ بتایا کہ یہ خبر بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے شائع کی ہے۔ تاکہ قارئین اس خبر کو پڑھتے ہوئے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اگر اس میں کوئی قابل
روزنامہ ایکسپریس کی خبر کاعکس
اعتراض بات ہے( ویسے تو کوئی تھی ہی نہیں) تو وہ ٹریبیون کی رائے نہیں ہے بلکہ ٹائمز آف انڈیا کی ہوسکتی ہے ۔ دوسرے الفاظ میں ٹریبیون نے دیگر پاکستانی اخبارات کی طرح اس خبر کو اوون نہیں کیا بلکہ صرف رپورٹ کرتے ہوئے بتایاکہ یہ بھارتی اخبار میں شائع ہوئی ہے۔ لیکن دوسری طرف دی نیوز نے اسی خبر کو واشنگٹن میں اپنے نمائندے واجد علی سید کی بائی لائن سے شائع کیا اور اس خبر میں مکمل اونرشپ بھی لی ۔ میرے دوست جو میڈیا میں ہیں وہ جانتے ہیں کہ
دی نیشن کی خبر کاعکس
دونوں میں کیا اور کتنا بڑا فرق ہے۔ اس خبر کو بی بی سی نے بھی رپورٹ کیا۔
یہ خبر 22ستمبر کو پاکستان کے میڈیا میں آئی لیکن ایکسپریس نیوز نے اس خبر کو اپنی سکرین پر جگہ دینے کے قابل ہی نہیں سمجھا یہ فیصلہ بھی ایکسپریس نیوزکے لیڈر فہد حسین نے ہی کیا ۔آپ سب لوگ جانتے ہیں کہ ٹی وی پر خبر آنے کا کیا مطلب ہوتا ہے ۔ٹی وی پاکستان کے عام لوگ دیکھتے اور اس پر یقین کرتے ہیں اسی طرح اردو اخبارات بھی میری طرح کےعام لوگ پڑھتے ہیں لیکن انگریزی اخبارات کے قارئین زیادہ پڑھے لکھے اور تجزیہ
روزنامہ ڈان کی خبر کاعکس
کرنے کی صلاحیت کے حامل افراد ہیں اور یہ بہت ہی کم تعداد میں بھی ہیں۔ یہ خبر 22ستمبر کو ٹریبیون میں شائع ہوئی لیکن ایک دن بعد 23ستمبر کو صبح سوشل میڈیا پر صرف ٹریبیون اور اس کے ایڈیٹرفہد حسین کو ٹارگٹ کرکے طوفان بدتمیزی برپا کردیا گیا ۔ میں نے ان ٹویٹس  کو بڑے غور سے پڑھاہے اس کے بعد ایک بات بہت ہی واضح نطر آئی کہ یہ مہم
روزنامہ دی نیوز کی خبرکاعکس
چلانے والے فہد حسین کو جانتے ہی نہیں ہیں یا پھر فہد حسین کے خاندانی پس منظر اور اس کے محب وطن ہونے کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔دونوں صورتوں میں ہی یہ ٹوئٹر کے جہادی کم از پاکستان کی خدمت تو نہیں کررہے یا شاید کچھ مفاد پرست عناصر اپنے ایجنڈے کو اس خبر میں لپیٹ پر بیچنے کی کوشش کررہے ہیں۔میری ٹوئٹر کے ان جہادیوں جو فہد حسین کونہیں جانتے ہیں ،سے درخواست ہے کہ وہ گوگل چاچو کی مدد لیں فہد حسین لکھیں اور ان کے آرٹیکلز سرچ کریں پھر کسی بھی ایک آرٹیکل کو ٹھنڈے دماغ سے پڑھیں بھلے تعصب کی عینک لگالیں آپ کو فہد حسین میں ایک سچا اور محب وطن پاکستانی ہی نظر آئے گا۔ مزید ضرورت پڑے تو فہد حسین کی زیر نگرانی چلنے والے ٹی وی ایکسپریس نیوزکی پچھلے چار دن سے کوریج کو دیکھ لیں پتہ چل جائے گا ایکسپریس میڈیا اور فہد حسین کس کے ایجنڈے پر ہیں ۔اگر وہ کچھ نہ ملے جو کچھ تعصب زدہ اور مطالعہ سے عاری دیکھنایا دکھانا چاہتے ہیں تو خدارا مطالعے کی عادت ڈالیں کہ مطالعہ چاہے شخصیات کاہو ،اداروں کا ہویا تاریخ کا جب یہ رک جاتا ہے تو انسانی رویوں میں تباہی کے سوا کچھ نہیں لاتا۔۔۔

نوٹ: میں یہ تحریر اس لیے نہیں لکھ رہا کہ میں ایکسپریس گروپ میں کام کرتا ہوں بلکہ اس لیے لکھ رہا ہوں کہ میں فہد حسین کوجانتا ہوں۔۔

Saturday, June 11, 2016

NEWSROOM WORKSHOP in CENTER FOR EXCELENCE IN JOURNALISM IBA KARACHI



شکریہ سی ای جے 

پندرہ مئی 2016کوجب لاہور ایئرپورٹ سے کراچی میں سنٹرفارایکسی لینس ان جرنلزم(سی ای جے) کی نیوزروم مینیجمنٹ ورکشاپ کے لیے اڑان بھر ررہاتھا تواس قافلے میں شریک صرف ایک دوست اورکولیگ اویس حمید ہی تھے جنہیں میں جانتاتھا،یاپھراس سنٹرکی مس مودی سے سمعی رشتہ تھا جن کی اس ورکشاپ کے لیے اپلائی کرنے کے چند لمحے بعد ہی ایک ٹیلی فون کال موصول ہوئی تھی صرف یہ معلوم کرنے کے لیے کہ کیا آپ آنے میں سنجیدہ ہیں؟میں نے اپنی سنجیدگی کا یقین دلایا توانہوں نے میری نشت کنفرم کردی ۔اس طرح کی اہم ٹریننگ کے لیے اتنےآسان طریقہ انتخاب نے خوش گوار حیرت میں ڈال دیا۔مس مودی نے ہی روانگی سے ایک روز قبل فیس بک پر ایک گروپ بنادیا جس میں کچھ ممبرزسے نام کی حدتک شناسائی تھی ان میں فواد خورشید اور تیمورشجاع شامل تھےسٹی فورٹی ٹوکے زین نقوی سے دوستی تھی لیکن ان کی موجودگی کا پتہ کراچی ایئر پورٹ پر اترنے کےبعد چلا۔

لاہور ایئرپورٹ کے بورڈنگ لاؤنج میں بیٹھا جہاز کی روانگی کا انتظار کررہاتھا تو عائشہ وٹوتشریف لے آئیں ان سے شناسائی بھی فیس بک کے اسی گروپ سے ہوئی تھی، لیکن ان کی موجودگی اس لیے کھٹک
میں اوراویس
رہی تھی کہ نیوزروم کی ورکشاپ میں پیمراکاکیاکام؟تھوری دیر بعد ان کے ساتھ ایک اور لڑکی آکربیٹھ گئی ان کے بارے میں بھی یہی سمجھا کہ پیمراسے ہی ہوں گی کراچی جاکران کی شناخت میرے لیے آمنہ منصور کے نام سے ہوئی۔میرے لیے یہ سفراس لیے بھی بہت خوشگوارتھا کہ میں پہلی مرتبہ کراچی جارہاتھا۔کراچی ایئرپورٹ پراترتے ہی حسب پروگرام آواری ٹاورکی گاڑیاں ہمیں ہوٹل لے جانے کے لیے تیارکھڑی تھیں۔دن دوبجے کے قریب ہوٹل پہنچ کر چیک ان کیا یہ اتوار کا دن تھا اور ورکشاپ اگلے روز شروع ہونا تھی سویہ دن کمرے میں ہی گزارااور رات ڈنر کے لیےہوٹل کی چھت پر لگے اسکائی باربی کیوپر چلے گئے۔وہیں ایک کونے میں بیٹھے فواد خورشید سے ملاقات ہوگئی تو احسن رضا ورکشاپ کے منٹورمسٹرباب گبوڈی کو ہم سے ملانے لے آئے۔ باب گبوڈی کا تعلق امریکی ریاست فلوریڈا سے ہے ۔باب بہت سینیئر جرنسلٹ اور فلوریڈا ٹائمزکے ایگزیکٹوایڈیٹرہیں۔باب نے بھی واپس جاکر کراچی اور پاکستان کے حوالے سے اپنی خوشگواریادیں اپنے بلاگ میں لکھی ہیں۔

باب کی طرح کراچی کی ٹریفک اور ایک موٹر سائیکل پر پانچ افراد پر مشتمل فیملی کی سواری میرے لیے نئی یا انوکھی بات نہیں تھی کیونکہ ٹریفک کا نصاب پورے ملک میں ایک جیسا ہی ہے۔اگرآپ گاڑی چلارہے ہیں توموٹرسائیکل سوارکی حفاظت بھی آپ کی ذمہ داری ہے وہ کبھی بھی کسی جگہ سے آپ
باب کے ساتھ سیلفی
کے آگے آسکتاہے۔باب اپنے ڈرائیورکوآئن سٹائن سمجھتا تھا لیکن یہاں ہرگاڑی چلانے والاایسے ہی ٹرینڈ ہے۔کراچی کی تیز سمندری ہوایہاں درجہ حرارت کم رکھنے کےلیےواحد نعمت ہے وہیں مجھے یہ ہوابہت بری لگتی تھی ایسا موسم لاہور میں صرف اگست میں ہوتا ہے جب ہوا میں نمی اور حبس اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ لوگ لو کی دعا مانگتے ہیں لیکن اس حبس اور ہوا کا صرف چھ دن سامنا کرنا تھا اس لیے زیادہ پرشانی نہیں تھی۔

پیرکی صبح ساڑھے نو بجے ناشتے کے بعد آئی بی اے کے سٹی کیمپس لے جانے کے لیے گاڑی انتظارکررہی تھی اور محبوب بھائی اسکارٹ کرتے ہوئے ہمیں کیمپس لے گئے ۔آئی بی اے کے امن ٹاور
سی ای جےکااسٹوڈیو
کی چوتھی منزل پر سینٹرفار ایکسی لینس ان جرنلزم قائم کیا گیاہے۔امریکی اداروں کے تعاون سے بنایا گیا یہ سنٹرپاکستان جیسے ملک میں یہاں ٹریننگ کے مواقع نہ ہونے کے برابرہیں،کسی بڑی نعمت سے کم نہیں۔اس سنٹرمیں یہاں مکمل ٹی وی اسٹوڈیو اور آن ایئرکرنے کا انفرااسٹرکچر ہے وہیں ایک خوبصورت اور جدید نیوزروم بھی بنایاگیا ہے۔اس نیوزروم کے ساتھ ایڈیٹنگ سویٹ دیکھ کر تومیں مبہوت ہوکررہ گیا۔ایسے جدید ایڈیٹنگ سسٹم شاید پاکستان کے کسی بھی نیوزچینل میں موجود نہیں ہیں۔

صبح دس بجے کلاس شروع ہوئی توباب نے ہمیں خوش آمدید کہا،35صحافی کمرے میں موجود تھے۔پہلا سیشین تعارف کا تھاجس میں ہمیں ایک دوسرے سے شناسا ہوناتھا۔یہ سیشن بہت مفید رہا۔اپنے ان دوستوں سے جو ہمارے ساتھ اسی شہر میں دوسرے چینلز اوراخبارات میں کام کرتے ہیں ان سے ملاقات کراچی کی اس ورکشاپ کی بدولت ممکن ہوئی اسلام آباد سے آئے کچھ ساتھیوں سے جان پہچان اور پیمراسے آئے چارافراد سے بھی شناسائی ہوئی اور ورکشاپ کے دوران کچھ معاملات پران کا نقطہ نظرجاننے کا موقع بھی ملا۔ ہمیں حیرت اس وقت ہوئی جب نیوزروم کی اس ٹریننگ ورکشاپ میں اسلام آباد سے دو رپورٹربھی حصہ لینے میں کامیاب دیکھے گئے۔اس لیے خاموش رہے کہ یقینی طورپر پیمرانمائندوں کوشامل کرنے کی طرح رپورٹرزکوحصہ بنانے میں بھی کوئی مصلحت ہوگی۔

پانچ دن کی اس ورکشاپ کا ہر سیشن ہی خوب تھامجھے جو کمی محسوس ہوئی اس کا اظہارمیں نے وہاں بھی کردیاتھا کہ اس ٹریننگ میں زیادہ تعداد ترٹی وی صحافیوں کی تھی لیکن اس ورکشاپ کے دونوں ترینرزکا تعلق پرنٹ میڈیا سے تھادومیں سے ایک کاانتخاب ٹی وی نیوزروم سے ہوتاتوافادیت دوگنا
کمال صدیقی 
ہوجاتی لیکن یہ کمی دوسرے ٹرینرکمال حق صدیقی صاحب پوری کرنے میں کافی کامیاب رہے۔کمال صدیقی صاحب جب بھی آتے کلاس میں تحریک پیدا ہوجاتی ۔کمال صاحب بھی باب کی طرح پاکستان کے سینیرجرنلسٹ اور ایکسپریس ٹریبیون کے ایڈیٹرہیں،کمال صدیقی اس سنٹر کے ڈائریکٹربھی ہیں صحافتی اخلاقیات اور ضابطہ اخلاق پر ان کا سیشن کمال کاتھا۔کچھ دیر بعد ایک لڑکی کیمرہ اٹھائےکمرے میں داخل ہوئی ۔تصاویر بنانا شروع کیں تو پتہ چلا یہ مس مودی(مدیحہ) ہیں۔مدیحہ کی ڈیوٹی تصاویر اور دوسری سرگرمیوں کوسوشل میڈیا پر ڈالنا بھی تھا۔پانچوں دن انہوں نے تصاویر بنائیں لیکن مجھے ان سے گلہ ہی رہا کہ کلاس میں میری جگہ ایسے کونے میں تھی کہ ان کی کوشش کے باوجودنہ میں کسی تصویر میں آسکا اور نہ میرے ساتھ بیٹھااویس ۔جب بھی ہم فیس بک پراپنی کلاس کی تصاویر دیکھتے مایوس ہی ہوتے لیکن اس میں قصور ہماراہی تھا کہ اپنی جگہ تبدیل کرنے کی مکمل آزادی کے باوجود ہم درویشوں کی طرح اسی کونے میں پانچ دن باقاعدگی سے بیٹھتے رہے۔ہمارے ورکشاپ کے ایک کولیگ ریحان حیدر بھی باقاعدگی سے کیمرہ ساتھ لاتے تھے انہوں نے بھی تھوک کے حساب سے تصاویربنائیں لیکن ہمارے ساتھ ان کاسلوک بھی مس مودی سے بہت مختلف نہیں تھا۔جب ہم نے یہ لکھاتوانہوں نے اس کو چیلنج کردیا اور اپنی سیکڑوں تصاویر میں سے ہمارے صرف ایک تصویر ڈھونڈنے میں کامیاب ہوئے جس میں صرف ہم ہی خود کو پہچان سکتے تھے۔

پہلے ہی دن مدیحہ نے اعلان کیا کہ الوداعی ڈنر اور تصویر دوسرے ہی دن کھینچ لی جائے گی کیونکہ
آئی سی ایف جے کی علیزاٹنسلے کے ساتھ
آئی سی ایف جے (انٹرنیشنل سنٹر فار جرنلسٹ) کی ڈپٹی وائس پریزیڈنٹ علیزاٹینسلے جو پاکستان میں تھیں انہوں نےواپس جانا ہے اور سنٹرکی خواہش ہے کہ وہ اس ڈنر اور تصویر میں شامل ہوں اس لیے الوداعی ڈنر افتتاحی روز ہی رکھ دیا گیاہے۔اگلے دن تصویر بنائی گئی اور رات آٹھ بجے کراچی کی مشہوراور دلفریب فوڈمارکیٹ دودریا پر ڈنر ہمارا انتظارکررہاتھا اس ڈنر میں جیونیوزکے اظہر عباس صاحب بھی شریک تھے۔اگلےروزوہ ایک سیشن کے لیے ورکشاپ میں بھی شریک ہوگئے ۔ان کاسیشن بھی یادگاررہا۔۔سمندر کنارے بیٹھ پر کھانے کا لطف اور بھی بڑھ گیا۔

 سی ای جے میں ہماری کلاس چوتھی منزل پرہوتی تھی لیکن ہمیں محبت پانچویں فلور سے ہوگئی تھی کیونکہ ہمارے کھانے کا انتظام پانچویں فلورپر تھا،ہرڈیڑھ گھنٹے بعدہائی ٹی اور دوپہرمیں بوفے لنچ یوں لگتاتھا کہ ورکشاپ توایک بہانہ ہی ہے اصل کام توکھانے اور چائے کا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ سنٹرنے ہماری میزبانی میں کوئی کسرباقی نہیں چھوڑی تھی۔لاہور سے لاہور تک کا ہوائی سفراور کراچی میں پانچ ستارہ ہوٹل میں ناشتے اور ڈنر کے ساتھ قیام اس کی مثالیں ہیں۔

کلاس سے پانچ بجے فارغ ہوکر ہوٹل پہنچتے تواس کراچی کو قریب سے دیکھنے کی خواہش مچل جاتی جس کو اب تک صرف بری خبروں اور ٹی وی پر ہی دیکھتے رھے۔کراچی ہم کبھی پوری طرح نہ دیکھ
 پاتے اگر ہمارے دوست ایکسپریس نیوزکے ڈائریکٹرکریٹو صمد خالق،آج ٹی وی کے حمیرانور،نیوزون کےایگزیکٹوپروڈیوسرحسنین خواجہ اور ایکسپریس نیوزکے بیوروچیف فیصل حسین اس کی ذمہ داری نہ لیتے۔
حمیرانور،اویس اور میں
حمیر ہمیں ہوٹل سے اٹھاتے اور ساحل سمندراور برنس روڈ،ڈولمن مال لے جاتےتوصمد بھائی نے نائن زیروجانے میں ہماری مددکی۔صمد نے ہوٹل میں ہمیں طویل کمپنی دی توکبھی رات کے درمیانی پہربوٹ بیسن پرکھانے کےلیے لے گئے،صمد بھائی بہت ہی سویٹ انسان ہیں تو حمیرکی خوشی نے ہمیں اپنی اہمیت کااحساس دلائے رکھا۔ناصربٹ نے کراچی پریس کلب میں ہمیں داخل کرانے میں بڑاکرداراداکیا(کراچی پریس کلب میں داخلے کی کہانی طویل ہے جو پھر کبھی لکھوں گا)اور اپنی لینڈکروزرمیں کراچی کی سبھی سڑکیں ہمیں دکھائیں۔
سی ای جے کی سربراہ کرسٹی لوڈرنے تھوڑالیٹ جوائن کیالیکن آخری دو دن مسلسل ہماری کلاس میں موجود رہیں۔کھانے کی میزپر بھی ساتھ دیاوہ سنٹر کی اور ذمہ داریوں میں زیادہ مصروف رہیں اس لیے ہم ان کی باتوں سے محروم رہے لیکن ہماری خواہش ضرورتھی کہ وہ بھی ایک سیشن میں ہماری رہنمائی کرتیں لیکن کورس میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے ایسا نہ ہوسکا۔

20مئی ورکشاپ کا آخری دن تھا،باب آخری سیشن تک اسی توانائی سے ہمیں سکھانے کی کوششوں میں جتے رہے جیسا پہلے دن تھا۔ہم شاید کسی وقت تھک گئے ہوں گے لیکن گریٹ باب گبوڈی ہردم تیاراور تازہ دم نظر آئے۔باب وقت کے بہت پابندتھےانہوں نے کلاس میں اپنے سامنے ایک گھڑی رکھوائی ہوئی
باب،کمال اور کرسٹی لوڈر
تھی ہمارے بعض شرارتی کلاس فیلو سیشن جلدی ختم کرانے کےلیےاس گھڑی کوکبھی کبھی آگے بھی کردیا کرتے تھے لیکن کبھی پکڑے نہ گئے۔آخری سیشن میں ہمیں ہماری محنت کا پھل دیا گیا۔سرٹیفیکیٹ کے ساتھ گروپ فوٹوایک مختصرتقریب میں باب اور کمال صدیقی صاحب نے تقسیم کیے۔


ورکشاپ ختم ہوچکی تھی لیکن کراچی میں مزید ایک دن کاقیام ابھی بھی باقی تھا۔اس وقت کافائدہ اٹھاتے ہوئے ہم نے جیوکارخ کرلیا،میں اور اویس آئی آئی چندریگرروڈ پر واقع جیوآفس پہنچے تو وہاں اسدہماراانتظارکررہےتھے۔جیوکے نیوزروم میں ایک گھنٹہ گزارادوستوں سے ملاقاتیں اور پھر واپسی،رات کو حمیر نے ہمیںجاوید کی نہاری
 کھلانے کاسکہ بندپروگرام بنارکھاتھا۔جاوید کی نہاری کی جتنی تعریف
صمد خالق،اویس اور میں
لاہور میں سن رکھی تھی یہاں کھانے والوں کا رش اس کی حقیقت بتارہاتھا،ہمیں کافی انتظارکرناپڑاٹیبل حاصل کرنے کےلیے۔واپسی پر مزارقائد پر فاتحہ خوانی کا پروگرام تھاجوہمارے ملک کی سکیورٹی کی نذرہوگیا،مزار کے باہر ہی سے فاتحہ پڑھی اورایئرپورٹ کی راہ لی۔واپسی پر ایکسپریس نیوزکے ایگزیکٹوڈائریکٹرنیوزسید فہد حسین نے نیوزکی میٹنگ میں اس ورکشاپ کے عملی حصوں پر ہمارے تجربات بڑے غور سے سنے اور بہت سی اچھی چیزیں ایکسپریس کے نیوزروم میں اڈاپٹ کرنے کی نوید بھی سنائی۔یہ تجربات نہایت خوشگواربھی تھا اور فائدہ مند بھی۔۔شکریہ سی ای جے۔۔