Wednesday, June 8, 2022

EDEN Housing Society Fraud

 

ایڈن ہاوسنگ متاثرین بنام نیب


چھ جون بروز پیر کو صبح ساڑھے آٹھ بجے لاہورکی احتساب عدالت پہنچا توعدالت کے بیرونی دروازے پرایڈن ہاوسنگ سوسائٹی کے فراڈ کے متاثرہ گیارہ ہزار خاندانوں کے نمائندوں کی بڑی تعداد سرکار، نیب، ایڈن کے مالکان اور عدلیہ کا نوحہ پڑھ رہے تھے۔ جون کی گرمی اس قدررنگ دکھارہی تھی کہ صبح کے نو بجے ہی سورج سوا نیزے پر آکر چہروں کو جھلسارہا تھا۔ متاثرین میں بڑی تعداد میں خواتین، بیوہ، بچے اور ادھیڑ عمر کے ساتھ ساتھ عمررسیدہ افراد بھی شامل تھے۔ ان متاثرین کے صبر اور بے بسی نے اب شدید غصے کا روپ دھارلیا تھا۔ آج ایڈن کے فراڈیوں کے نیب ریفرنس کی آخری سماعت تھی  جس میں جج صاحب نے ایڈن کے مالکان اور نیب کے درمیان ملی بھگت سے طے پانے والی پلی بارگین کی منظوری دینی تھی۔ متاثرین عدالت کے احاطے میں جانے کے لیے کبھی گیٹ ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کے ترلے کرتے تو کبھی غصے میں آکر ان کو ہی بددعائیں دینے لگ جاتے۔
افتخارچودھری،سابق چیف جسٹس
ایڈن کے فراڈیوں کے خلاف نیب کا کیس تو دوہزار انیس میں شروع ہوا لیکن یہ فراڈ تیرہ سال پرانا ہے ان تیرہ سالوں میں ایڈن کے ڈاکووں نے غریبوں کوپلاٹ اورگھر دینے کے بدلے اربوں روپے جمع کیے لیکن جب زمین دینے کی باری آئی تو یہ پیسا لے کر ملک سے بھاگ نکلے، ان لوگوں نے دبئی میں جاکر انہی پیسوں سے زمینیں خریدیں اپنے کاروبار بڑھائے اورپیچھے متاثرین کی ایک بے بس فوج اس پاکستان میں چھوڑ گئے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس ملک میں انصاف عام آدمی کے بس کی بات ہی نہیں ہے۔پھر وہ فراڈ کرتے بھی کیوں نہ کہ  انہیں اس ملک کے طاقتور وں کی مکمل پشت پناہی جو حاصل تھی۔ایڈین ہاوسنگ کا فراڈ پاکستان میں پیسے، اقتدار اور عدلیہ کے گٹھ جوڑ کی کہانی ہے۔آپ یہ جان کر حیران نہیں پریشان ہوں گے کہ ایڈن کے مالک ڈاکٹر امجد نے اس وقت اپنے بیٹے کا رشتہ ملک کے حاضرسروس چیف جسٹس افتخارمحمد چودھری کی بیٹی سے طے کیا جب یہ فراڈ جاری تھا۔ اس کیس میں متاثرین کے ہاتھ اس لیے بھی کچھ نہ آسکا کیونکہ جب نیب نے ریفرنس فائل کیا تو سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کے داماد اور ایڈن کے مالک ڈاکٹر امجد کے بیٹے مرتضٰی امجد کو انٹرپول کے ذریعے دبئی میں گرفتار کیا لیکن افتخار چودھری کے دباو میں پاکستان کی ماتحت عدلیہ نے دبئی میں موجود اس مجرم کی یہاں لاہور میں ضمانت منظورکرلی۔ اس کے بعد وہ فراڈیا داماد کسی کے ہاتھ آیا اور نہ اس ملک کی عدلیہ نے اپنے سابق چیف جسٹس کو پوچھنے کی ہمت کی کہ جس دامادکی آپ نے اس کی غیرموجودگی میں ضمانت کروائی تھی وہ عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوا؟

میں ان روتے سسکتے اورغصے میں سب کو بددعائیں دیتے متاثرین کو دیکھتا ہواعدالت کے احاطے میں داخل ہوا۔ سوچ بھی رہا تھا کہ اندر جج صاحب نے کرنا تو آج بھی کچھ نہیں۔ نیب جو پلی بارگین  کی پرچی لائے گا اس پر مہر ہی لگانی ہے تو پھر کیا فرق پڑتا ہے کہ باہرسخت دھوپ میں سلگتے ان متاثرین کو عدالت کے اندرآنے کی اجازت دے دی جاتی تاکہ ان کو یہ سکون تو ہوتا کہ جج صاحب کو ہی ایک بار دیکھ لیتے کہ ان کی قسمت کا فیصلہ کرنے والا دکھتا کیسا ہے؟ شاید جج صاحب ان کو دیکھ کر کوئی میٹھا اور ہمدردی کا بول بول دیتے تو ان کی تکلیف ہی تھوڑی کم ہوجاتی لیکن یہ سب سوچنے کی باتیں ہیں سو میں نے بھی سوچ لیں اور عدالت کی طرف بڑھ گیا۔

مجرمہ انجم امجد
ایڈن بنام نیب یہ کیس احتساب عدالت نمبر چار میں جج صاحب  شیخ سجاد احمد کے پاس لگاہوا تھا۔ میں نے دروازے پر لگا روسٹردیکھا تو سب سے اوپر ایڈن کا کیس تھا جس میں مجرمہ اور ڈاکٹر امجد کی بیوہ انجم امجد کی ضمانت قبل از گرفتاری کا عنوان درج تھا۔اس روسٹر پر کل نو مقدمات درج تھے۔ میں عدالت کے اندر پہنچا تو سوا نو بجے کا ٹائم تھا لیکن جج صاحب کی کرسی خالی تھی احساس ہوگیا کہ کسی کو انصاف دینے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔وقت کی پابندی کتابوں میں ہوتی ہے یا پھر بالی ووڈ کی فلموں میں۔ عدالت کے اندرچند ہی لوگ تھے کیونکہ کسی کو اندر آنے کی اجازت ہی نہیں ملتی۔ کمرے میں جولوگ تھے وہ بھی اسی طرح کی مصیبتوں کے مارے ہی لگ رہے تھے۔ کوئی ڈبل شاہ کا ڈسا ہوا تھا تو کوئی ایڈن کا۔ میں نے عدالت میں دیکھا تو ایک کونے میں مجھے مجرمہ ڈاکٹر انجم امجد بیٹھی دکھائی دی۔ سفید رنگ کی بڑی چادر اوڑھ رکھی تھی  اور منہ پر این نائٹی فائیو ماسک لگارکھاتھا۔ اس کی آج  عبوری ضمانت کا کیس تھا لیکن مجھے اس کی آنکھوں میں گرفتاری کا کوئی خوف نظر نہیں آیا شاید اس کو یقین تھا کہ عدالت میں صرف کاغذی کارروائی ہی ہونی ہے۔ کیونکہ اسی مجرمہ کو اسی معزز عدالت سے پچھلے چھ ماہ سے ضمانت میں توسیع پر توسیع مل رہی تھی۔

یہ وہی ڈاکٹر انجم امجد ہیں جس کو چودھری پرویز الہی نے دوہزار دومیں پنجاب اسمبلی کی ایم پی اے بنایا تھا کیونکہ موٹی پیسے والی پارٹی تھی۔ لینڈ مافیا سے تعلق بنایا اور پھرمبینہ طورپر اپنے بیٹے مونس الہی کو ان کے ساتھ اسی کام پر لگادیا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ چیف جسٹس افتخار چودھری کے ہی زمانے میں ایک ای اوبی آئی کرپشن کیس آیا تھا۔ اس کیس میں بھی ایڈن ملوث تھا اور مونس الہی کا نام بھی تھا۔ افتخار چودھری نے فوری اس کیس کاسو موٹو لیا۔ ای او بی آئی  کے اس کرپشن کیس سے کچھ رقم کی واپسی کے عوض ایڈن اورمونس الہی دونوں کو نکال باہر کیا تھا اور گرفتار ہواتھا پیپلزپارٹی کے وزیرنذرمحمد گوندل کا بھائی۔ اس وقت ان کو بچایا توان کا گٹھ جوڑ افتخارچودھری سے اور گہرا ہواجوبیٹی کے رشتے پراختتام پذیر ہوا۔ آج متاثرین صرف ایڈن کو ہی اپنا مجرم نہیں سمجھتے ان کے نزدیک افتخار محمد چودھری ان کی عدلیہ اورنیب سب مجرموں کی قطار میں کھڑے ہیں کیونکہ نیب نے بھی انہی مجرموں کا ہی کیس لڑا۔ 

نیب نے جب ریفرنس بنایا تھا دوہزار انیس میں تو متاثرین سے لوٹی رقم کی واپسی کے لیے پچیس ارب روپے کی کرپشن کا الزام لگایا تھا اور ریفرنس میں درج کیا تھا کہ ایڈن کی جائیدادوں کی قیمت پچیس ارب ہے یہ بیچ کر رقم متاثر ین کو اداکی جائے گی۔ آج تین سال بعد نیب نے ایڈن والوں سے مل کروہ رقم مارکیٹ ویلیو کے حساب سے بڑھانے کی  بجائے کم کرکے سولہ ارب روپے کردی۔ جج صاحب نے سوال کیا کہ ریفرنس تو 25ارب کا تھا پلی بارگین 16ارب کی کیوں؟ اس پر نیب کے پراسیکیوٹراسداللہ نے کیا سادگی سے جواب دیا کہ سر اس وقت ہم نے اندازہ لگایا تھا کہ اگر ان زمینوں کی ڈویلپمنٹ مکمل ہوجائے ایل ڈی اے اجازت دیدے تو ان کی قیمت پچیس ارب ہوگی  لیکن اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سولہ ارب نکل آئیں تو بھی ٹھیک ہے۔ متاثرین کے ایک نمائندے نے کہا کہ مائی لارڈ تین سال بہت زیادہ ہیں پیسوں کی واپسی کا دورانیہ کم کردیں ہم پہلے ہی تیرہ سال سے چھت کے لیے ذلیل ہورہے ہیں اس پر جج صاحب نے کہا آپ جتنا چاہیں احتجاج کرلیں میں نے تو قانون کو دیکھنا ہے۔اس پر میرے جیسے ایک بندے کے ذہن میں سوال اٹھا کہ مائی لارڈ جان کی  امان پاوں توعرض کروں کہ آپ قانون کے پابند ہیں۔ یہی قانون کہتا ہے کہ اس مجرمہ کو گرفتارہونا چاہئے تھا لیکن جناب اس مجرمہ کو مسلسل ضمانت دیے جارہے ہیں۔ قانون کہتا تھا کہ اس کا شوہرجو مرکزی مجرم تھا۔ جس کو موت کے وقت سکون کا جنازہ بھی نہیں نصیب ہوسکا۔ اس کاجنازہ بھی پولیس کے پہرے میں پڑھا یا گیا اس شخص کو بھی جیل میں مرنا چاہئے تھا لیکن قانون نے خوب نرمی دکھائی۔اسی قانون سے راستے نکالے گئے۔

جاوید اقبال، سابق چیئرمین نیب
جج صاحب نے نیب سے چند سوال کیے اوراٹھ کرچلے گئے جس پر عدالت میں موجود سب نے یہی اخذکیا کہ کیس ختم ہوگیا ہے۔ میرے لیے حیران کن ہی تھا کہ جج صاحب کوئی حکم نہیں سناکرگئے۔اس کے بعد عدالت خالی ہوگئی اوراس دن کی عدالت بھی اختتام کو پہنچ گئی۔ مجرمہ انجم امجد کو متاثرین سے بچاکر پروٹوکول میں چور راستے سے باہر نکال کر گھربھیجا گیا۔ ان لوگوں نے متاثرین کے اربوں روپے تیرہ سال تک استعمال کیے۔ اس رقم کیساتھ کاروبار کیے پراپرٹی بنائی  اور جو نیب کے ذریعے متاثرین کو تین سالوں میں واپس کرنے پر راضی ہوئے ہیں وہ ان متاثرین سے ہتھیائی گئی رقم کا منافع بھی نہیں ہوگا۔اس طرح اس ملک میں مافیاز کام کرتے ہیں۔

میں واپس نکلا تو متاثرین شدید غصے میں نعرے لگارہے تھے۔وہ اس پلی بارگین کی رقم اورواپسی کی مدت سے بالکل بھی مطمئن نہیں تھے لیکن اب فیصلہ ہوچکا تھا۔ اس فیصلے میں نہ پیسے دینے والے متاثرین کو شامل کیا گیا نہ ان کی سنی گئی۔ نیب نے اس پلی بارگین کو اپنی فتح قراردیتے ہوئے ٹی وی چینلزکو خبرجاری کردی کہ متاثرین کیلیے بڑی خوشخبری۔ نیب نے تاریخ کی سب سے بڑی پلی بارگین کرلی۔میں سوچتا رہ گیا کہ کیسے نیب کے ریفرنس اربوں سے شروع ہوکر کروڑوں پر ختم ہوتے ہیں۔



Saturday, July 31, 2021

WHO WILL BE THE PRIME MINISTER OF AZAD KASHMIR

 

کون بنے گا وزیراعظم؟

کون بنے گا آزادکشمیر کاوزیراعظم یہ ہے وہ ملین ڈالر سوال جس کا جواب صرف کشمیری ہی نہیں، کشمیر میں جیتنے والے اراکین ہی نہیں ، تحریک انصاف ہی نہیں بلکہ پورا پاکستان جاننے کو بے قرارہے۔کشمیر کے وزیراعظم کےلیے  پیسہ دیکھا جائے گا، شہرت معیار بنے گی  یا کسی متحرک سیاسی رہنما کا انتخاب کیا جائے گا۔ فیصلے میں روحانیت غالب آئے گی،ستاروں کی چال کو پرکھا جائے گا ،علم االاعداد سے مدد لی جائے گی،کسی کا نام ہی  اس عہدے کی ضمانت بن جائے گا  یا  پھرعقل اور دماغ کی  سنی جائے گی ۔سیاسی تجربہ دیکھا جائے گا۔لیڈرشپ کی کوالٹی کو سامنے رکھا جائے گا۔ اس کا ماضی پرکھا جائے گا، مستقبل کا وژن دیکھا جائے گا ۔  طاقتور لابی کوخوش کیا جائے گا یا کشمیر میں سیاسی مقبولیت کو سامنے رکھا جائےگا۔ یہ سب سوالات ہیں ،خدشات اورکہی سنی کہانیاں ہیں۔پہلے تین شخصیات اس دوڑ میں شامل تھیں تینوں کے انٹرویوبھی کیے گئے  لیکن پھر

سلطان محمود

خبریں آئیں  کہ ستارے کچھ اور چال کو چلتا دیکھ رہے ہیں ۔ اس چال کو سامنے رکھتے ہوئے  حلقہ تیرہ اور اٹھارہ سے کامیاب دوارکان کو ہیلی کاپٹرکی سواری کے لیے چنا گیا ۔ اقتدار کا ہما ان دومیں سے کسی عدد کے سرپر بیٹھے گا ، پہلے سے دوڑ میں شامل کسی کو منتخب کیا جائے گا  یا پھر عثمان بزدار کی طرح کسی ایسے شخص کاانتخاب کرلیا جائے گا جس نے خود بھی کبھی وزیراعظم بننے کے بارے سوچا تک نہ ہو۔ کون ہوگا وزیراعظم اس کا فیصلہ تو عمران خان ہی  کریں گے کیونکہ وزیراعظم کا انتخاب ان کا ہی استحقاق ہے۔
سردارتنویرالیاس

عمران خان کا استحقاق ہے وہ چاہیں تو پنجاب کی طرح بڑے بڑے برج خود الٹ کر رکھ دیں۔ کسی بھی دھڑے کو خاطر میں نہ لائیں۔ سب امیدواروں کے نام پر لکیر پھیر دیں اورعثمان نزدار کی طرح کسی غیرمعروف  اور کمزورترین شخصیت کو اقتدار سے نوازدیں ۔ عمران خان کا ماضی تو یہی بتاتا ہے کہ وہ اگر کسی کو وزیراعظم بنانے پر متفق ہیں تو وہ صرف ان کی اپنی ذات ہے  اور جب ان کی باری آئی تھی تو انہوں نے خود کو فوری نامزد کرلیا تھا۔

خواجہ فاروق

آزاد کشمیر میں بھی زیادہ چانسز یہی ہیں کہ کسی غیر معروف اور بے ضررشخصیت کو سامنے لایاجائے  تاکہ کشمیر میں بھی وہی حکومتی ماڈل بنایاجائے جو پنجاب میں ہے، وہی ماڈل جو خیبرپختونخوا میں ہے۔ وہی ماڈل جو گلگت بلتستان میں ہے۔تاکہ تمام صوبے اور علاقے یکساں ترقی کریں سب ہی عمران خان کی طرف دیکھیں اورفیصلوں میں اپنی سوچ اور فیصلوں کو کم ہی موقع دیں۔

 

 


Sunday, June 6, 2021

I AM MEDIA

 


میں میڈیا ہوں



اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش۔۔

اس ناراضگی کی وجہ یہ ہے کہ  میں میڈیا ہوں۔ لوگوں کو خبر دینا میرامشن ہے۔ خبروں کا تجزیہ کرنا میراکام ہے لوگوں کو جھوٹ اور سچ کا فرق بتانا میری ڈیوٹی ہے۔ میں عوام کو اس ملک میں ہونے والےاچھے یا برے کاموں کی خبر دیتاہوں۔ انہیں ہیروزاور ولن کی اصلی پہچان بتاتاہوں ۔ بے آواز کی آواز بنتاہوں۔کمزورکاساتھ دیتاہوں ۔ظالم کا ہاتھ پکڑتاہوں۔ظلم کے سامنے دیوار بن جاتاہوں ۔ طاقتوروں کو بے نقاب کرتاہوں ۔ معاشرے کو اچھائی کی تبلیغ کرتاہوں۔ آگاہی دیتاہوں۔ رائے دیتاہوں کیونکہ میں میڈیاہوں ۔

مجھ سے کبھی کوئی خوش نہیں ہوتا۔ ہرکسی کو شکوہ رہتا ہے کیونکہ ہر کوئی اپنی مرضی کا سچ میرے منہ سے سننا چاہتاہے۔ ہرکوئی مختلف طریقوں سے مجھے دبانا چاہتا ہے ۔کبھی  سخت قوانین سے تو کبھی دھونس  سے کبھی دھاندلی سے اور کبھی پیسے اورلالچ سے ۔جب دھونس دھاندلی کام نہ کرے تو پیسا زبردست ہتھیار بن جاتا ہے مجھے دبانے کا۔ یہ پیسا اشتہاروں کی شکل میں بھی ہوسکتا ہے اور براہ راست میڈیا کےلیے کام کرنے والوں کو بھی ۔

حکمرانوں کو تو میں ہمیشہ ہی زہرلگتاہوں کیونکہ ان کی نااہلیوں ،کمزوریوں اورغلط پالیسیوں کا پردہ چاک کرتاہوں۔ اپوزیشن کی آنکھوں کا تارابنتاہوں۔ اپوزیشن مجھے اپنی آواز سمجھتی ہے۔ اپوزیشن مجھے اپنا ساتھی سمجھتی ہے۔ اپوزیشن مجھے ناگزیرسمجھتی ہے۔  لیکن یہی اپوزیشن جب حکومت بناتی ہے تو اس کی رائے میرے بارے میں رائے  یکسر بدل جاتی ہے پھر اس کو ٹاک شوزاچھے نہیں لگتے پھر وہ اخبارات نہ پڑھنے اور پروگرام نہ دیکھنے کے مشورے دیتے ہیں ۔ حکومت میں آتے ہی اس کو ٹی وی کا مائیک برالگنے لگتاہے۔ اس مائیک میں سے آنےوالی عوام کی آوازناگوارگزرتی ہے۔ کیونکہ میں میڈیاہوں۔

میرے اندر رنگ رنگ کے لوگ ہیں ۔ کچھ اچھے کچھ برے  کچھ بہت ہی اچھے اورکچھ بہت ہی برے ۔ کچھ طاقت کے لیے میڈیا میں آتے ہیں اور کچھ شہرت کےلیے ۔ کچھ پیسا بنانے آتے ہیں اور کچھ حقیقی طورپر معاشرے کی خدمت کےلیے آتے ہیں ۔ حامد میر بھی میڈیاہے۔ عاصمہ شیرازی بھی عزیزمیمن بھی میڈیا ہے اورحیات اللہ ، موسی خان خیل بھی میڈیاہے ۔ابصارعالم بھی میڈیا ہے۔ اسد طوربھی میڈیا ہے ۔مطیع اللہ جان اوراعزازسید بھی میڈیا ہے ۔ احمد نورانی  بھی میڈیا ہے  اور صابر شاکر بھی میڈیا ہے ۔ ارشد شریف بھی میڈیاہے ۔ عارف حمید بھٹی اور ارشاد بھٹی بھی میڈیا ہے ۔ شفایوسفزئی  بھی میڈیا ہے،معید پیرزادہ بھی تومیڈیا ہے اورسمیع ابراہیم بھی میڈیا ہے ۔  آپ ان کی رائے سے اختلاف کرسکتے ہیں ۔ دل کھول کر اختلاف کرسکتے ہیں ۔ ان کو حقائق سے جھٹلاسکتے ہیں ۔ منطق سے لڑسکتے ہیں ۔ اور برداشت سے  برداشت بھی تو کرسکتے ہیں ۔

میرے یہاں سب کچھ اچھا   نہیں ہے۔موقع کا فائدہ اٹھا کر کچھ غلط لوگ بھی یہاں گھس آئے ہیں وہ  اپنی ذات کےلیے، بلیک میلنگ کے لیے پیسابنانے اورطاقتوروں کو خوش کرنے کےلیے بھی مجھے استعمال کرتےہیں۔ایسے لوگوں کا احتساب ضروری ہے لیکن لڑائی جھگڑا،مارپیٹ اور تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ۔ میں اس ملک کے لیے ضروری ہوں، جمہوریت کےلیے ضروری ہوں،معاشرے کے لیے ضروری ہوں کیونکہ میں میڈیا ہوں۔۔اب حکومت میڈیا اتھارٹی کے نام پر ایک سخت قانون بناناچاہتی ہے   ایسا قانون میری خدمت نہیں ہے ۔ شاید پھر کوئی حکمران مجھے کنٹرول کرنے کی خواہش میں مبتلا ہے لیکن میں کبھی کسی طاقتورسے ۔کبھی کسی آمر سے کنٹرول ہوا ہوں اور نہ کسی جمہوری لیڈرسے کیونکہ میں میڈیا ہوں ۔

 


Wednesday, August 5, 2020

Kashmir Under siege


کیا فرق پڑتاہے ۔۔

جبارچودھری

سوچیں اگر میرے قائد اعظم اپنے چودہ نکات پیش کرنے سے پہلے یہ سوچ لیتے کہ  ایسے نکات پیش کرنےسے کیا فرق پڑتاہے ۔۔

سوچیں اگر میرے قائد اعظم ریڈکلف مشن سے پاکستان کی سرحدوں اور نقشے بارے تکرارکرنے اور ریڈکلف کی  گئی حد بندی کو تسلیم نہ کرنے کے اعلان سے پہلے سوچ لیتے کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے ۔۔۔

سوچیں اگر میرے قائد کانگریس سے آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہونے سے پہلے یہ سوچ لیتے کہ شامل ہوں نہ ہوں اس سے کیا فرق پڑتا ہے ۔۔۔؟

سوچیں اگر میرے قائد قرارداد لاہور کے جلسے میں جانے سے پہلے یہ سوچ لیتے کہ ایسے جلسوں سے  کیا فرق پڑتا ہے ۔۔۔؟

سوچیں اگر شیر بنگال مولوی فضل حق انیس سو چالیس میں قرارداد پاکستان پیش کرنے سے پہلے یہ سوچ لیتے کہ ایسی قرارداد پیش کرنے سے  کیا فرق پڑتاہے ۔۔؟

سوچیں اگر علامہ محمد اقبال ہندوستان کے مسلمانوں کو جگانے کے لیے کی گئی شاعری سے پہلے سوچ لیتے کہ اس  شاعری سے کیا فرق پڑتا ہے ۔۔؟

سوچیں اگر علامہ اقبال خطبہ الہ آباد دینے سے پہلے یہ سوچ لیتے کہ خطبہ دینے سے کیا فر ق پڑتا ہے ۔۔؟

سوچیں اگر مولانا محمد علی جوہر مسلمانوں کی آواز بننے والے اخبارات نکالنے سے پہلے یہ سوچ لیتے کہ ایسے اخبارات  نکالنے سے کیا فرق پڑتا ہے ۔۔؟

سوچیں اگر محترمہ فاطمہ جناح اپنے بھائی کے شانہ بشانہ جدوجہد سے پہلے یہ سوچ لیتیں اس سے کیا فرق پڑتاہے ۔۔؟

سوچیں اگر برصغیر کے مسلمان ، پاکستان کا مطلب کیا ۔۔لاالہ اللہ ۔۔کا نعرہ لگانے سے پہلے یہ سوچ لیتے کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے ۔۔؟

تحریک پاکستان کے قائدین نے یہ سب کرنے سے پہلے ایسا نہیں سوچا کہ کیا فرق پڑتا ہے کیونکہ انہیں یقین تھا کہ چودہ نکات سے فرق پڑتا ہے ۔۔قرارداد پاکستان سے فرق پڑتاہے ۔۔علامہ اقبال کی شاعری سے فرق پڑتاہے ، مولانا محمد علی جوہر کی صحافت سے فرق پڑتاہے ۔۔پاکستان کا مطلب کیا جیسے نعروں سے فرق پڑتا ہے ۔۔خطبہ الہ آباد سے فرق پڑتا ہے ۔۔ماونٹ بیٹن سے تقسیم کے فارمولے پر بحث سے فرق پڑتا ہے ۔۔تحریک پاکستان کے ہیروز نے یہ سب کیا ۔۔اس سے فرق پڑا اور آج ہم آزاد ہیں ۔۔ہم پاکستان میں ہیں ۔۔اگر فرق نہ پڑتا تو ہم آج بھی غلام ہوتے ۔۔ہندوستان میں ہوتے ۔۔

کشمیر کی آزادی کے لیے جو کچھ بھی کیا جارہاہے کہ اس سے فرق پڑتا ہے ۔۔سوچ جنم لیتی ہے ۔۔سوچ سے تحریک پیدا ہوتی ہے ۔۔تحریک ولولہ لاتی ہے ، تحریک سے جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔۔جذبہ ظلم کی دیواروں سے ٹکرانے کا حوصلہ دیتا ہے ۔۔غاصب کے سامنے کھڑے ہونے کی ہمت دیتا ہے۔۔جابر کے سامنے بولنے کی جرات دیتا ہے ۔۔

بھارت کے مقبوضہ کشمیر پر دوبارہ قبضے کو آج ایک سال مکمل ہوگیا ۔۔پانچ اگست دوہزار انیس کو بھارت نے اپنے آئین سے آرٹیکل تین سو ستر کا خاتمہ کردیا ۔۔یہ آرٹیکل مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتا تھا ۔۔غیرکشمیریوں کو کشمیری بننے سے روکتاتھا ۔۔بھارت نے اس کو ختم کرکے کشمیر کو اپنا حصہ بنالیا ۔۔بھارت کی طرف سے کشمیر کے محاصرے کو ایک سال بیت گیا ۔۔یہ سال ظلم کا سال ہے ۔۔یہ سال نہتے کشمیریوں پر بربریت کا سال تھا ۔۔


پاکستان کشمیریوں پر ہونے والے ظلم کو روکنے کے لیے سیاسی جنگ لڑرہاہے۔ سفارتی جدوجہد کررہا ہے ۔۔ایک سال مکمل ہونے پر پاکستان نے اپنا نیا سیاسی نقشہ جاری کیا، اس نقشے میں مقبوضہ کشمیر کو شامل کیاگیا ہے ۔۔کشمیر ہائی وے کا نام سری نگر ہائی وے رکھ دیا گیا ۔۔ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا اور آئی ایس پی آر کی طرف سے ۔۔چھوڑ دے میری وادی کے نام سے ایک ملی نغمہ جاری کیا گیا ۔۔

اعتراض کرنے والے کہتے ہیں کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے ۔۔۔

کیا نیا نقشہ جاری کرنے سے کشمیرپاکستان کا حصہ بن جائے گا۔۔؟  کیا نغمے واقعی بھارتی فوج فوری کشمیر چھوڑ دے گی ۔۔؟ ۔۔کیا ڈاک ٹکٹ سے کشمیر میں فوری پاکستان کا سکہ رائج ہوجائے گا۔۔؟ اور کیا سری نگر ہائی وے نام رکھنے سے ہم سیدھا بغیر ویزے کے سری نگر چلے جائیں گے۔۔؟ ۔۔

 جواب ہے ہاں ۔۔ان اقدمات سے بہت کچھ ممکن ہے ۔۔۔کیونکہ ۔۔ آزادی کی تحریکوں میں ، نعروں کی  اہمیت ہوتی ہے ، اشعار کی اہمیت ہوتی ہے، یادگاروں کی اہمیت ہوتی ہے اور نغموں کی اہمیت ہوتی ہے ۔۔

پاکستان کا مطلب کیا ۔۔لاالہ اللہ ۔۔تحریک پاکستان کا ایک نعرہ ہی تو تھا ۔۔ مینار پاکستان بھی تحریک  تحریک  آزادی کی ایک یاد گار ہی تو ہے ۔۔پاکستان کا قومی ترانہ بھی ایک نغمہ ہے جو ہمیں اتحاد کی یاددلاتا ہے، حب الوطنی کا درس دیتا ہے ۔۔ 

اس لیے آزادی کی تحریکوں کو ہر اقدام سے فرق پڑتا ہے چاہے وہ کسی سڑک کا نام بدلنا ہو، یادگاری  ٹکٹ ہو یا ملی نغمہ یہ سب کچھ کشمیر کی آزادی کی سیاسی جدوجہد کے ہتھیار ہیں  ۔۔

 


Thursday, October 17, 2019

New Steve Jobs


نیا اسٹیوجابز

وہ نوجوان ہے، اپنے کام میں بلا کا ماہرہے،ہونہار اس کے سامنے شاید چھوٹا لفظ ہے ،وہ اورسیز پاکستانی ہے ،بیرون ملک کامیابی کے جھنڈے گاڑرہاہے ، وہ اپنی ایجاد پاکستان لانا چاہتاہے لیکن  اس نئے پاکستان میں یہاں کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کے نعرے میڈیا پر تو مارے جاتے ہیں لیکن جب عملی کام کی باری آتی ہے تو پھر وہی سرخ فیتا، وہی مشکلات ، وہی سوالات  اور وہی موٹا کمیشن اور کک بیکس  راستے کی دیوار چین بن کر کھڑے دکھائی دیتے ہیں ۔۔
پاکستان سے اس قدر محبت کہ آپشن کے باوجود پاکستان کا پاسپورٹ ہی سینے سے لگائے بیٹھا ہے ، دوسرے ملک کا پا سپورٹ نہیں لیا، شہریت لے سکتا ہے لیکن انکاری ہے ۔۔بھارت میں اس کی ایجاد کی مانگ ہے لیکن بھارتی کہتے ہیں کہ کمپنی لانچ کرنے دہلی آو۔۔جب وہ بتاتا ہے کہ وہ پاکستانی ہے اور کمپنی بھی پاکستانی ہے اور اس کے پاس پاسپورٹ بھی پاکستانی ہے تو سب کچھ رول بیک ہوجاتا ہے ۔۔بھارتی اسے مشورے دیتے ہیں کہ دوسرے ملک کا پاسپورٹ لے لو تمہاری چاندی ہوجائے گی ۔۔لیکن وہ بضد ہے کہ کاروبار  اور پیسہ کمانے کےلیے پاکستانی شہریت نہیں چھوڑ سکتا ۔۔
وہ نئے پاکستان میں اپنی پراڈکٹ لانا چاہتا ہے، وہ چاہتا ہے کہ پاکستان الیکٹرانک کنزیومر ریسرچ کی جنت بن جائے ، ہم اپنی پراڈکٹ یہاں بنا کر ایکسپورٹ کرسکیں ، زر مبادلہ خرچ کرنےکے بجائے کماسکیں ۔ لیکن یہاں کوئی عبدلرزاق داود اس کا دوست نہیں ہے ، وہ انیل مسرت بھی نہیں ہے ۔۔وہ زلفی بخاری کا بھی دوست نہیں ہے  وہی زلفی بخاری جو سمندر پار پاکستانیوں کے وزیر ہیں ۔۔وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے لیکن سرمایہ کاری بورڈ میں اس کی جان پہچان نہیں ہے ۔۔وہ بل گیٹس کی کمپنی مائیکرو سافٹ میں کام کرکے اپنی صلاحیت کا لوحا منوا چکاہے ۔۔ہم صرف بل گیٹس کو ہی دیکھنا ، سننا اور اس کو ہی ماننا چاہتے ہیں ، ہم بل گیٹ جیسوں یا اس سے بھی قابل اپنے لوگوں کو پروموٹ کرنا چاہتے ہیں نہ ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ۔۔ہم  سوئی سے لیکر جہاز تک باہر سے خرید کر لانے میں آسانی محسوس کرتے ہیں ۔۔زر مبادلہ اسی امپورٹ پر خرچ مارتے ہیں ، پھر قرضے لیتے ہیں اور پھر انہی قرضوں کو اتارنے کےلیے دوبارہ قرضہ لے لیتےہیں اس طرح دائروں میں گھوم گھوم کر سمجھتے ہیں کروڑوں میل کا سفر طے کرچکے ہیں ۔۔ہمارے پاوں واقعی کروڑوں میل چل چکے ہیں لیکن سفر ایک میٹر بھی آگے نہیں بڑھتا کیوں کہ ہم نہ رسک لیتے ہیں اور نہ کسی نئے انسان کی حوصلہ افزائی کرتےہیں ۔۔ہم آزمائے ہووں کو دوبارہ اور سہہ بارہ آزماتے رہتے ہیں ۔۔
اس نوجوان کی کہانی بڑی دلچسپ ہے ، سبق آموز بھی اور کامیاب بھی ہے ۔۔مجھے سے اس نوجوان کا رابطہ سماجی ویب سائیٹ  ٹوئٹر کے ذریعے ہوا ۔۔میں اس کی باتوں میں وضاحت دیکھی ۔۔آئیڈیاز کی کلیریٹی  دیکھی ۔۔پاکستان سے محبت کا جذبہ دیکھا  اور ساتھ ہی ساتھ کچھ شکوے بھی دیکھے وہ شکوے جو اس نے پاکستان میں اپنی کمپنی لانچ کرنے کے راستے میں فیس کیے ۔۔میں نے اس کی کہانی لکھنے کا فیصلہ کیا کہ شاید کسی زلفی بخاری کو یہ کہانی سمجھ آجائے ۔۔
لاہور کے علاقے سمن آباد سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان کا دادا برٹش آرمی میں افسر تھا، تقسیم ہند کے بعد ان کے دادا میجر ایم یو خان پاکستان آرمی میں آگئے اور پاک آرمی سے ریٹائر ہوئے ۔۔
میجر ایم یو خان

اس کے والد ایک ڈاکٹر ہیں۔۔دادا کی خواہش تھی کہ اس کا پوتا آرمی میں چلاجائے لیکن والد اس کو ڈاکٹر بنانے پر تلے ہوئے تھے ۔۔دونوں کی خواہشوں کا بوجھ اپنی جگہ لیکن وہ کچھ اور سوچ کر بیٹھا تھا ۔۔ایک دن اس نے اپنے والد سے کہہ ہی دیا کہ ابا جی آپ چاہتے ہیں کہ میں ڈاکٹر بنوں ۔۔میں آپ کا حکم مان کر ایم بی بی ایس تو کرلوں گا لیکن شاید بہت ہی برا ڈاکٹر ثابت ہو گا ۔۔اگر میں  پڑھ کر بھی اپنے پیشے سے انصاف نہ کرسکا  تو بہت پچھتاوا رہے گا ۔۔والد کو سمجھ آگئی کہ ان کے بیٹے کا رجحان آئی ٹی اور ٹیکنالوجی میں ہے اس لیے انہوں نے اپنا فیصلہ بدل ڈالا ۔۔
پڑھائی کے ساتھ ہی صرف سولہ سال کی عمر میں اس نوجوان نے رات کے وقت کال سینٹر میں جونیئر ایگزیکٹو کی نوکری شروع کردی ۔۔اس نوکری میں انگریزوں کی کالیں اٹینڈ کرنا اس کا کام تھا ۔۔اس کام کے دوران اس نے اگریزی بولنا سیکھ لی ۔۔
پاکستان میں آئی ٹی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ دبئی چلا گیا، محلے دار، رشتے دار اور دوست سب نے طعنے کسے کہ دبئی جاکر کیا کروگے ، صرف پیسے برباد کرکے واپس آجاو گے لیکن اس نے کسی نہ سنی ۔۔ٹھان لی کہ اب کچھ کرکے ہی واپس لوٹے گا ۔۔دبئی میں کام کرتے کرتے  اس کو مائکروسافٹ کا ایک پراجیکٹ مل گیا ۔۔یہ وہ  وقت تھا جب نوکیا نے مائکروسافٹ کے ساتھ اشتراک کرکے ونڈو بیسڈ موبائل ہینڈ سیٹ بنانے شروع کیے تھے ۔۔یہ نوجوان دبئی میں بیٹھ کر مائکرو سافٹ کے لیے یہ موبائل فون بنانے میں مصروف تھا۔۔پھر وہ لمحہ آیا جس نے اس کی زندگی نئی ڈگر پر ڈال دی ۔۔
رات کا وقت تھا ، آفس سے واپسی پر یہ نوجوان اپنی ٹیم کے ساتھ ہوٹل میں کھانا کھا رہا  تھا  کہ ایک شخص نے بات چیت کے دوران پوچھ لیا کہ کیا کرتے ہو۔۔اس نے بتایا کہ وہ موبائل ٹیکنالوجی کا ماہر ہے اور یہ کام کرتا ہے ۔۔۔اس نے پوچھا کہ اس میں" تمہارا"  کیا ہے ۔۔یہ "تمہارا " کیا ہے  اس نوجوان کو جیسے لڑ ہی گیا ۔۔وہ سوچ میں پڑ گیا کہ واقعی اس میں "میرا" کیا ہے ۔میں تو کسی دوسرے کی کمپنی کے لیے کام کرتا ہوں ۔۔اس پراجیکٹ کے بعد کیا ہوگا ۔۔سوالوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا اور وہ نوجوان ۔۔۔یہی وہ لمحہ تھا جب سب کچھ بدلنے کا وقت تھا ۔۔۔اس نے پراکیٹ سے استعفی دے کر کچھ اپنا کرنے کی ٹھا ن لی ۔۔۔
اس نے اپنی کمپنی رجسٹرڈ کروائی اور خود سے موبائل ہینڈ سیٹ بنانا شروع کردیے ۔۔موبائل تیار ہوگئے تو ان کو بیچنے کا مرحلہ آیا ۔۔اس مرحلے میں اس کو شدید ناکامی ہوئی ۔۔جو کچھ کمایا تھا وہ اس موبائل کی مینوفکچرنگ میں لگا چکا تھا ۔۔ایک مرتبہ خیال آیا کہ واپس پاکستان چلاجائے پھر وہی رشتہ داروں اور محلے والوں کے طعنے کانوں میں گونجنے لگے ۔۔۔
یہ اس پر ایک مشکل وقت تھا کہ دبئی میں ایک بزنس کانفرنس میں ہوئی ۔۔اس نے اس کانفرنس میں چند منٹ مانگ لیے  تاکہ  وہ اپنا کام شرکا کو سمجھا سکے ۔۔اس کانفرنس میں اس نے بتایا کہ کس طرح اس کا موبائل آئی فون اور سامسنگ سے مختلف اور سستا ہے ۔۔وہ ۔۔"اینکرپٹڈ" ٹیکنالوجی پر کام کرچکا تھا ۔۔صارف کے ڈیٹا کی سکیورٹی اس موبائل کا خاصا تھا ۔یہ موبائل ملٹری استعمال کے لیے موزوں ترین  گیجٹ تھا ۔۔۔اس نے دنیا کے بزنس مینوں کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ۔۔اس کانفرنس میں شریک یہ جرمن شخص نے اس نوجوان کی بات سمجھ لی ۔۔
کانفرنس کے بعد اس نے اپنا وزٹنگ کارڈ اس نوجوان کو دیا اور کہا کہ وہ جرمنی آجائے اور اپنا کام وہاں آکر آگے بڑھا ئے ۔۔اس نوجوان نے کہا کہ میں اپنا سب کچھ لگاچکاہوں ۔۔بنائے ہوئے سارے موبائل اسٹور میں پڑے ہیں ۔۔اس شخص نے کہا کہ آپ میری کال کا انتظار کرنا ۔۔
وہ شخص واپس جرمنی چلا گیا ۔۔کچھ ہفتوں بعد اس شخص کی کال آگئی ۔۔اس نے کہا کہ آپ کے سارے موبائل جرمن ملٹری خرید لے گی آپ جرمنی آجائیں ۔۔نوجوان نے دبئی کو خدا حافظ کہا اور جرمنی میں جاکر کمنی لانچ کردی ۔۔ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ  میں اس کمپنی نے کما ل کام کیا ۔۔اس نے "سینسو" موبائل کے نام سے موبائل فون بنانا شروع کردیے ۔۔چند سالوں میں کامیابی اس کا پیچھا کرنے لگی ۔۔اس وقت وہ دس ممالک میں کمپنیاں کھول چکا ہے ۔۔اس نوجوان کا نام ہارون ایس خان ہے ۔۔ہارون یورپ میں درجنوں برانڈ ایوارڈ جیت چکاہے۔ ان کی کمپنی  ٹیکنالوجی کے کئی ایوارڈ اپنے نام کرچکی ہے ۔۔
ہارون خان 

ہارون نے دوہزار پندرہ سولہ میں پاکستان میں کمپنی بنانے کی کوشش کی ۔۔یہاں اس وقت "کیو" کا راج تھا ۔۔کیو موبائل انڈر انوائسنگ کرکے جو پیسا کماتا اس میں سرکاری اہلکاروں کو بڑا حصہ دیتا۔۔ ایسی صورتحال میں ہارون خان کو کسی نے اندر نہ گھسنے  دیا ۔۔۔
ہارون ایک بار پھر اس "سینسوموبائل کو پاکستان لانے کوشش کررہا ہے ۔۔ اس نے پاکستان میں موبائل مینوفیکرنگ کا لائسنس حاصل کیاہے  لیکن بہت سے مرحلے ابھی درپیش ہیں ، اس کو حکومت کی مدد درکار ہے ۔۔پاکستان میں حکومت بدلی ہے لیکن تبدیلی شاید ابھی دور ہے ۔۔میری دعا بھی ہے اور حکومت سے درخواست بھی کہ ہارون کو موقع دیں یہ نوجوان پاکستان میں موبائل ٹیکنالوجی میں انقلاب لاسکتا ہے ۔۔ہماری مہنگے فونوں سے جان چھڑا سکتا ہے ۔۔یورپ میں یہ موبائل آئی فون اور سامسنگ کا مقابلہ کررہاہے ۔۔پاکستان میں کام کرنا اس پاکستانی کا بھی حق ہے جس نے آج تک موقع ملنے کے باوجود پاکستانی پاسپورٹ  نہیں چھوڑا ۔۔
آپ ہارون کو اس کے ٹوئٹر ہنڈل ۔۔
کے ذریعے مل سکتے ہیں ۔۔۔






Friday, October 4, 2019

نتیجہ صفرہی کیوں۔۔۔؟



نتیجہ صفرہی کیوں۔۔۔؟

                                                                     تیرے وعدے پہ جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا

کہ خوشی سے مرنہ جاتے  اگراعتبار ہوتا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارتی وزیراعظم نریندر  مودی سے ملیں  یا پاکستان کے وزیر اعظم  عمران خان  صاحب سے ان کی ملاقات ہو۔۔بات چیت ہو یاعلیک سلیک ہو۔۔ ۔۔ کیمروں کے سامنے ڈونلڈ ٹرمپ  دونوں رہنما وں کی  ایک جیسی ہی تعریفیں کرتے ہیں۔۔عمران خان  سے ملیں تو فوری طورپر کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کردیتے ہیں  لیکن یونہی مودی کے پاس جاتے ہیں تو پکار اٹھتے ہیں   کہ دونوں ملک  خود ہی مسئلہ کشمیر حل کرلیں گے ۔۔پاکستان کو کہتے ہیں کہ میں تو ثالثی کےلیے تیار ہوں لیکن بھارت تیار نہیں ہے ۔۔حقیقت بھی یہی ہے کہ بھارت تیسرے فریق کی ثالثی کےلیے نہ پہلے کبھی راضی تھا نہ اب ہے  تو پھر ہم صرف ثالثی کی اس زبانی کلامی پیشکش پر اتنا خوش کیوں ہوجاتے ہیں ۔۔۔ٹرمپ کہتے رہیں کہ وہ ثالث ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کا 
نتیجہ ہے ۔۔صفر ۔۔


وزیراعظم عمران خان صاحب   اسی سال جولائی میں اپنے پہلے دورے پر امریکا گئے ، بائیس جولائی کو وائٹ ہاوس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی ۔۔ٹرمپ نے جھٹ سے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کردی ۔۔۔عمران خان  کو لگا وہ ورلڈ کپ جیت گئے۔۔۔اس ملاقات کے صرف بارہ  دن بعد ہی  بھارت نے کشمیر پر شب خون مار دیا یو ں  ٹرمپ کی پیشکش کا نتیجہ رہا ۔۔صفر ۔۔۔

ٹرمپ کہتے ہیں عمران خان ایک  عظیم لیڈر ہیں، وہ ان سے بہت متاثر ہیں وہ خطے کے مسائل حل کرسکتے ہیں  لیکن حقیقت یہ ہے کہ کشمیر میں  بھارت کی طرف سے لگائے گئے کرفیو کو دوماہ سے زیادہ وقت ہوگیا۔۔کشمیری آج بھی مشکل میں ہیں ۔۔محاصرے میں ہیں، ادویات کو ترس رہے ہیں۔۔روزی روٹی کمانے کے لالے ہیں۔۔۔۔ہماری  تمام تر کوششوں کا نتیجہ ہے ۔۔۔صفر۔۔

ٹرمپ کہتے ہیں عمران خان بہت اچھے انسان ہیں، سچے انسان ہیں ۔۔کھرے انسان ہیں ۔۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ کشمیر میں بچے اسکول جانے کو ترس رہے ہیں ، ان پر تعلیم کے دروازے بند ہیں اور نتیجہ ہے ۔۔صفر۔۔

وزیر اعظم عمران خان  کا کہنا ہے کہ امریکا طاقتور ترین ملک ہے اور ٹرمپ دنیا کے طاقتور ترین صدر ہیں جو مسئلہ حل کرواسکتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ کشمیر میں دوائیں ختم ہوچکی ہیں ۔۔لوگ علاج نہ ہونے پر موت کے منہ میں جارہےہیں ۔۔یوں اس  طاقت کا نتیجہ ہے صفر ۔۔۔

ہم نے واشنگٹن میں احتجاج کرلیا، نیویارک میں بھی  میلہ لوٹ لیا، ہیوسٹن میں ہزار وں لوگ نکل آئے ، چین، جاپان ،جرمنی اور روس میں احتجاج کرلیا لیکن آج بھی بھارتی فوج کی کشمیر میں درندگی جاری ہے، یوں عملی نتیجہ رہا ۔۔صفر۔۔۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں کشمیر کا مسئلہ ہم خود لےکر  کر گئے ۔۔بہت اچھا کیا۔۔اجلاس کے بعد وزیراعظم عمران خان  اور ان کے نائب کپتان  شاہ محمود قریشی نے اٹھا ون ممالک کی حمایت کا اعلان بھی کیا، عمران خان نے بھی ٹویٹ کرکے ان اٹھاون ممالک کا شکریہ اداکیا۔۔لیکن قرارداد پیش کرنے کے وقت نتیجہ رہا صفر۔۔۔

یہ نتیجہ کیوں صفر ہے اور کب تک یہ نتیجہ صفر ہی رہے گا ۔۔کیا اس صفر نتیجے میں وزیراعظم  کا کوئی قصور ہے ۔۔تو جواب ہے نہیں ۔۔اس میں کسی شخص  کا قصور نہیں  ہے بلکہ قصور ہے ان تجارتی مفادات کا جو امریکا کے بھارت سے جڑے ہوئے ہیں ۔۔اس صفر کی وجہ  کروڑو ں بھارتی ہیں جو امریکا میں مقیم ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کو اگلا الیکشن جیتنے کےلیے ان بھارتی ووٹوں کی ضرورت  ہے ۔۔۔
 مزید پڑھ لیں کہ یہ نتیجہ آخر صفر ہی کیوں رہتاہے یا صفر ہی رہے گا۔۔۔

امریکہ کی  تجارتی لسٹ میں بھارت تیرھویں نمبر پر ہے اور  پاکستان  کا نمبر ہے پچپن۔۔
امریکہ کی بھارت کو برامدات کا حجم 33ارب ڈالر  سالانہ ہے جبکہ پاکستان کو امریکی برآمدات  صرف 3ارب ڈالر  سالانہ ہیں ۔۔۔
بھارت  کی امریکا کو برآمدات  کا حجم چون ارب ڈالر سالانہ ہے جبکہ پاکستان امریکا کو صرف ساڑے تین ارب ڈالر  کی اشیاء برآمد کرتاہے  ۔۔۔

امریکا کی بھارت میں ڈائریکٹ انوسٹمنٹ کا حجم 44ارب ڈالر ہے جبکہ پاکستان میں یہ حجم صرف  پچاس کروڑ ڈالر ہے ۔۔۔
تو  یہ جو تینتیس اور تین کا فرق ہے ۔۔یہی وہ فرق ہے جو کوئی  نتیجہ پاکستان کے حق میں ہونے نہیں دیتا۔۔امریکا اور بھارت کے یہی وہ تجارتی مفادات ہیں جو نتیجہ صفر سے ایک ہونے نہیں دیتے۔۔۔

ہمیں ان  مفادات کی کھلی حقیقت کو سامنے رکھ کر آگے بڑھنا پڑے گا۔۔اپنے گھر میں صرف سیاسی حمایت اور سیاسی مفاد کے حصول کے لیے جھوٹے اور کھوکھلے نعروں کے بجائے  ۔۔پاکستان کے مفاد کے لیے فیصلے کرنا پڑیں گے ۔۔حقیقت کا سامنا تحمل اور سلیقے سے کرنا پڑے گا ۔۔دنیا کے ساتھ اپنے تجارتی مفادات کو بڑھانے پر کام کرنا پڑے گا ۔۔قوم کو یہ سب سچ سچ بتانا پڑے گا  کہ کس طرح یہ نتیجہ صفر سے ایک اور پھر پانچ اور دس میں تبدیل ہوسکے گا ۔۔پھر اصلی اور حقیقی تبدیلی آسکے گی۔۔۔



Saturday, May 13, 2017

KULBHUSHAN CASE A TEST FOR ICJ


KULBHUSHAN CASE A TEST FOR ICJ


Photo of  Indian naval officer Kulbhushan Jadhav who has been sentenced to death by a Pakistani court on charges of ‘espionage’.

The Kargil war was barely over. Tensions between India and Pakistan were already running high when on August 10th 1999 a Pakistan Navy aircraft on a routine training flight along Indian border near Run of Kutch was shot down. India had acted in violation of Pakistan's airspace and Pakistan had suffered not only the loss of aircraft but also of 16 lives.

On September 21st Pakistan took the matter to the International Court of Justice (ICJ), filing a petition under UN Charter and General Act of 1928. In its final verdict, the ICJ noted:

"...  the Islamic Republic of Pakistan (hereinafter called "Pakistan") filed in the Registry of the Court an application instituting proceedings against the Republic of India (hereinafter called "India") in respect of a dispute relating to the destruction, on 10 August 1999 of a Pakistani aircraft. In its Application, Pakistan founded the jurisdiction of the Court on Article 36, Paragraphs 1 and 2, of the Statute and the declarations whereby the two Parties have recognized the compulsory jurisdiction of the Court.

"Pursuant to Article 40, paragraph 2, of the Statute, the Application was forthwith communicated to the Indian Government by the Registrar; and, pursuant to Paragraph 3 of that Article, all States entitled to appear before the Court were notified of the Application."

Pakistan requested the Court to judge and declare as follows:
" that the acts of India (as stated above) constitute breaches of the various obligations under the Charter of the United Nations, customary international law and treaties specified in the body of this Application for which the Republic of India bears exclusive legal responsibility;

 "That India is under an obligation to make reparations to the Islamic Republic of Pakistan for the loss of the aircraft and as compensation to the heirs of those killed as a result of the breaches of the obligations committed by it under the Charter of the United Nations and relevant rules of customary international law and treaty provisions."

International Court of Justice named this case as AERIAL INCIDENT OF 10 AUGUST 1999 (PAKISTAN v. INDIA). From Pakistan side, the case was pleaded by Mr. Jamshed A. Hamid, Legal Adviser, Ministry of Foreign Affairs, Mr. Aziz A. Munshi, Attorney General for Pakistan and Minister of Law and Mr Pirzada as Adhoc judge. Public sittings were held from 3 to 6 April 2000, at which the Court heard oral arguments and replies of: For Pakistan: Mr. Hamid, H.E. Mr. Munshi, Sir Elihu Lauterpacht, Dr. Kemicha. For India: H.E. Mr. Menon, H.E. Mr. Sorabjee, Mr. Brownlie, Mr. Pellet, and Dr. Sreenivasa Rao.

India vigorously challenged the jurisdiction of the ICJ and pleaded to dismiss the case. In its reply India stated that:

"the General Act of 1928 is no longer in force and that, even if it was, it could not be effectively invoked as a basis for the Court's jurisdiction".

It argued that numerous provisions of the General Act, and in particular Articles 6, 7, 9 and 43 to 47 thereof, refer to organs of the League of Nations or to the Permanent Court of International Justice; that, in consequence of the demise of those institutions, the General Act had "lost its original efficacy"; that the United Nations General Assembly so found when in 1949 it adopted a new General Act; that "those parties to the old General Act which have not ratified the new act" cannot rely upon the old Act except "'in so far as it might still be operative', that is, in so far . . . as the amended provisions are not involved"; that Article 17 is among those amended in 1949 and that, as a result, Pakistan cannot invoke it.

To oppose General Act1928, India presented its foreign minister‘s statement declaring that:

"I have the honor to refer to the General Act of 26th September 1928 for the Pacific Settlement of International Disputes, which was accepted for British India by the then His Majesty's Secretary of State for India by a communication addressed to the Secretariat of the League of Nations dated 21st May 1931, and which was later revised on 15th February 1939. The Government of India never regarded themselves as bound by the General Act of 1928 since her Independence in 1947, whether by succession or otherwise. Accordingly, India has never been and is not a party to the General Act of 1928 ever since her Independence.

India also invoked Simla Agreement

India argued that the Simla Accord "is no more than an arrangement between India and Pakistan first to enter into negotiations in case of any difference, and following such negotiations, to refer the matter to any other method of settlement to the extent that there is any further and specific agreement between the parties"."), the two States declared themselves "resolved to settle their differences by peaceful means through bilateral negotiations or by any other peaceful means mutually agreed upon " India also referred to Lahore Declaration of 1998 wherein Prime Ministers Nawaz Sharif and Atal Behari Vajpai had agreed to resolving issues in bilateral talks and reiterated the Simla Accord.


On June 21st 2000 International Court of Justice announced its verdict in favor of India and declared that the court had no jurisdiction to hear this case. Verdict as on website of ICJ is as under:
As regards India and Pakistan, that obligation was restated more particularly in the Simla Accord of 2 July 1972, which provides that "the two countries are resolved to settle their differences by peaceful means through bilateral negotiations or by any other peaceful means mutually agreed upon between them". Moreover, the Lahore Declaration of 21 February 1999 reiterated "the determination of both countries to implementing the Simla Agreement".
Accordingly. the Court reminds the Parties of their obligation to settle their disputes by peaceful means, and in particular the dispute arising out of the aerial incident of 10 August 1999, in conformity with the obligations which they have undertaken (cf. Fisheries Jurisdiction (Spain v. Canada), Jurisdiction of' the Court, Judgment, 1. C. J. Reports 1998, p. 456, para. 56). 56. For these reasons, By fourteen votes to two, that it has no jurisdiction to entertain the Application filed by the Islamic Republic of Pakistan on 21 September 1999. IN FAVOUR : President Guillaume ; Vice-President Shi ; Judges Oda, Bedjaoui, Ranjeva, Herczegh, Fleischhauer, Koroma, Vereshchetin, Higgins, ParraAranguren, Kooijmans, Buergenthal; Judgc ad hoc Reddy; AGAINST: Judge Al-Khasawneh; Judge ad hoc Pirzada

17 years later, India who opposed Pakistan’s case by invoking bilateralism under Simla Accord and Lahore Declaration has knocked at the door of same court to seek provisional measures in Kulbhushan Sudhir Jadhav's case. Jadhav is an Indian naval officer, caught red handed from Pakistan’s Baluchistan province. Pakistan has tried Mr. Jhadav and a military court has handed down death sentence.

The International Court of Justice has fixed the first hearing on Monday 15 May 2017 in HAGUE. The court will hear the oral observations on the said date from both sides on the Indian request to grant a stay order against hanging of Mr. Jhadav. India has also prayed for a declaration of "egregious violations of the Vienna Convention on Consular Relations”.

According to several senior jurists it’s time for Pakistan to give India a taste of its own medicine of Simla Accord and Lahore Declaration which call for both countries to settle disputes bilaterally. For ages India has sought refuge behind these agreements to deny multilateral talks in case of Indian-held Kashmir and other outstanding issues. The jurist are of the view that India will lose this case. Others believe that this is going to be a test case for the International Court of Justice which disposed of Pakistan's case in 2000 accepting lack of jurisdiction. From Pakistan, Attorney General Mr. Ashtar Aosaaf will plead the case. Most independent analysts says that the Indian government needs a face saving device to placate its people and to be able to argue that it can protect and rescue its undercover agents in Pakistan and other hostile countries.

The hearing is around the corner. Pakistan appears determined to challenge the ICJ jurisdiction. The government appears confident that it can prevail on the same grounds as India did 17 years ago.

Writer Jabbar Chaudhary is senior Journalist in Pakistan and often write on Pak India relations